خبریں

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: سپریم کورٹ کی ریاستی حکومت کو پھٹکار ، کہا – بہت ہوا، بچوں کو بخش دیں

سپریم کورٹ نے مظفرپور شیلٹر ہوم معاملے کی شنوائی پٹنہ سے دہلی منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہمیں یہ جاننے کا حق ہے کہ آپ حکومت کیسے چلا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بہار کے مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے میں ریاستی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے معاملے کی شنوائی پٹنہ سے دہلی منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق، سپریم کورٹ نے معاملے کو پٹنہ سے دہلی کی پاکسو عدالت کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے دو ہفتے کے اندر معاملے کی شنوائی شروع کرنے اور 6 مہینے کے اندر پورا کرنے کو کہا ہے۔

عدالت نے مظفر پور جنسی استحصال معاملے سے جڑے دستاویزوں کو 2 ہفتے کے اندر بہار کی سی بی آئی عدالت سے ساکیت ضلع عدالت میں منتقل کرنے کو کہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بہا رحکومت سے کہا کہ ، بہت ہوچکا ۔ بچوں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ اپنے افسروں سے بچوں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کرنے دے سکتے ۔ بچوں کو بخش دیں۔عدالت نے کہا ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے کی شنوائی بہار سے باہر منتقل ہونی ضروری ہے ۔ سپریم کورٹ نے بہار سرکار کو خبر دار کیا کہ اگر اس معاملے سے متعلق تمام جانکاریاں فراہم کرنے میں ناکامیاب رہے تو چیف سکریٹری کو طلب کیا جائے گا۔


یہ بھی پڑھیں: ایک نہیں بہار کے 15اداروں میں ہورہا ہے بچوں کا استحصال


سپریم کورٹ نے بدھ کو دوپہر 2 بجے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار رہنے کی بھی ہدایت دی ۔ عدالت نے کہا ، ہم حکومت نہیں چلارہےہیں ۔ ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ حکومت کیسے چلارہے ہیں ۔ ہمیں یہ جاننےکا حق ہے۔عدالت نے اس کی اجازت کے بغیر ایک سی بی ئی آئی افسر کا تبادلہ کیے جانے پر سی بی آئی اور مرکزی حکومت کو پھٹکار بھی لگائی ۔ عدالت نے کہا کہ یہ اس کے  احکام کی خلاف ورزی ہے کیوں کہ اس نے اس معاملے میں ہدایت دی تھی کی کسی بھی افسر کا کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا یہ اس طرح سے نہیں چل سکتا ، ہم اپنے احکام کو لے کر سنجیدہ ہیں۔

واضح ہو کہ بہار کے مظفر پور ضلع میں 31 مئی 2018 کو ایک شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ سامنے آیا تھا ۔ کچھ بچیوں کے حاملہ ہونے کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔