خبریں

جموں و کشمیر: مرکزی حکومت نے علیحدگی پسند رہنما یٰسین ملک کی تنظیم جے کے ایل ایف پر لگائی پابندی

ہوم سکریٹری راجیو گوبا کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف 37 ایف آئی آر درج ہیں۔

یاسین ملک (فوٹو رائٹرس)

یٰسین ملک (فوٹو رائٹرس)

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے علیحدگی پسند رہنما یٰسین ملک کی قیادت والی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کو جمعہ کو دہشت گردی  کے روک تھام سے متعلق قانون کے تحت پابندی عائد کر دی۔سکیورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی نے اس علیحدگی پسند گروپ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

مرکزی ہوم سکریٹری راجیو گوبا نے کہا کہ کئی تشدد آمیز کاموں اور 1988 سے کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کی وجہ سے یٰسین ملک کی قیادت والی تنظیم جےکے ایل ایف پر پابندی لگائی گئی ہے۔

گوبا نے کہا کہ جے کے ایل ایف نے کشمیر وادی میں علیحدگی پسند نظریہ کو بڑھاوا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت  دہشت گردی کو قطعی برداشت نہیں کرنے کی پالیسی کے تحت یہ کارروائی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1989 میں جے کے ایل ایف کے ذریعے کشمیری پنڈتوں کے قتل سے وادی سے ان کی منتقلی شروع ہوئی۔ یٰسین ملک وادی سے کشمیری پنڈتوں کی منتقلی کی سازش اور ان کے قتل عام کے لئے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیم کو غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) قانون کے مختلف اہتماموں کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس تنظیم کے صدر یٰسین ملک فی الحال جموں کی کوٹ بلول جیل میں بند ہیں۔گوبا نے کہا، ‘ جے کے ایل ایف کے خلاف کئی سنگین معاملے درج ہیں۔ یہ تنظیم اس وقت کی وی پی سنگھ حکومت میں وزیر داخلہ رہے مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوااور ایئر فورس  کے چار ملازمین‎ کے قتل کے لئے ذمہ دار ہے۔ ‘

یہ جموں و کشمیر میں دوسری تنظیم ہے جس پر اس مہینے پابندی لگائی گئی ہے۔ اس سے پہلے مرکز نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پابندی لگائی تھی۔نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ہوم سکریٹری راجیو گوبا کا کہنا ہے کہ حکومت علیحدگی پسند گروپ کی سرگرمیوں پر روک لگانے کی پالیسی کو لےکر پرعزم ہے، جو ملک کے لئے خطرہ ہے۔

حکومت کا یہ قدم 23 مارچ کو نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن میں پاکستان کے نیشنل ڈے  کے موقع پر علیحدگی پسند رہنماؤں کو مدعو کرنے کے بعد آیا ہے، جس کا ہندوستان نے سرکاری طور پر بائیکاٹ کر دیا تھا۔گوبا کا کہنا ہے، ‘ جموں  اور کشمیر پولیس نے جے کے ایل ایف کے خلاف 37 ایف آئی آر درج کی ہیں۔ ‘ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر واقع علیحدگی پسندوں  کی حفاظت کا تجزیہ جاری رکھے‌گا۔

حکومت نے پلواما حملے کے بعد میرواعظ عمر فاروق سمیت پانچ علیحدگی پسند رہنماؤں کی حفاظت واپس لے لی تھی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)