خبریں

سائبر فراڈ: بینک اکاؤنٹس سے پیسہ نکالنے کے معاملوں میں اضافہ

آر بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق سائبر دھوکہ دھڑی کے ذریعے16-2015 میں بینک اکاؤنٹس  سے ایک لاکھ روپے سے زیادہ نکالی گئی رقم کے اعداد و شمار 40.20 کروڑ روپے سے بڑھ‌کر18-2017میں 109.56 کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

(فائل فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے قبول کیا ہے کہ ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے سائبر دھوکہ دھڑی کے ذریعے بینک اکاؤنٹس سے پیسے نکالنے کے معاملوں میں پچھلے تین سال میں ڈھائی گنا تک اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ پییوش گوئل نے منگل کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں آر بی آئی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ سائبر دھوکہ دھڑی کے ذریعے16-2015 میں بینک اکاؤنٹس  سے ایک لاکھ روپے سے زیادہ نکالی گئی رقم کے اعداد و شمار 40.20 کروڑ روپے سے بڑھ‌کر18-2017میں 109.56 کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ17-2016 میں یہ مقدار 42.29 کروڑ روپے کی تھی۔ حالانکہ ڈیجیٹل لین دین کے مقابلے میں دھوکہ دھڑی سے کئے گئے لین دین کی حصےداری16-2015 میں 0.0000337 فیصد تھی جو 18-2017میں کم ہوکر 0.0000281 فیصد ہو گئی۔بینکوں میں دھوکہ دھڑی غیر قانونی طریقے سے اکاؤنٹس سے نکالی گئی رقم کا بوجھ  اکاؤنٹ ہولڈر کو ہی برداشت  کرنے کے سوال پر گوئل نے واضح کیا کہ آر بی آئی کے 6 جولائی 2017 کے سرکلر کے مطابق غیر مستند بینکنگ لین دین میں اکاؤنٹ ہولڈر کی ذمہ داری کو طے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے تحت بینک کی لاپروائی سے ہوئی دھوکہ دھڑی اور دھوکہ دھڑی ہونے کے تین دن کے اندر اس کی اطلاع بینک کو دینے پر اکاؤنٹ ہولڈر کی ذمہ داری زیرو ہوگی۔ اس کے علاوہ بینک کو چار سے سات دنوں کے اندر دھوکہ دھڑی کی اطلاع دینے اور اکاؤنٹ ہولڈر کے ملوث ہونے کی  واضح طور پر تصدیق نہیں ہونے پر گراہگ کی Liability پانچ سے 25 ہزار روپے تک محدود ہوگی۔

گراہگ کے ذریعے سات ورکنگ دنوں کے بعد بینک کو دھوکہ دھڑی کی جانکاری دینے کے بعد گراہگ کی Liability بینک کے بورڈ کے ذریعے حمایت یافتہ پالیسی کے تحت طےکی جائے‌گی۔ دھوکہ دھڑی میں گراہگ کے ملوث ہونے  کی تصدیق ہونے پر گراہگ خود جواب دہ ہوں‌گے۔بینک کی لاپروائی کی وجہ سے بینکنگ لین دین میں سائبر سکیورٹی  میں چوک‌کے معاملوں کی تعداد کے سوال پر گوئل نے بتایا کہ آر بی آئی کے ذریعے ایسی اطلاع مرکزی سطح پر نہیں رکھی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ مختلف جانچ  ایجنسیوں نے 2014 سے 2016 کے درمیان 6100 سے زیادہ سائبر دھوکہ دھڑی کے معاملے درج کئے۔لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ ہنس راج اہیر نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2016 میں سائبر دھوکہ دھڑی کے 2522 معاملے درج کئے گئے۔ 2015 میں ان کی تعداد 2384 تھی اور سال 2014 میں دھوکہ دھڑی کے 1286 معاملے درج کئے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان تین سالوں میں کل 6192 معاملے درج کئے گئے۔ سال 2017 اور 2018 میں سائبر دھوکہ دھڑی کے معاملوں کے اعداد و شمار ابھی دستیاب نہیں ہیں۔حکومت سے پوچھا گیا تھا کہ پچھلے تین سال میں ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے ہوئے دھوکہ دھڑی کے معاملے میں کیا قدم اٹھائے گئے ہیں۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)