خبریں

آلوک ورما کو اپنی بات رکھنے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا: سبرامنیم سوامی

بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے کہا کہ آزاد انہ کارروائی کے مد نظر آلوک ورما کو سی وی سی رپورٹ پر رد عمل دینے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ اگر ایسا کیا جاتا تو ہم سبھی  فیصلے کا استقبال کرتے۔

بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی (فوٹو : پی ٹی آئی)

بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے آلوک ورما کو سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹائے جانے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورما کو اپنی بات  رکھنے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا۔ ٹائمس ناؤ چینل پر انہوں نے کہا، ‘ آلوک ورما کو اپنی بات  رکھنے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا۔ ان پر تمام الزامات ان کے ایک مخالف راکیش استھانا نے لگائے تھے۔ ان دونوں میں لڑائی چل رہی تھی۔ ‘

انہوں نے آگے کہا، ‘سی وی سی کی رپورٹ کی بنیاد پر ان کو ہٹایا گیا۔ مجھے نہیں لگتا کہ سی وی سی رپورٹ جانچ‌کے پیمانے پر کھری اتر پائے‌گی، کیونکہ مجھے پتا ہے کہ سی وی سی آر بی آئی گورنر کی طرح ہے۔ آزادانہ کارروائی کے مد نظر  آلوک ورما کو سی وی سی رپورٹ پر رد عمل دینے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ ‘ سوامی نے کہا کہ اگر ان طریقہ کار کو فالو کرتے ہوئے ان کو ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہوتا تو ہم سبھی اس فیصلے کی حمایت کرتے۔ لیکن یہ سب آلوک ورما کے پیٹھ پیچھے کیا گیا ہے۔ جمہوری‎ نظام  میں ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ آلوک ورما سی وی سی کے سامنے اپنی بات  رکھنے نہیں گئے تھے تو انہوں نے کہا، ‘ سی وی سی کے سامنے نہ جانے کی ان کی اپنی وجہ ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ سلیکشن  کمیٹی کے سامنے آنے سے منع کرتے تو پھر فیصلہ صحیح مانا جاتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ سی وی سی ایماندار ہے۔ ان کا اگر پچھلا ریکارڈ دیکھیں تو بد عنوانی کے کئی معاملے ہیں۔ ‘

سوامی نے کہا کہ اگر سلیکشن  کمیٹی آلوک ورما کو صرف ایک بار اپنی بات  رکھنے کا موقع دے دیتی تو ان کا کیا نقصان ہو جاتا۔ اس لئے میرا کہنا ہے کہ جو ہوا ہے وہ جمہوری‎ طریقہ کار نہیں ہے۔ معلوم ہو کہ سبرامنیم سوامی نے پہلے بھی کئی بار آلوک ورما کو صحیح بتاتے ہوئے ان کو سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے پر بنائے رکھنے کی حکومت سے مانگ کی تھی۔

سوامی نے سپریم کورٹ کے ذریعے آلوک ورما کی سی بی آئی ڈائریکٹر کے طور پر بحالی کے بعد کہا تھا، ‘ سی وی سی رپورٹ کی بنیاد پر آلوک ورما کو برخاست نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو فرضی قانونی لوگوں کی بات نہیں سننی چاہیے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی ہمیں سبق سکھا چکا ہے۔ ‘ بتا دیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں سلیکشن  کمیٹی کی ایک طویل  میٹنگ کے بعد آلوک ورما کو جمعرات کو سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

افسروں نے بتایا کہ 1979 بیچ کے اے جی ایم یو ٹی کیڈر کے آئی پی ایس افسر ورما کو بدعنوانی اور فرض کو نبھانے میں لاپروائی کے الزام میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ایجنسی کی تاریخ میں اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے وہ سی بی آئی کے پہلے چیف بن گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ورما کو این ایچ آر سی میں بھیجے جانے کا امکان ہے۔

سی وی سی کی رپورٹ میں ورما کے خلاف 8 الزام لگائے گئے تھے۔ یہ رپورٹ اعلی سطحی  کمیٹی کے سامنے رکھی گئی۔ کمیٹی میں لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما ملکارجن کھڑگے اور چیف جسٹس رنجن گگوئی کے نمائندے کے طورپر سپریم کورٹ  کے سینئر جج جسٹس اے کے سیکری بھی شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ورما کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ اکثریت سے کیا گیا۔ کھڑگے نے اس قدم کی مخالفت کی۔