خبریں

سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر معاملہ: سی بی آئی کورٹ نے سبھی 22 ملزموں کو بری کیا

سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر معاملے میں اسپیشل سی بی آئی جج نے اپنے حکم میں کہا کہ سبھی گواہ اور ثبوت سازش اور قتل کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

سہراب الدین شیخ اور کوثر بی

سہراب الدین شیخ اور کوثر بی

نئی دہلی: سہراب الدین کیس میں سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ نے سبھی 22 ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ کورٹ کا کہنا ہے کہ ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ملزمین کو معاملے سے رہا کیا جاتا ہے۔ کورٹ نے گواہوں کے بیان سے پلٹنے پر یہ بھی کہا کہ اگر کوئی بیان نہ دے تو اس میں پولیس کی غلطی نہیں ہے۔ سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر معاملے میں اسپیشل سی بی آئی جج نے اپنے حکم میں کہا کہ سبھی گواہ اور ثبوت سازش اور قتل کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

غور طلب ہے کہ سال 2005 کے اس معاملے میں 22 لوگ مقدمے کا سامنا کر رہے تھے، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار ہیں۔ اس معاملےپر خاص نظر رہی کیونکہ بی جے پی صدر امت شاہ ملزموں میں شامل تھے۔واضح ہو  کہ امت شاہ، گلاب چند کٹاریا، دنیش ایم این، پانڈین اور ونجارہ ان معاملوں میں ملزم تھے اور ان کو 2014 سے 2017 کے بیچ میں ٹرائل کورٹ کے ذریعے بری کیا جا چکا ہے۔

کورٹ نے یہ بھی کہا کہ معاملے سے جڑے حالات سے متعلق ثبوت بھی کافی نہیں ہیں۔سی بی آئی کورٹ کے مطابق،’ تلسی رام پرجاپتی کو ایک سازش کے تحت مارا گیا،یہ الزام بھی صحیح نہیں ہے۔ ‘سی بی آئی کورٹ کےجج نے کہا ،’ سرکاری مشینری اور پراسیکیوشن نے کافی کوشش کی اور 210 گواہوں کو سامنے لائے لیکن اس سے کوئی اطمینان بخش ثبوت نہیں مل پایا اور کئی گواہ اپنے بیان سے پلٹ گئے۔ اس میں پراسیکیوشن کی کوئی غلطی نہیں ہے اگر گواہ نہیں بولتے ہیں۔’غور طلب ہے کہ مقدمے کے دوران پراسیکیوشن کے تقریباً 92 گواہ مکر گئے۔

اس معاملے میں الزام ہے کہ نومبر 2005 میں گجرات اے ٹی ایس نے سہراب الدین شیخ اور اس کی بیوی کوثر بی کو حیدر آباد سے اس وقت گرفتارکیا تھا جب وہ سانگلی جا رہے تھے۔  سہراب الدین کے ساتھ اس کا معاون تلسی پرجاپتی بھی تھا۔الزام کے مطابق، سہراب الدین کو گاندھی نگر کے نزدیک مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا۔  اس کے بعد اس کی بیوی لاپتہ ہو گئی تھی اور ایسا مانا گیا کہ اس کو بھی مار دیا گیا ہے۔

الزام تھا کہ گینگسٹر کے معاون اور انکاؤنٹر کے چشم دید تلسی پرجاپتی کو پولیس نے دسمبر 2006 میں گجرات کے بناسکانٹھا ضلع‎ میں چپری گاؤں کے پاس مار دیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ  عدالت نے 2013 میں پرجاپتی کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملے کو سہراب الدین کے معاملے کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)