خبریں

میزورم انتخابات: 10 سال بعد زورام تھانگا کی اقتدار میں واپسی، نارتھ ایسٹ کی تمام ریاستوں سے کانگریس باہر

میزورم کی 40 رکنی سیٹ میں سے میزو نیشنل فرنٹ نے 26 سیٹوں پر جیت درج کی۔ زورام تھانگا کو ایم این ایف، ایم ایل اے جماعت کا رہنما منتخب کیا گیا۔

زورام تھانگا کو ایم این ایف ایم ایل اے جماعت کا رہنما منتخب کیا گیا/ (فوٹو بشکریہ : اے این آئی)

زورام تھانگا کو ایم این ایف ایم ایل اے جماعت کا رہنما منتخب کیا گیا/ (فوٹو بشکریہ : اے این آئی)

نئی دہلی: میزورم اسمبلی انتخابات  میں کانگریس سے موجودہ وزیراعلیٰ لال تھانہاولا دونوں سیٹوں سے ہار گئے ہیں۔ لال تھانہاولا پچھلے 10 سال سے میزورم کے وزیراعلیٰ تھے۔ میزورم اسمبلی کی 40 سیٹوں میں 26 پر میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) نے جیت درج کر لی ہے۔ ایم این ایف کی طرف سے یہ ابتک کی سب سے بڑی جیت ہے۔ اس سے پہلے پارٹی نے اتنی سیٹیں نہیں جیتی تھیں۔ وہیں کانگریس کو  پانچ سیٹیں ملی ہیں۔ ایک سیٹ پر بی جے پی اور آٹھ سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی ہے۔ زورام پیپلس موومنٹ (زیڈپی ایم) نے پانچ سیٹیں جیتیں۔

کانگریس کو ان انتخابات میں  ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ میزورم انتخابات کے نتیجہ آنے کے ساتھ ہی نارتھ ایسٹ  کی ساتوں ریاستوں میں کانگریس اقتدار سے باہر ہو گئی ہے۔ ایم این ایف نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ میزورم میں زورام تھانگا کو اتفاق رائے سے ایم این ایف ایم ایل اے جماعت کا رہنما منتخب کیا گیا۔ پارٹی  نے کہا کہ جورام تھانگا حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کے لئے شام چھے بجے میزورم کے گورنر کے راج شیکھرن سے ملیں‌گے۔ اس بیچ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق، میزورم کے وزیراعلیٰ لال تھانہاولا نے گورنر کے راج شیکھرن کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا ہے۔

لال تھانہاولا کو سرچیپ سیٹ سے زورم پیپل موومنٹ (انڈی پینڈنٹ) پارٹی کے لال دہوما نے 410 ووٹ سے ہرایا۔ وہیں چامفائی ساؤتھ سیٹ سے میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) کے ٹی جے لال ننگتھوانگا نے لال تھانہاولا کو 1049 ووٹ سے ہرایا۔ ریاست میں میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) حکومت بناتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کانگریس نے 2013 کے اسمبلی انتخابات میں 34 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی جبکہ ایم این ایف پانچ سیٹ پر قبضہ کر پائی تھی۔ ایم این ایف سے 2008 میں ریاست کا اقتدار چھن گیا تھا۔

میزو نیشنل فرنٹ نے 2008 میں اقتدار پر اپنی گرفت گنوا دی تھی۔ عیسائی اکثریتی اس ریاست میں بی جے پی نے اپنا کھاتا کھول دیا ہے اور پارٹی امیدوار اور سابق وزیر بدھ ھن چکمہ نے چکمہ اکثریتی جنوبی میزورم کی لاونگت لائی ضلع‎ کے تئی چوانگ سیٹ سے جیت درج کی۔ ایم این ایف کے ایف للنون موائی نے ریاست کے وزیر زراعت کے ایس تھنگا کو آئیزول جنوب-3 سیٹ سے 2037 ووٹ کے فرق سے ہرایا۔ اسمبلی کے سابق صدر ایم این ایف کے للچاملیانا نے محض ایک خاتون ایم ایل اے اور معاون وزیر ونل لاوپئی چاونگ تھو کو ہرنگتورجو سیٹ سے ہرایا۔

میزورم کی راجدھانی آئیزول میں میزو نیشنل فرنٹ کے ذریعے اسمبلی انتخابات میں جیت درج کرنے کے بعد پارٹی کارکن/ (فوٹو : پی ٹی آئی)

میزورم کی راجدھانی آئیزول میں میزو نیشنل فرنٹ کے ذریعے اسمبلی انتخابات میں جیت درج کرنے کے بعد پارٹی کارکن/ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ویسے دلچسپ بات ہے کہ 1987 میں میزورم کے الگ ریاست بننے سے لےکر ابتک کوئی بھی پارٹی لگاتار تیسری بار اقتدار میں نہیں آئی ہے۔ 28 نومبر کو شمال مشرقی ریاست میزورم کی تمام 40 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی تھی اور تقریباً 75 فیصدی رائےدہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ ریاستی الیکشن کمیشن سے ملی جانکاری کے مطابق، ریاست میں 770395 رائےدہندگان ہیں جن میں 394897 خاتون رائےدہندگان بھی شامل ہیں۔ انتخابی مقابلے میں 209 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 15 خواتین ہیں۔

کانگریس اور ایم این ایف 1987 سے ہی میزورم کے اقتدار پر قابض ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس انتخاب میں کانگریس کو ہٹاکر ریاست میں اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ غور طلب ہے کہ نارتھ ایسٹ  کی دوسری   تمام ریاستوں میں بی جے پی یا بی جے پی کے تعاون سے بنی حکومتیں ہیں۔ گزشتہ  ایک دہائی سے سیاسی گمنامی جھیل رہے باغی سے سیاستداں بنے زورام تھانگا نے زور دار طریقے سے واپسی کی ہے۔ ان کی قیادت میں میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) نے ریاست کے انتخابات میں زبردست  جیت حاصل کی ہے۔

زورام تھانگا دو بار میزورم کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔ وہ ایک سابق انڈر گراؤنڈ  رہنما تھے اور ایم این ایف کے رہنما لالڈینگا کے قریبی مددگار تھے۔ زورام تھانگا (74) اس وقت انڈر گراؤنڈ  تنظیم رہی ایم این ایف میں شامل ہوئے تھے جب وہ امفال کے ڈی ایم کالج سے آرٹس  میں گریجویٹ کی ڈگری کا انتظار کر رہے تھے۔ لالڈینگا کی قیادت والی ایم این ایف نے ایک مارچ، 1966 کو ہندوستانی یونین سے آزادی ملنے کا اعلان کیا تھا۔ زورام تھانگا کو جب یہ پتا چلا کہ وہ انگریزی آنرس میں گریجویٹ ہو گئے ہیں تو اس وقت وہ ایم این ایف کے اپنے کامریڈ کے ساتھ جنگلوں میں تھے۔

ان کو 1969 میں ایم این ایف ‘ صدر ‘ لالڈینگا کا  سکریٹری بنایا گیا تھا اور وہ ایم این ایف پارٹی کے نائب صدر بھی رہے۔ ایم این ایف کے پرچم تلے آزاد امیدواروں کے ایک گروپ نے پہلی بار 1987 میں 40 رکنی میزورم اسمبلی کے لئے انتخاب لڑے جن میں سے زورام تھانگا سمیت 24 امیدوار منتخب ہوئے۔ بعد میں کچھ ایم ایل اے کے ذریعے دلبدل کے بعد 1988 میں میزورم میں صدر حکومت لگا دی گئی۔

میزورم کی راجدھانی آئیزول واقع میزو نیشنل فرنٹ کے صدر دفتر پر اسمبلی انتخاب میں جیت درج کرنے کے بعد پارٹی کارکن۔/(فوٹو : پی ٹی آئی)

میزورم کی راجدھانی آئیزول واقع میزو نیشنل فرنٹ کے صدر دفتر پر اسمبلی انتخاب میں جیت درج کرنے کے بعد پارٹی کارکن۔/(فوٹو : پی ٹی آئی)

وہ 1989 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں چمفائی سیٹ سے پھر سے منتخب ہوئے۔ لالڈینگا کی پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے 7 جولائی، 1990 کو موت ہونے کے بعد زورام تھانگا کو ایم این ایف کا صدر بنایا گیا اور وہ آج تک اس عہدے پر بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے 1993 میں چمفائی سیٹ سے ریاستی اسمبلی انتخاب لڑے تھے اور وہ تیسری بار جیتے اور ریاستی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما بنے۔ زورام تھانگا کی قیادت والی ایم این ایف نے 1998 میں ریاستی اسمبلی انتخاب میں جیت درج کی اور 21 ایم ایل اے کے ساتھ حکومت بنائی۔

وہ پہلی بار وزیراعلیٰ بنے اور اپنی مدت کو پورا کیا۔ انہوں نے 2003 کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں اقتدار برقرار رکھا اور وہ وزیراعلیٰ بنے رہے۔ زورام تھانگا نے چمفائی سیٹ اور کولاسب سیٹوں سے جیت درج کی۔ حالانکہ انہوں نے کولاسب سیٹ بعد میں چھوڑ دی تھی۔ ان کی پارٹی کو 2008 کے انتخابات میں سخت ہار جھیلنی پڑی تھی اور یہ پارٹی صرف تین سیٹوں تک ہی سمٹ‌کر رہ گئی تھی۔ زورام تھانگا دونوں چمفائی شمالی اور چمفائی جنوبی سیٹوں پر ہار گئے تھے۔

میزورم پیپلس کانفرنس (ایم پی سی) اور زورام نیشنلسٹ پارٹی (زیڈاین پی) دونوں نے دو-دو سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ حزب مخالف کانگریس نے 32 سیٹوں پر جیت درج کی تھی اور لال تھانہاولا ریاست کے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ پچھلے اسمبلی انتخابات میں بھی زورام تھانگا مشرقی تئی پئی سیٹ پر ہار گئے تھے اور کانگریس نے 34 سیٹوں پر جیت درج کرکے اقتدار کو برقرار رکھا تھا۔ اس بار انہوں نے آئیزول ایسٹ-I سیٹ سے انتخاب لڑا اور انہوں نے جیت درج کی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)