فکر و نظر

تلنگانہ: ٹی آر ایس کی شاندار واپسی کیسے ممکن ہوئی؟

کے سی آر کی شاندار واپسی کی ایک وجہ مسلمانوں کا ٹی آر ایس کے حق میں ووٹنگ کرنا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے ٹی آر ایس کے حق میں ووٹنگ کی ہے۔

Telangana-ElectionResults-1200x600

علامتی تصویر،تلنگانہ کے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما/دی وائر گرافکس

ستمبر کی 6 تاریخ کو تلنگانہ اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کے بعد ریاست کے وزیر اعلیٰ اور تلنگانہ راشٹریہ سمیتی(ٹی آر ایس) کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ(کے سی آر ) نے دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کو 100 سیٹوں پر کامیابی ملے گی۔

گزشتہ 7 دسمبر کو ہوئے انتخابات جس کے نتائج 11 دسمبر کو آئے،اس  میں کے سی آر اور ان کی پارٹی کو اس طرح کی کامیابی تو نہیں ملی جس طرح کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا البتہ ان کی جیت کو یقینی طور شاندار واپسی  کہا جا سکتا ہے۔119 نشستوں والی تلنگانہ اسمبلی میں ٹی آر ایس کو 88 سیٹوں پر کامیابی ملی جبکہ کانگریس کو صرف 19،تیلگو دیشم پارٹی(ٹی ڈی پی) کو 2،بی جے پی کو 1اور آزاد امیدواروں کو محض 2 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔

حیدرآباد ایم پی اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی 7 سیٹوں پر جیت درج کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ گزشتہ انتخابات کے مقابلے اس بار بی جے پی کو 4 سیٹوں، کانگریس کو 2 اور ٹی ڈی پی کو 13 سیٹوں پر ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ٹی آر ایس کی واپسی کو اس لئے بھی شاندار کہا جا رہا ہے کیونکہ انتخابات سے قبل ووٹرس میں حکومت مخالف رجحان دیکھنے کو ملے تھے۔ ساتھ ہی زیادہ تر اگزٹ پولز میں ٹی آر ایس کو اتنی بڑی کامیابی ملنے کی امید نہیں کی گئی تھی۔

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ٹی آر ایس کی شاندار واپسی کی وجہ کیا ہے؟اس شاندار واپسی کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اپوزیشن کے پاس کے سی آر کے قد کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ٹی آر ایس کی کی کامیابی کی دو بڑی وجہ تھی۔ پہلا، برسوں کے جدوجہد کے بعد علیحدہ تلنگانہ ریاست بننےکی وجہ سے Telangana Wave اور دوسرا کے سی آر کی کرشمائی لیڈرشپ۔ اس مرتبہ Telangana Wave جیسی کوئی چیز تو نہیں تھی البتہ حکومت مخالف رجحانات دیکھے جانے کے باوجود کے سی آر کا کرشمہ اپنی جگہ قائم تھا۔

حکومت سے ناراضگی کے باوجود لوگوں کا کہنا تھا کہ کے سی آر ایک دوراندیش رہنما ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ریاست کی ترقی کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس اپوزیشن خیمے میں کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا کہ جو کے سی آر کو چیلنج کر سکے۔ تلنگانہ کانگریس کے سربراہ اتم کمار ریڈی پاپولر نہیں ہیں۔ ریونت ریڈی جوکانگریس میں عوامی  لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے وہ پارٹی میں  بہت نئے ہیں اور اس بار اپنی سیٹ بھی ہار گئے۔ایک اور لیڈر جو کہ کے سی آر کو چیلنج کر سکتے تھے ان کا نام پروفیسر ایم کوڈنڈا رام ہے،لیکن انہوں نے انتخابات میں ہی حصہ نہیں لیا۔ مزید برآں ان کی پارٹی تلنگانہ جن سمیتی (ٹی جے ایس) کی گرانڈ الائنس کے اندر کو کوئی قابل ذکر حیثیت نہیں تھی۔

ٹی آر ایس کی شاندار واپسی کی ایک وجہ حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ویلفیئر اسکیم بھی ہے۔ جہاں ایک طرف عوام کے ایک طبقہ(خاص طور پر طلبہ اور نوجوانوں) میں نوکریاں نہیں ملنے اور ڈبل بیڈروم دیے جانے کا وعدہ پورا نہیں کیے جانے کے خلاف غصہ تھا، وہیں کسانوں کو مدد، شادی مبارک، پینے کے پانی کی فراہمی اور آب پاشی کے لئے بہتر انتظامات کو لے کر عوام میں اطمینان کی کیفیت نظر آئی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

فوٹو : پی ٹی آئی

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ کے سی آر اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن عوام میں ایک طرح کی رائے بنی کہ ان کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر حکومت بدل جاتی ہے تو کہیں نئی حکومت کے سی آر کے شروع کئے گئے کام اور وہ کام جو ادھورے رہ گئے ہیں اس کو شاید پورا نہیں کرتی۔


یہ بھی پڑھیں :تلنگانہ انتخابات: مسلمانوں کا رخ کس طرف ہے؟


کے سی آر کی شاندار واپسی کی ایک وجہ مسلمانوں کا ٹی آر ایس کے حق میں ووٹنگ کرنا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے ٹی آر ایس کے حق میں ووٹنگ کی ہے۔ اس کو اس بات سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کانگریس کا مسلم چہرہ محمد علی شبیر ٹی آر ایس کے امیدوار سے ہار گئے۔

غور طلب ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی  کل آبادی کی 12.7فیصد ہے اور آئندہ انتخابات میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ریاست کے مسلمان کل 119 سیٹوں میں 30 سیٹوں پر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔مسلم ووٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابات کے دوران بی جے پی کو چھوڑ کر تمام تر سیاسی پارٹیاں اپنے حق میں ووٹ ڈلوانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھیں ۔

ایک اور اہم وجہ ٹی آر ایس کی شاندار واپسی کی بتائی جا رہی ہے وہ یہ ریاست میں میں بھلے ہی Telangana Wave نہ دیکھ نے کو ملا ہو مگر آخر کے دنوں میں یہ Undercurrent دیکھنے کو ملا کہ اگر ٹی ڈی پی – کانگریس والی حکومت بنتی ہے تو ایک بار پھر سے تلنگانہ پر آندھرا پردیش کے لیڈروں کا قبضہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں کانگریس گزشتہ انتخابات کے 21 سیٹوں کی بہ نسبت اس بار 19 سیٹوں پر کامیاب رہی، وہیں ٹی ڈی پی کو15 کی جگہ صرف 2 سیٹ ملے۔

ساتھ ہی یہ امر بھی غور طلب ہے کہ باوجود اس کے کہ ایک طرح سے ٹی آر ایس کے حق میں ہوا تھی، کانگریس کے ووٹنگ شئر میں3.2فیصد کا اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ٹی ڈی پی کا ووٹ شئر14.7سے گھٹ کر 3.5فیصد ہو گیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ انتخابات ٹی آر ایس کے حق میں ہونے کے بجائے  ٹی ڈ ی پی مخالف تھا۔ کیونکہ ستمبر میں اسمبلی کی تحلیل کے وقت ٹی آر ایس کے 90 ایم ایل اے تھے جبکہ موجودہ انتخابات میں وہ 86 سیٹوں پر ہی جیت درج کر پائے۔

  • بہت عمدہ تجزیہ ہے. حیدرآبادی قارئین کی طرف سے شکریہ. تلنگانہ کے مسلم طبقے کی اکثریت کا خیال ہے کہ تلگودیشم چونکہ بنیادی طور پر آندھرائی جماعت ہے جس نے ماضی میں تلنگانہ کی تہذیب و ثقافت کے فروغ یا تحفظ کے لیے کچھ کرنے کے بجائے ہمیشہ اسے نظرانداز کیا لہٰذا اس جماعت کو تلنگانہ کی سیاست میں آنے کے بجائے آندھرا تک محدود رہنا چاہیے