حقوق انسانی

سال 2018 کشمیر کے لئے اس دہائی کا سب سے خونی سال کیوں ثابت ہوا ؟

سال 2018 کشمیر میں اس دہائی کا سب سے خونی اور تشدد آمیز سال ثابت ہوا ہے، جس میں کم سے250 ملیٹنٹ، 90 سکیورٹی اہلکار اور 50 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے۔

Killing_2008_2018

2017 میں کشمیر میں220ملیٹنٹس،75 سکیورٹی اہلکاروں اور50 کے قریب عام شہریوں کی ہلاکت سے یہ بات صاف ہو گئی تھی کہ2018 بھی ہلاکتوں کے اعتبار سے کشمیر میں خونی سال ثابت ہوگا۔ یہ تجزیے صحیح ثابت ہوئے اور رخصت ہوچکاسال 2018 کشمیر میں اس دہائی کا سب سے خونی اور تشدد آمیز سال ثابت ہوا ہے، جس میں کم سے250 ملیٹنٹ، 90 سکیورٹی اہلکار اور 50 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے۔اکثر شہری ہلاکتیں سکیورٹی دستوں کی فائرنگ سے ہوئیں اور ریاست جموں وکشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے تاہم ہند وپاک کے مابین تعلقات تقریباً منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔

2016 میں نوجوان حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی کوکرناگ میں ایک جھڑپ میں ہوئی ہلاکت کے بعد ریاست بالخصوص کشمیر میں جدید ملیٹنسی نے نیا موڑ لیا ۔ 4 ماہ تک چلی اس شورش میں 100 سے زائد نوجوان فورسز کی فائرنگ سے جان بحق ہوئے۔ہزاروں لوگ پیلٹ گن کے شکار ہو گئے اور درجنوں عمر بھر کے لئے بینائی سے جزوی یا پھر پوری طرح محروم ہو گئے۔برہان کی ہلاکت نے کشمیر میں ملیٹنسی کو نئی ہوا دی اور بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مقامی نوجوان ملیٹنٹ صفوں میں شامل ہو گئے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس برس بھی تقر یباً ایک سو مقامی نوجوان ملیٹنسی میں شامل ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق،انٹرنیشنل لاء کے ماہر اور معروف سیاسی تجزیہ کار پروفیسر شیخ شوکت حسین نے دی وائر کو بتایا کہ ہندوستان کشمیر کو ایک چھوٹی آبادی مان کر طاقت کے زور پر  قابوپا نے کی پالیسی اپنا رہا ہے اور وہ اس کو متنازعہ  مسئلہ ماننے سے بھی انکار کر رہا ہے، جو ملیٹنسی میں اس حد تک اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ پروفیسر شوکت کے مطابق آج کی ملیٹنسی 1990سے مختلف ہے کیونکہ اس وقت کے ملیٹنٹ اس کے نتائج سے باخبر تھے اور لوگوں میں خوف و ہراس تھا، مگر آج کے ملیٹنٹ اور عوام دونوں نڈر ہیں جنہیں گولی کا کوئی ڈر نہیں۔یہی رجحان ملیٹنسی میں بدلاؤکی بڑی وجہ ہے۔

2 دسمبر2018 کووزارت داخلہ کی طرف سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق وادی میں 2018 میں ملیٹنسی سے جڑے واقعات میں گزشتہ دو برسوں160کے مقابلے میں دوگنا اضافہ ہوا اور تقریباً 590 ایسے واقعات پیش آئے جن میں تقریباً250ملیٹنٹ اور 90 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ 50 شہری بھی جان بحق ہوئے۔ البتہ چند غیر سرکاری تنظیموں نے شہری ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی۔

2017 میں وادی میں شہری ہلاکتوں میں ایک سو66 فیصد اضافہ درج کیا گیا تھا حالانکہ مرکزی وزارت داخلہ نے ریاست میں 2017 میں سکیورٹی اور امن و قانون بنائے رکھنے سے متعلق نظام کو نافذ کرنے کے لئے 704 کروڑ روپے بھی منظور کئے تھے تاہم ان سب کے باوجود بھی ریاست کے سکیورٹی منظرنامے میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں 2016 میں ملیٹنسی سے جڑے322 واقعات،2017 میں329 جبکہ 2018 میں587 ایسے واقعات پیش آئے اور اس طرح سال2018 اس دہائی کا سب سے تشدد آمیز برس ثابت ہوا۔

Suicide_Army_JKCSS

ایک سینئر پولیس افسر نے وائر کو بتایا کہ ریاست میں 1990 میں شروع ہوئی ملیٹنسی کے دور میں اب تک سال2001 سب سے زیادہ خونی ثابت ہوا تھا جس میں تقریباً2020 ملیٹنٹ اور 536 فوجی اہلکار ہلاک اور 4522 ملیٹنسی سے جڑے واقعات میں919 شہری جان بحق ہو ئے تھے۔ البتہ شہری ہلاکتوں کے اعتبار سے سال1996 سب سے خونی ثابت ہوا تھا جس میں تقریباً1336 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ افسر نے بتایا کہ 2018 میں نوید جٹ، منان وانی اور سبزار بٹ جیسے ٹاپ ملیٹنٹ کمانڈروں کی ہلاکت نے ملیٹنٹ گروپوں کی کمر توڈ دی ہے اور وہ اب بستیوں میں آنے سے کتراتے ہیں جو حالیہ جھڑپوں سے صاف ظاہر ہے جن میں ملیٹنٹ زیر زمین کمین گاہوں میں مارے گئے۔

ڈاکیومنٹری فوٹو گرافر شرافت نے وائر کو بتایا کہ زمینی سطح پرحالات مختلف ہیں اور پولیس کے دعوے کمزور ہیں کیونکہ 250 سے زائد ملیٹنٹ مارنے کے دعووں کے باوجود بھی حالات مخدوش ہی ہو رہے ہیں جو اس سال تقریبا ً100کے قریب پڑھے لکھے نوجوانوں کے ملیٹنٹ صفوں میں شامل ہونے سے صاف ظاہر ہے۔شرافت کے مطابق جان و مال کے نقصان سے لوگوں میں کافی غم و غصہ ہے اور وہ خود کو الگ تھلک تصور کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی پہلی تفصیلی رپورٹ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے اس برس پہلی دفعہ ریاست میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق اپنی رپورٹ بھی شائع کی۔49 صفات پرمشتمل اس رپورٹ میں جموں وکشمیر میں اے ایف ایس پی اے کے سائے تلے انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے حفاظتی دستوں کو ملی کھلی چھوٹ کو ایک اہم وجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست میں چاہے ہزاروں شہریوں کی بے جا ہلاکت یا پھر کنن پوشہ پورہ جیسے گینگ ریپ کے واقعات ہوں ، ریاست میں 28 برس سے اے ایف ایس پی اے کے قیام سے اب تک ایک بھی سکیورٹی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق برہان وانی کی ہلاکت سے ا ب تک ریاست میں ہزاروں افراد پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگا کر اْنہیں جیلوں میں بند کیا گیا ۔

اس کے علاوہ اظہار رائےپر  قدغن کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں 2016 میں مقامی روزنامہ کشمیر ریڈرکی اشاعت پر پابندی سمیت انٹرنیٹ پر بار بار لگنے والی پابندیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ایک مقامی صحافی ثاقب جنہیں اس برس حفاظتی دستوں کے زد و کوب کا سامنا کرنا پڑا ،انہوں نے وائر کو بتایا کہ زمینی حالات میڈیا میں نہ آئیں، اس لیے اظہار رائے پر قدغن اکثر لگتی ہیں، پھر چاہے وہ ڈیڑھ سالہ حبا پیلٹ مارنے کا معاملہ ہو یا صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا ہو، ایسی صورتحال میں حالات مخدوش ہوتے ہیں۔

Kashmir_Internet_JKCCS

 کمیشن نے انصاف کی عدم فراہمی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے حفاظتی دستوں کو ملی کھلی چھوٹ کو دو بڑی وجوہات قرار دیتے ہوئے کشمیر میں انسانی حقو ق کی پامالیوں کے واقعات کی تحقیقات کر کے ان پر فوری روک لگانے اور سات دہائیوں سے جنسی،ذہنی،مالی اور جسمانی تشدد کے شکار لاکھوں افراد کو انصاف کرنے اور متاثرین کی بازآبادکاری کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو پاک کے مابین دہائیوں سے چلے آرہے اس تنازعے نے لاکھوں افراد سے ان کے بنیادی انسانی حقوق چھینے ہیں جس کا حل صرف اور صرف کشمیریوں کی شمولیت سے ہندو پاک کے مابین با معنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔کمیشن نے ہندوستان کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرنے کی صلاح دی۔

کیا کشمیریوں کے لئے حق خودارادیت ممکن ہے؟

جدید دور کے سب سے پرانے متنازعہ مسئلہ کشمیر پر ابھی تک ہند وپاک کے مابین 1947,1965 اور 1999 میں تین جنگیں لڑی گئی ہیں جبکہ دونوں ممالک میں بٹے کشمیر کے دونوں160اطراف کی سرحدوں اور سیاچن گلیشر پر بھی ہندو پاک کی افواج ڈیرہ جمائے ہو ئی ہیں۔کشمیر کا 43 فیصد حصہ ہندوستان  اور 37 فیصد حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے جبکہ باقی ماندہ 20 فیصد چین کے زیر قبضہ ہے۔ ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت 7 لاکھ سے زائد حفاظتی اہلکار تعینات ہیں اور یہ ریاست دنیا میں حفاظتی دستوں کی سب سے بڑی آماجگاہ بن گئی ہے ۔

1987 میں اسمبلی انتخابات میں ہوئی مبینہ دھاندلیاں اس متنازعہ خطے میں ملیٹنسی کی ایک بڑی وجہ بن گئی، جس میں ابھی تک ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہندوستان  کا الزام ہے کہ اسلامی دہشت گرد تنظیمیں کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لئے مسلح آرائی کر رہی ہیں اور پاکستان اْنہیں نہ صرف پناہ دے رہا ہے بلکہ اْنہیں تربیت اور جنگی سازوسامان بھی فراہم کر رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ کشمیری مجاہدین ہندوستان  سے آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں اور پاکستان اْنہیں صرف اخلاقی اور سفارتی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ ادھر امریکہ افغانستان سے کنارہ کشی کر رہا ہے اور اس کا سیدھا اثر جموں و کشمیر پر 1990 کی طرح پڑ سکتا ہے۔

 شیخ شوکت کے مطابق ، افغانستان کے حالات سے آنے والے برسوں میں کشمیر میں حالات مزید ابتر ہوں گے کیونکہ کشمیر میں ملیٹنسی سوویت یونین کی افغانستان میں شکست اور پنجاب کے حالات سے شروع ہوئی تھی۔ افغانستان میں پھر وہی صورتحال ابھر رہی ہے جس کا سیدھا اثر کشمیر پر ہوگا۔اس لئے ہند وپاک کو منجمد تعلقات کو بحال کر کے مسئلے کا دیرپا اور قابل قبول حل ڈھونڈھنا ہوگا۔ایک طرف ہندوستان کشمیر کو اپنا ‘اٹو ٹ انگ’ قرار دے رہا ہے، دوسری طرف پاکستان اسے اپنی شہہ رگ مان رہا ہے۔ یہ دونوں ممالک نیوکلیائی طاقت رکھتے ہیں۔ ایٹمی طاقتوں کے شہ رگ اور اٹوٹ انگ کے دعووں کے بیچ میں کشمیریوں کو حقِ خودارادیت حاصل ہوگا۔ یہ ایک جواب طلب سوال ہے۔

بگڑتی سیاسی صورتحال

2015 میں جموں میں قومی اور ریاستی پرچموں کے سایے تلے جب بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان طے پائے گئے ایجنڈہ آف الائنس پر مفتی محمد سعید نے وزیراعظم نریندر مودی کو گلے لگنے کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ کے طور پرحلف لیا ، اسی وقت سے اس بات پر تجزیے شروع ہو گئے تھے کہ ہند نواز جماعت بی جے پی اور ریاست کی ریجنل پارٹی پی ڈی پی کا یہ مشترکہ ایجنڈہ محض کاغذی گھوڑا تو نہیں کیونکہ اس میں وادی اور کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اعتماد سازی قائم کرنا، پاکستان کے ساتھ رشتے بہتر کرنا اور حریت سمیت تمام شراکت داروں کے ساتھ بات چیت بھی شامل تھی۔

محبوبہ مفتی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

محبوبہ مفتی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

انتخابات میں پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تاہم حکومت بنانے کے لئے پارٹی نے اسی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا جس کو دور رکھنے کے لئے مفتی محمد سعید نے انتخابی ریلیوں کے دوران ووٹروں سے اپیل کی تھیں۔ تین ماہ تک چلی بات چیت کے بعد مفتی محمد سعید نے بالآخر بی جے پی کے ساتھ یہ کہہ کر اتحاد کیا تھا کہ وہ ریاستی عوام کے منڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور ریاست میں دیرپا ترقی اور امن و امان کے لئے دو الگ اور متضاد نظریات رکھنے والی جماعتوں کا ملنا ضروری ہے۔یہ سرکار11 ماہ تک یعنی مفتی محمد سعید کے انتقال تک قائم رہی اور یہ اٹکلیں بھی لگائی گئیں کہ نئی پی ڈی پی صدر اور مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی بی جے پی کے ساتھ شاید دبارہ اتحاد نہ کرے۔ مگر محبوبہ مفتی نے اس وقت تمام اٹکلیں خارج کر دیں جب انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مرحوم والد کے فیصلے کو غلط ثابت نہیں کرنا چاہتی اور یہ فیصلہ ان کے لئے پتھر کی لکیر ہے۔

دونوں پارٹیوں نے پھر حکومت بنائی اور محبوبہ مفتی نے ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کے طور پرحلف لیا تاہم چند ماہ بعد ہی انہیں اپنے سیاسی کیریئر کے مشکل ترین دور کا اس وقت سامنا ہوا جب جولائی 2016 میں برہان وانی کو ہلاک کیا گیااور پوری وادی میں شدید عوامی احتجاج ہوئے۔عوامی غم و غصے پر قابو پانے اور امن قانون کو بنائے رکھنے کی کوششوں میں محبوبہ مفتی کی سرکار بالکل بے بس نظر آئی اور سرکار کی قیادت میں فورسز کی فائرنگ اور شلنگ میں110 سے زائد نوجوان جان بحق ہوئے، ہزاروں نوجوانوں کو پیلٹ لگے اور درجنوں اپنی بینائی سے محروم ہوئے جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی املاک کو بھی نقصان پہنچا اور پوری وادی میں معمولات چار ماہ تک ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ محبوبہ مفتی کی قیادت والی سرکار میں یہ تشدد کی سب سے بڑی مثال تھی۔چار ماہ کے احتجاج کے بعد اگر چہ حالات دھیرے دھیرے معمول پر آنے لگے تاہم اعلیٰ تعلیم یافتہ مقامی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملیٹنسی کی راہیں اختیار کر گئی۔

پروفیسر شیخ شوکت کے مطابق کشمیر کے سیاستدانوں کو ایک نظام کے تحت مراعات کے طور پرکورپشن کا اختیار دیا گیا ہے، اس لئے وہ تشدد کو جائز ٹھراتے ہیں اور ایک نظام کے تحت اپوزیشن میں رہتے وقت اس کی مذمت کرتے ہیں۔ پروفیسر کے مطابق نوجوان عوامی تحریک کو بے سود مان کر اب پھر سے تشدد کی راہ اختیار کررہے ہیں۔

پی ڈی پی اور بی جے پی کا مخلوط اتحاد اس وقت کمزور پڑا جب کٹھوعہ میں سات سالہ بکروال لڑکی کےریپ  اور قتل کے معاملے میں سی بی آئی نے مقامی ہندو لڑکوں کو مجرم قرار دیا جس کے چند دنوں بعد ہندو ایکتا منچ کے تحت ملزموں کو رہا کئے جانے کی ریلیوں میں بی جے پی کے دو لیڈروں اور ریاستی سرکار میں وزراء چودھری لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے شرکت کی۔ شدید سیاسی و سماجی تنقید کا شکار بنی پی ڈی پی نے اپنی اتحادی بی جے پی سے ان وزراء کو وزارتی کونسل سے ہٹانے پر مجبور کیا۔ کئی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے بی جے پی کو جموں میں اپنی ساخت کمزور دکھائی دینے لگی اور 2018 کے ماہ رمضان میں سینئر صحافی شجاعت بخاری کے قتل اور رمضان سیز فائر کی ناکامی کو بہانہ بنا کر جون2018 میں پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لے لی اور اس طرح یہ اتحادقوس وقزح کی مانند قلیل الحیات ثابت ہوا۔

گورنر ستیہ پال ملک۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

گورنر ستیہ پال ملک۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

سرکار گرنے کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ ہواتاہم گورنر راج کے دوران حالات میں متوقع بہتری کے بجائے سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید ابتر ہو گئی۔ گورنر راج کے دوران ریاست میں مقامی پارٹیوں کی رائے کو نظر انداز کر کے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات بھی کرائے گئے تاہم پْرآشوب حالات کی وجہ سے ہزاروں حلقوں میں امیدوار کھڑے نہیں ہوئے اور کئی حلقوں میں جموں160میں مقیم کشمیری پنڈتوں کو امیدواروں کے طور پر پیش کیا گیا۔ الیکشن  کمیشن نے غالباً پہلی دفعہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی نہیں کیا۔ حالانکہ انتخابات پر امن ہی رہے۔

بارہ مولہ میں ایک نو منتخبہ 24 سالہ نوجوان سرپنچ عامرنے وائر کو بتایا ، میں نے انتخابات کے نتائج کے بیس دن بعد ہی دوستوں کو سرپنچ بننے کے خبر دی کیونکہ اس بار حالات کافی برعکس تھے اور میں جان ہتھیلی پر رکھ کر چل رہا تھا، تاہم عامر کے مطابق اب انہیں کوئی ڈر نہیں کیونکہ وہ زمینی سطح پر ڈیولپمنٹ چاہتے ہیں۔ عامر کے مطابق پڑھے لکھے نوجوانوں کی شمولیت سے ہی مخدوش سیاسی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

 ریاست کی سیاسی صورتحال اس وقت مزید مخدوش ہوئی جب گذشتہ مہینے پی ڈی پی نے این سی اور کانگریس کی حمایت سے سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کیا مگر گورنر ستیہ پال ملک نے عجلت میں ریاستی اسمبلی کو تحلیل کیا جس کی یہ کہہ کر سخت نقطہ چینی کی گئی کہ بی جے پی دوبارہ سرکار نہیں بنا سکی اس لئے گورنر نے غیر آئینی طور مقامی پارٹیوں سے حکومت سازی کا حق چھین لیا۔ دوسری طرف گورنر نے اپنے فیصلے کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ اْنہیں ریاست میں سیاسی سودا بازی کی شکایات مل رہی تھیں اور اگر وہ اسمبلی کو تحلیل نہیں کرتے تو اْنہیں مرکز کی طرف سے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون کو حمایت دینے پر مجبور کیا جاتا۔

ادھر پی ڈی پی کے کور ممبر عمران رضا انصاری اور دیگر لیڈروں نے پی ڈی پی پر خاندانی راج کا الزام لگاتے ہوئے پارٹی سے بغاوت کی اور سجاد غنی لون کی پارٹی پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی ، حالانکہ عمران انصاری اور سجاد لون خود سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی تک عمران رضا انصاری، عابد انصاری،راجہ اعجازاور بشارت بخاری جیسے لیڈران پی ڈی پی سے کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں۔ وہ یا تو پیپلز کانفرنس، این سی یا پھر کانگریس میں شامل ہوئے ہیں اور پی ڈی پی تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہی ہے۔

ریاست کے سیاسی منظر مے پر اس وقت نیشنل کانفرنس سب سے اْبھری ہوئی جماعت نظر آرہی ہے اور اسی رجحان پر پی ڈی پی لیڈران اپنی پارٹی کو بکھرتا دیکھ این سی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ 2019 کے اوائل میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی شایدکامیاب نہ ہو۔ اس لئے ریاست میں سیاسی موقع پرستی پنپ رہی ہے۔

سیاسی موقع پرستی سے ریاست کی سکیورٹی صورتحال سمیت سیاسی صورتحال بھی روز بروز مخدوش ہو رہی ہے۔ ایسے میں ہر ایک کی نظر جنوری کے دوسری ہفتے میں سپریم کورٹ میں کشمیریوں کی شناخت سے متعلق دفعہ35A کی سماعت پر مرکوز ہے کیونکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع سے جڑی اس دفعہ سے کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ ریاست میں خرمن امن کو ایسی آگ لگا سکتی ہے جس پر قابو پانا شاید ہی ممکن ہو!

(نصیر احمد سرینگر میں  مقیم ملٹی میڈیا صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔)