خبریں

لوک سبھا ضمنی انتخاب میں گورکھپور سیٹ پر بی جے پی کو ہرانے والے رکن پارلیامان پروین نشاد بی جے پی میں شامل

ایک نیوز چینل نے اپنے اسٹنگ آپریشن میں دعویٰ کیا ہے کہ گورکھپور سے رکن پارلیامان پروین نشاد نے لوک سبھا انتخاب میں بلیک منی خرچ کرنے کی بات قبول کی اور اس انتخاب میں بھی بلیک منی کے استعمال سے ان کو کوئی پرہیز نہیں تھا۔

گورکھپور سے رکن پارلیامان اور نشاد پارٹی کے رہنما پروین نشاد جمعرات کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر جے پی نڈا کی موجودگی میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

گورکھپور سے رکن پارلیامان اور نشاد پارٹی کے رہنما پروین نشاد جمعرات کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر جے پی نڈا کی موجودگی میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اتر پردیش میں گورکھپور سے سماجوادی پارٹی سے رکن پارلیامان پروین نشاد  بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ایک دن پہلے بدھ کو نیوز چینل’ٹی وی9 بھارت ورش ‘کے ایک اسٹنگ آپریشن میں گورکھپور کے رکن پارلیامان پروین نشاد نے خفیہ کیمرے پر 2018 میں ہوئے ضمنی انتخاب میں بلیک منی خرچ کرنے کی بات کرتے نظر آئے تھے۔واضح  ہو کہ نشاد پارٹی کے صدر سنجے نشاد کے بیٹے پروین نشاد سال 2018 میں گورکھپور سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے خلاف سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑے تھے۔حال ہی میں اتر پردیش کی مہراج گنج سیٹ کو لےکر اختلاف کے بعد نشاد پارٹی نے سماجوادی پارٹی سے اتحاد ختم کر لیا تھا۔

سنجے نشاد اورایس پی صدر اکھلیش یادو کے درمیان اختلاف کی خبریں سامنے آئیں کیونکہ ایس پی ان کو اپنے نشان پر انتخاب لڑانا چاہتی تھی جبکہ وہ نشاد پارٹی کے نشان پر انتخاب لڑنا چاہتے تھے۔بی جے پی نے اب تک گورکھپور سیٹ سے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے جو اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا گڑھ مانا جاتا ہے۔نیوز چینل نے اپنے اسٹنگ آپریشن میں دعویٰ کیا تھا کہ گورکھپور انتخاب میں ہونے والے خرچ کے بارے میں پوچھنے پر پروین نشاد نے بتایا تھا کہ تقریباً 5سے6 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

قابل ذکر ہے  کہ الیکشن کمیشن نے لوک سبھا انتخاب کے لئے خرچ کی زیادہ سے زیادہ حد 70 لاکھ روپے طے کی ہے۔ٹی وی9 بھارت ورش کے مطابق، فنڈنگ کے سوال پر پروین نشاد نے ان کے خفیہ رپورٹرس سے کہا تھا کہ جتنی فنڈنگ آپ کرا سکتے ہیں اتنی کرا دیجئے، کیونکہ ہمارے پاس 2 لوک سبھا سیٹ ہیں۔ ایک گورکھپور اور دوسری پتاجی  کی مہراج گنج سیٹ۔چینل کے مطابق پروین نشاد نے کہا تھا، ‘میں تو جیت رہا ہوں 100 پرسینٹ، پتاجی کا تھوڑا بہت رسک رہے‌گا تو ہم ان کو راجیہ سبھا بھیجیں‌گے۔ ‘

پچھلے انتخاب میں ہوئے خرچ کے بارے میں پوچھے جانے پر پروین نشاد نے اس اسٹنگ آپریشن میں بتایا تھا کہ 7سے8 کروڑ خرچ ہو گئے تھے، جس میں تقریباً 3.5 کروڑ ہم نے خرچ کیا اور 4 کروڑ کے آس پاس پارٹی نے کیا تھا۔چینل کے مطابق انتخابی قواعد پر بات کرتے ہوئے پروین نشاد نے بتایا تھا کہ ریلیوں میں گاڑی کرواتے ہیں تو تقریباً 60سے80 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو ٹی-شرٹ، خواتین کو ساڑیاں بھی بانٹی جاتی ہیں۔

نوٹ بندی کے بعد نقد مینج کرنے کے لئے پروین نشاد نے بتایا کہ اس کے لئے پارٹی کا اکاؤنٹ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تھرڈ پارٹی کا اکاؤنٹ بھی ہوتا ہے اور ٹرسٹ سے بھی مینج کیا جاتا ہے۔ پیسہ دینے کی بات پر نشاد نے کیمرے پر بتایا کہ ہمیں نقد دیجئے اگر چیک سے جائے‌گا تو وہ تو آن ریکارڈ ہوگا، نقد رہے‌گا تو کوئی ریکارڈ نہیں رہے‌گا۔نیوز چینل کا دعویٰ ہے کہ بلیک منی کے لئے گورکھپور کے رکن پارلیامان پروین نشاد کی بےچینی ایسی تھی کہ وہ نہ صرف فوراً بتائی ہوئی فرضی کمپنی سے میٹنگ کے لئے تیار ہو گئے، بلکہ انتخاب کا حوالہ دےکر جلدی میٹنگ کا دباؤ بھی بنانے لگے۔ پروین نشاد نے یہ بھی بتایا کہ انتخاب میں الگ سے ملنے والے فنڈ کے علاوہ پارٹی بھی فنڈ دیتی ہے۔

بہر حال جمعرات کو پروین نشاد کے علاوہ تلنگانہ سے کانگریس کے سابق رکن پارلیامان آنند بھاسکر رپولو بھی بی جے پی میں شامل ہوئے۔ کانگریس کے سابق راپولو تلنگانہ تحریک سے جڑے رہے اور انہوں نے پچھلے مہینے کانگریس چھوڑ دیا تھا۔اس موقع پر بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کا اپنے علاقوں میں کافی اثر ہے اور یہ مودی حکومت کی پالیسیوں میں بھروسہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)