خبریں

ممتا بنرجی کا میم شیئر کرنے والی  بی جے پی کارکن اپنی گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی

ممتا بنرجی کا ایک میم سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے لیے بی جے پی کارکن پرینکا شرما کو گزشتہ سنیچر کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان کو 14 دنوں کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

بی جے پی کارکن پرینکا شرما

بی جے پی کارکن پرینکا شرما

نئی دہلی : بی جے پی کارکن پرینکا شرما نے سوشل میڈیا پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی میم والی تصویریں شیئر کی تھیں ۔ اس کی وجہ سے ان کو گرفتار کیا گیا ۔ اب شرما نے ریاستی سرکار کے اس فیصلے کے خلاف  سپریم  کورٹ کا رخ کیا ہے۔

ممتا بنرجی کی ایک بدلی ہوئی تصویر (میم )سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے لیے پرینکا شرما کو سنیچر کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان کو 14 دنوں کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ ریاستی پولیس کے اس قدم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ بتایا گیا۔

بار اینڈ بنچ کی ایک خبر کے مطابق، بی جے پی کارکن کی پیروی کرنے والے سینئر وکیل نیرج کشن کول نے اس معاملے کا تذکرہ جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس سنجیو کھنہ کی تعطیل کے دوران لگنے والی بنچ کے سامنے  فوری طور پر شنوائی کے لیے کیا۔

کول نے دعویٰ کیا کہ ریاستی پولیس کے ذریعے وکیلوں پر شدید حملے کے بعد 25 اپریل سے مغربی بنگال میں قانونی کارروائی  کو پوری طرح سے بند کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ہڑتال کی وجہ سے ان کے پاس ریاست میں کسی بھی قانونی کارروائی کا کوئی سہارا نہیں ہےاور اس  لیے انہوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ عدالت اس معاملے کی شنوائی 14 مئی کو کرے گی ۔