فکر و نظر

راجستھان : وسندھرا راجے سے راجپوتوں کی ناراضگی کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑ سکتا ہے

خصوصی رپورٹ : وسندھرا راجے کی وجہ سے راجپوت راجستھان انتخابات میں بی جے پی کا انتخابی کھیل اسی طرح بگاڑ سکتے ہیں، جیسے 2013 میں جاٹوں کے اشوک گہلوت کے خلاف ناراضگی نے کانگریس کو نقصان پہنچایا تھا۔

ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیراعلیٰ وسندھرا راجے (فوٹو : پی ٹی آئی)

ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیراعلیٰ وسندھرا راجے (فوٹو : پی ٹی آئی)

جےپور: آئندہ اسمبلی انتخابات میں راجپوت کرنی سینا سمیت مختلف راجپوت تنظیموں نے بی جے پی اور وزیراعلیٰ وسندھرا راجے کی تشویش بڑھا دی ہے۔  حال ہی میں راجپوت کرنی سیناکے سرپرست اعلیٰ لوکیندر سنگھ کلوی نے جھالراپاٹن سے کانگریس امیدوار مانویندر سنگھ کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔جھالراپاٹن وزیراعلیٰ وسندھرا راجے کا انتخابی حلقہ  ہے۔  راجے کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے بی جے پی چھوڑ‌کر کانگریس میں شامل ہونے والے راجے ان کے خلاف کھڑے ہیں، جس نے اس کو راجستھان اسمبلی انتخابات کے سب سے دلچسپ مقابلے میں تبدیل کر دیا ہے۔

راجستھان کے وزیراعلیٰ کے طور پر راجے کی  دوسری مدت راجپوتوں کے ساتھ کئی جدو جہد سے بھرا رہا ہے، جس کا میدان جنگ اہم طور پر مغربی راجستھان رہا، جہاں آج بھی راجپوتوں کا دبدبہ ہے۔  اس لئے اس کمیونٹی کے لئے جھالرپاٹن میں راجپوتانہ وقار داؤ  پر ہے۔خالص تعداد کے لحاظ سے، راجپوت ریاست کی آبادی کا 8سے10 فیصد ہیں،لیکن اپنے علاقے میں وہ دوسرے کمیونٹی کی رائے دہندگی پر اچھاخاصہ اثر ڈالتے ہیں۔

مانویندر نے دی وائر کو بتایا،’ایک براہ راست غصہ ہے اور اس کی جڑ 2014 کے انتخابات میں ہے اور چونکہ اس کے بعد کئی واقعات ہوئے ہیں، جنہوں نے اس غصے کو ساتھ ہی ساتھ ا س کے دائرے کو بڑھانے کا کام کیا ہے۔  اس لئے جس جذبہ کا جنم مغربی راجستھان میں ہوا، اس کی گونج ریاست بھر میں سنا ئی دے  رہی ہے۔  ‘اصل میں راجپوت تنظیم اس حد تک آ گئے ہیں کہ انہوں نے اس کو راجپوت بنام غیر راجپوت کی لڑائی قرار دیا ہے۔

کرنی سیناکے رہنما لوکیندر سنگھ کلوی نے کہا، ‘یقینی طور پر ایسا ہے۔  1998 میں جئے بھان سنگھ پویا نے گوالیار میں صرف اسی مدعے  پر مادھوراؤ سندھیا کو چیلنج دیا تھا اور سندھیا کسی طرح سے وہ انتخاب جیت پائے تھے۔ اس کے بعد سے سندھیا فیملی نے گوالیار سے انتخاب نہیں لڑا ہے۔جھالراپاٹن میں بھی، مدعا اصلی راجپوت بنام غیر-راجپوت کا ہے اور راجے کو اس بار وہاں دھول چاٹنی پڑے‌گی۔  ‘

راجے کے خلاف راجپوتوں کی ناراضگی کا بیج 2014 کے پارلیامانی انتخابات میں بویا گیا تھا، جب مانویندر کے والد، جسونت سنگھ-سابق مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی رہنما-کو ان کے آبائی ضلع  باڑمیر سے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔اس وقت ٹکٹ جاٹ رہنما سونارام چودھری کو ملا، جو کانگریس سے بی جے پی میں آئے تھے۔  جسونت سنگھ نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا اور انتخاب ہار گئے۔

دوانکاؤنٹر

دو سال بعدجون، 2016 میں بدنام زمانہ مجرم چتور سنگھ کے جیسلمیر میں مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر نے راجپوتوں کو حکومت کے خلاف سڑک پر لا دیا-وہ اس معاملے کی سی بی آئی تفتیش کی مانگ‌کر رہے تھے۔ مظاہرہ کی قیادت کرنے والوں میں جیسلمیر سے بی جے پی کے ایم ایل اے چھوٹو سنگھ بھی شامل تھے۔لیکن، وہ انکاؤنٹر جس نے اصل میں اس کمیونٹی کو راجے کے خلاف کھڑا کر دیا، ایک سال بعد ہونا تھا۔

جون،2017 کو پولیس کے ذریعے مارا گیا گینگیسٹر آنند پال سنگھ ایک راجپوت نہیں تھا۔  سنگھ کی کمیونٹی، راون راجپوت، ثقافتی طور پر راجپوتوں سے ملتی جلتی ہے، لیکن تاریخی طور پر ان کو نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔نند پال سنگھ کی موت کے خلاف کئی دنوں تک چلنے والے مظاہرےکی قیادت کرنی سیناجیسی راجپوت تنظیموں  کے ذریعے کی گئی۔  لیکن اس مسئلے نے اپوزیشن  کانگریس اور بی جے پی کے باغی ایم ایل اے گھنشیام تیواڑی جیسے ان تمام لوگوں کو ایک ساتھ لانے کا کام کیا، جن کے دل میں راجے کے لیے غصہ تھا۔

اس مدعے  پر راجپوتوں کی صف بندی-سڑکوں پر ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا میں-کتنی بڑی تھی اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ مدھیہ پردیش کے سینئر کانگریسی رہنما دگوجئے سنگھ نے اس معاملے میں راجے کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور اس معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی مداخلت کی مانگ کی۔جس وقت تک راجے، کمیونٹی کے ذریعے کی جا رہی سی بی آئی تفتیش کی مانگ پر تیار ہوئیں، تب تک یہ امکان مضبوط نظریے میں بدل چکا تھا کہ اسمبلی انتخابات میں ان کو کمیونٹی کے غصے کا سامنا کرنا پڑے‌گا۔

راجستھان کی وزیراعلیٰ وسندھرا راجے کو جھالراپاٹن سیٹ سے کانگریس کی طرف سے بی جے پی رہنما جسونت سنگھ کے بیٹے مانویندر سنگھ اسمبلی انتخابات میں چیلنج دیں‌گے۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

راجستھان کی وزیراعلیٰ وسندھرا راجے کو جھالراپاٹن سیٹ سے کانگریس کی طرف سے بی جے پی رہنما جسونت سنگھ کے بیٹے مانویندر سنگھ اسمبلی انتخابات میں چیلنج دیں‌گے۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

دوسری بے عزتی

آنند پال کی موت سے ایک سال پہلے ہوئے ایک اور واقعہ پہلے ہی راجے کو راجپوتوں کے ساتھ جدو جہد کے راستے پر لے آیا تھا۔ستمبر،2016 میں جئے پور ڈیولپمنٹ  اتھارٹی نے جئے پور کے سابق شاہی فیملی کی ملکیت والے گرینڈ راج محل پلیس ہوٹل کے پھاٹک کو سیل‌کر دیا۔اس واقعہ سے راجستھان کے سیاسی گلیاروں میں کئی لوگوں کی بھنویں  تن گئیں، خاص طور پر اس لئے کہ ہوٹل کی ملکیت رکھنے والی فیملی کی ممبر راجکماری دیا کماری اس وقت بی جے پی کی ایم ایل اے تھیں۔

فیملی نے جئے پورڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی تھی اور اس واقعہ نے تنازعے کی شکل لے لی۔  ایک عجیب واقعہ میں، جئے پور کی سابق راج ماتا پدمنی دیوی نے کرنی سیناسمیت کئی راجپوت گروپوں کے ساتھ ایک عوامی مارچ کی قیادت کی۔اب اسمبلی انتخابات میں راجکماری دیا کو ٹکٹ نہ دینے کو اس کے انجام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ خود دیا نے یہ وضاحت کی ہے کہ وہ انتخاب نہیں لڑنا چاہتی تھیں۔

گجیندر سنگھ شیکھاوت

گزشتہ سال فروری میں لوک سبھا اور اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں پارٹی کو ملی شکست کے بعد ریاستی بی جے پی صدر اشوک پرنامی کے استعفیٰ کے ساتھ کمیونٹی اور راجے کے درمیان لڑائی کا ایک اور مسئلہ نکل آیا۔پرنامی کے قائم مقام کے طور پر جن ناموں پر بات ہو رہی تھی، ان میں جودھپور کے رکن پارلیامان گجیندر سنگھ شیکھاوت کا دعویٰ سب سے مضبوط تھا۔  پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پارٹی صدر امت شاہ کی حمایت تھی۔

لیکن آخرکار یہ عہدہ مدن لال سینی کے پاس، جو نسبتاً انجان چہرے تھے۔  کہا گیا کہ یہ راجے کے کہنے پر ہوا ہے۔  رپورٹوں میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ نے شیکھاوت کی امیدواری کی مخالفت کی تھی۔  اس نے راجپوت کمیونٹی کو بی جے پی سے اور دور لےکر جانے کا کام کیا۔کلوی نے کہا، ‘امت شاہ نےبے حد صاف طور پر کہا تھا کہ وہ حکومت کے کسی ایسے جوان ممبر کو ریاستی صدر بنانا چاہتے ہیں، جو سرحدی ضلعوں میں کام کر رہا ہو۔  اس اہلیت کو صرف شیکھاوت پوری کرتے تھے۔  لیکن راجے نے اس کی مخالفت کی۔  یہ بات ہر کسی کو معلوم ہے۔  ‘

حالانکہ،، کمیونٹی میں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کو لگتا ہے کہ راجپوت اب راجے یا بی جے پی کے خلاف نہیں ہیں۔راجپوت رہنما اور راجے کابینہ کے ایک اہم ممبر رہنما گجیندر سنگھ کھمسر کا کہنا ہیں،’بدقسمتی  سے ایک کے ایک بعد ایسے ذاتی واقعات مسلسل طریقے سے ہوئے، جن سے راجے کا راجپوت مخالف ہونے کا نظریہ بنا۔  یہ باڑمیر میں جسونت سنگھ جی والے معاملے سے شروع ہوا۔  پارٹی جاٹ امیدوار کو اس لئے کھڑا کرنا چاہتی تھی، کیونکہ حد بندی نے جغرافیائی حالت کو بدل دیا تھا۔  ‘

ان کا کہنا ہے کہ اب وہ نظریہ پوری طرح سے بدل گیا ہے۔کھمسر کہتے ہیں،’کیوں؟  کیونکہ بی جے پی نے انتخاب میں 28 راجپوت امیدواروں کو اتارا ہے، جبکہ کانگریس نے صرف 13 راجپوتوں کو ٹکٹ دیا ہے۔  صورتحال  بدل گئی ہے۔  اب کمیونٹی کے نظریہ میں پور تبدیلی آئی ہے اور ان کا یہ اعتماد ہے کہ بی جے پی اصل میں راجپوتوں کی پارٹی ہے۔  مانویندر سنگھ کو کانگریس کے ذریعے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور وہ بری طرح سے ہاریں‌گے۔  ‘

راجستھان میں انتخابات پر نگاہ رکھنے والے حالانکہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا راجے کی وجہ سے راجپوت بی جے پی کا انتخابی کھیل اسی طرح سے بگاڑ سکتے ہیں جیسے جاٹوں نے 2013 میں اشوک گہلوت کے خلاف غصے کی وجہ سے کانگریس کو نقصان پہنچایا تھا۔