خبریں

مودی حکومت نے مانا، نوٹ بندی کے دوران 4 لوگوں کی ہوئی تھی موت

نوٹ بندی کے دوران نوٹ بدلنے کے لیے بینکوں کی لائن میں لگے لوگوں کی موت کی جانکاری صرف اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے دی ہے۔ بینک نے بتایا کہ اس دوران ایک گاہک اور بینک کے 3ملازموں  کی موت ہوئی تھی۔

فوٹو: رائٹرس

فوٹو: رائٹرس

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے کہا کہ نوٹ بندی کے دوران نوٹ بدلنے کے لیے بینکوں کی لائن میں لگے لوگوں کی موت کی جانکاری صرف اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی ) نے مہیا کرائی ہے اور اس میں بینک کی لائن میں ایک گاہک اور بینک کے 3 ملازموں کی موت ہوئی۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ نوٹ بندی کے دوران نوٹ بدلنے کے لیے لائن میں کھڑے ہونے سے،صدمے سے اور کام کے دباؤ سے آدمیوں اور بینک کے اہلکاروں کی موت اور گھر والوں کو دیے گئے معاوضے کےبارے میں ایس بی آئی کو چھوڑ کر سرکاری شعبہ کے کسی دوسرے بینک نے کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔

جیٹلی نے بتایا کہ ایس بی آئی نے نوٹ بندی کے دوران 3 اہلکاروں اور ایک گاہک کی موت کی جانکاری دی ہے۔ بینک نے مرنے والوں کے گھر والوں کو معاوضے کے طور پر 44.06 لاکھ روپے دیے۔ اس میں سے 3 لاکھ روپے مرنے والے گاہک کے گھر والوں کو دیے گئے۔سی پی آئی ایم کے ای کریم نے 500 روپے اور 1 ہزار کے پرانے نوٹ واپس لینے اور ختم کرنے اور نئے نوٹ جاری کرنے پر ریزرو بینک کے ذریعے خرچ کی گئی رقم اور نوٹ بندی کے دوران بینکوں میں نوٹ بدلنے والوں کی لائن میں لگے لوگوں کی موت کا بیورہ مانگا تھا۔

راجیہ سبھا میں ارون جیٹلی کے ذریعے نوٹ بندی پر دیا گیا جواب/فوٹو: راجیہ سبھا

راجیہ سبھا میں ارون جیٹلی کے ذریعے نوٹ بندی پر دیا گیا جواب/فوٹو: راجیہ سبھا

اس کے جواب میں ارون جیٹلی نے بتایا کہ ریزرو بینک نے نوٹ بندی کے بعد نئے نوٹوں کی چھپائی پر ہوئے خرچ کا لیکھا جوکھا اپنی رپورٹ میں الگ سے نہیں دکھایا ہے۔ نوٹ بندی سے پہلے 16-2015 میں نوٹوں کی چھپائی پر 34.21ارب روپے خرچ ہوئے تھے جبکہ 17-2916 میں یہ رقم 79.65ارب روپے اور 18-2017 میں 49.42ارب روپے تھی۔

انھوں نے نوٹ بندی سے صنعت اور روزگار پر پڑے اثر کا کوئی تجزیہ کرانے کے سوال پر کہا کہ حکومت نے اس بارے میں کوئی تجزیہ نہیں کرایا ہے۔ غور طلب ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر2016 کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھاجس کے تحت ان دنوں چل رہے  500 اور 1000 روپے کے نوٹ فوری اثر سے چلن کے باہر ہو گئے تھے۔

مودی حکومت کےاس فیصلے کے بعد ملک بھر میں پرانے نوٹوں کو بینکوں میں جمع کرانے کی افرا تفری  مچ گئی تھی۔ کئی مہینوں تک ملک بھر میں لگے اے ٹی ایم کے باہر پیسوں کے لئے لمبی-لمبی قطاریں  لگتی تھیں۔ اس کے علاوہ بند ہو چکے نوٹوں کو بینکوں میں جمع کرنے کے لئے لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)