خبریں

گروگرام: بھیڑ کے حملے کا شکار ہوئی فیملی کے 2 لوگوں پر ایف آئی آر

بھیڑ کے حملے میں زخمی دلشاد نے کہا،’میں سمجھ نہیں پایا کہ یہ کس طرح کا سسٹم ہے۔پوری دنیا نے ویڈیو میں دیکھا کہ ہم پر حملہ کیا گیا، میرے ہاتھ ٹوٹ گئے تھے،میری فیملی کے لوگ ابھی بھی ہاسپٹل میں ہیں اور اب پولیس نے ہمارے ہی خلاف معاملہ درج کر لیا ہے۔ یہ تو سراسر ناانصافی ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ یو ٹیوب اسکرین شاٹ

فوٹو: بہ شکریہ یو ٹیوب اسکرین شاٹ

نئی دہلی: گروگرام میں ہولی کے دن 21 مارچ کو ایک مسلم فیملی پر بھیڑ کے حملے کے ایک ہفتے بعد متاثرہ فیملی کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ متاثرہ فیملی اپنا گھر بیچ کر واپس اترپردیش کے باغپت لوٹنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔دی سٹیزن کی رپورٹ کے مطابق؛اس معاملے میں کلیدی ملزم نے متاثرہ (فیملی)کے 2 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرایاہے۔ یہ معاملہ آئی پی سی کی دفعہ 323 اور 324 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

بھیڑ کے حملے میں زخمی دلشاد نے بتایا کہ پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 307 اور قتل کی کوشش کے تحت ان کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ انھوں نے کہا،’ہمیں جمعہ کی صبح بتایا گیا کہ آئی پی سی کی دفعہ 307 کے تحت ہماری فیملی کے ممبروں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔’فیملی پر حملے کے بعد گزشتہ 1ہفتے میں تقریباً درجن بھر لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دلشاد نے کہا،’میں سمجھ نہیں پایا کہ یہ کس طرح کا سسٹم ہے۔پوری دنیا نے ویڈیو میں دیکھا ہے کہ ہم پر حملہ کیا گیا، میرے ہاتھ ٹوٹ گئے تھے،میری فیملی کے لوگ ابھی بھی اسپتال میں ہیں اور اب پولیس نے ہمارے ہی خلاف معاملہ درج کر لیا ہے۔ یہ تو سراسر نا انصافی ہے۔’انھوں نے کہا،’متاثرہ فیملی کے خلاف معاملہ درج کرنے کا اس حکومت میں چلن بن گیا ہے،ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ متاثرہ انصاف پانے کی امید چھوڑ دیں۔یہ افرازل معاملے میں بھی ہوا،پہلو خان کے معاملے میں اور اب ہمارے ساتھ بھی ٹھیک ایسا ہی ہو رہا ہے۔’

دلشاد کی کہی باتوں سے فیملی کے دوسرے ممبروں نے بھی اتفاق کیا لیکن انھوں نے کسی طرح کی دقت سے بچنے کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی۔فیملی کی ایک ممبر نے کہا،’ہم یہاں ایک دہائی سے بھی زیادہ وقت سے رہ رہے ہیں۔ہم نے اس گھر کو بنانے میں کافی پیسہ خرچ کیا ہے۔ہمارا یہاں بادشاہ پور میں فرنیچر کا اچھا کاروبار چل رہا ہے لیکن ہولی کے دن جو کچھ ہوا، اس سے ہمارا یقین ڈگمگا گیا ہے۔’

انہوں نے کہا ، بھیڑ گھر میں گھسی اور ہمیں پیٹنا شروع کردیا ۔ انہوں نے فیملی کے لوگوں کو پاکستان جانے کو کہا ، وہ بھی تب جب ہماری چھت پر ہندوستان کا ترنگا لہرا رہاہے ۔ اب ہمارے گھر والوں کے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔ ہم اس جگہ کو چھوڑ کر اپنے موروثی گاؤں باغپت یا کسی اور جگہ جانا چاہتے ہیں ، جو ہماری کمیونٹی کے لیے محفوظ ہو ۔ یہاں صرف دو مسلم فیملی رہتی ہے۔

خاتون نے کہا، ہمارے گھر کے باہر سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے اور پولیس کی یقین دہانی کے بعد ہمیں تھوڑی سی راحت ملی تھی لیکن اب ہمارے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا ہے ۔ اب ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے ، یہاں تک کہ پولیس بھی نہیں ۔

جنوبی گروگرام میں ڈپٹی کمشنر ہمانشو گرگ نے متاثرہ فیملی کے خلاف معاملہ درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا ، ا س معاملے میں کلیدی ملزم راجیش کا الزام ہے کہ فیملی نے اس کو بلے سے مارا اور اس کے سر پر چوٹ بھی لگی ہے۔ ہمیں اس کو میڈیکل جانچ کے لیے بھیجنا پڑا ۔ میڈیکل جانچ میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ زخمی تھا اور اس بنیاد پر آئی پی سی کی دفعہ 307 کے تحت متاثرہ فیملی کے دو ممبروں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ ہم ایسا کرنے کے لیے مجبو رہیں۔

واضح ہوکہ گروگرام میں دھمس پور گاؤں میں ہولی کی شام کو مبینہ طور پر 20سے 25 لوگوں ایک مسلم فیملی کے گھر میں گھس کر گھروالوں کو بری طرح سے پیٹا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت ہوا تھا جب مسلم فیملی کے ممبر اپنے گھر کے باہر کرکٹ کھیل رہے تھے اور کچھ لوگوں نے وہاں آکر ان سے کہا کہ جاکر پاکستان میں کھیلو۔