خبریں

کھیل کی دنیا: جوکووچ کو میڈرڈ اوپن کا خطاب اور انگلش پریمیرلیگ کا خطاب مانچسٹر سٹی کے نام

 2009 میں لگاتار دو خطاب جیتنے کے بعد انگلش پریمیئر لیگ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی بھی ٹیم نے اس اعزاز کو حاصل کیا ہو۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

دنیا میں پہلے نمبر کے ٹینس کھلاڑی سربیا کے نوواک جوکووچ نے تیسری بار میڈرڈ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے خطاب پر قبضہ کر لیا۔ اس ٹورنامنٹ میں جوکووچ کتنا بہتر کھیل رہے تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ٹورنامنٹ کے کسی بھی مقابلے میں ایک بھی سیٹ نہیں گنوایا۔ جوکوووچ یہاں 2011اور 2016میں بھی خطاب حاصل کر چکے ہیں۔خواتین کے زمرے کا خطاب نیدرلینڈ کی کیکی برٹینس نے جیتا۔انہوں نے رومانیہ کی سمونا ہالیپ کو شکست دی۔یہ برٹینس کے کیریئر کا سب سے بڑا خطاب ہے۔

سانسیں روک دینے والے فائنل میں دلچسپ جیت کے ساتھ ممبئی انڈینس نے انڈین پریمیئر لیگ کا بارہواں ایڈیشن جیت لیا۔ممبئی نے چوتھی بارآئی پی ایل کا خطاب حاصل کیا۔اس سے پہلے ممبئی کی ٹیم 2013،2015،2017میں خطاب جیت چکی ہے۔اگر چنئی یہ خطاب جیت پاتا تو اس کی بھی یہ چوتھی خطابی جیت ہوتی۔ممبئی کا یہ آئی پی ایل میں پانچواں فائنل تھا جن میں سے چار میں اسے جیت ملی۔ٹورنامنٹ کے بعد مختلف ایوارڈ کے اعلان ہوتے ہیں جن میں اس بار تیزبلے بازی سے سب کو حیران کردینے والے آندرے رسیل نے بازی ماری۔ 14میچوں میں510رن بنانے والے رسل کو ٹورنامنٹ کے سب سے قیمتی کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔اس کے علاوہ بہترین اسٹرائیک ریٹ کا ایوارڈ بھی رسل کو ہی ملا۔ڈیوڈ وارنر نے ٹورنامنٹ کے دوران سب سے زیادہ 692رن بنائے اور انہیں اورنج کیپ ملی جبکہ سب سے زیادہ 26وکٹ لینے والے عمران طاہر کو پرپل کیپ ملی۔

لیگ میچوں کے دوران کیرون پولارڈ نے سریش رینا کا ایک شاندار کیچ لپکا تھا جسے ٹورنامنٹ کا بہترین کیچ قرار دیا گیا۔سن رائزرس حیدر آباد کی ٹیم کو ایمانداری سے کھیل پیش کرنے کے لئے فیئر پلے ٹرافی دی گئی۔کے کے آر کے شبھمن گل کو ایمرجنگ پلیئر کا ایوارڈ ملا۔پنجاب کرکٹ ایسو سی ایشن کو بہترین میدان جبکہ حیدر آباد کرکٹ ایسو ایشن کو بہترین پچ کے لئے ایوارڈ دیا گیا۔ انگلش پریمیئرلیگ کے آخری لیگ میچ میں مانچسٹر سٹی نے برائٹن کو شکست دینے کے ساتھ ہی یہاں دوسری بار خطاب حاصل کر لیا۔ 2009 میں لگاتار دو خطاب جیتنے کے بعد انگلش پریمیئر لیگ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی بھی ٹیم نے اس اعزاز کو حاصل کیا ہو۔دوسرے ہیرو انٹرکانٹی نینٹل کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔اس بار یہ ٹورنامنٹ 7سے17جولائی کے درمیان کھیلا جائےگا۔

پچھلی  بار یہاں خطاب حاصل کرنے والی ہندوستانی ٹیم کو اس بار بھی بہتر ہونے کی امید ہے۔اس بار اس ٹورنامنٹ میں جو چار ٹیمیں شریک ہوں گی ان کے نام ہندوستان ، شام ، تاجکستان اور شمالی کوریا ہیں۔حالانکہ ٹورنامنٹ کی تاریخوں کا اعلان تو ہو گیا ہے مگر یہ ٹورنامنٹ ہوگا کہاں ابھی اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ گزشتہ سال جون میں اس کے پہلے ایڈیشن میں سنیل چھیتری کے دو گولوں کی مدد سے ہندوستان نے فائنل میں کینیا کو شکست دے کر خطاب جیتا تھا۔ اس بار ہیرو انٹرکانٹی نینٹل کپ میں چاروں ٹیمیں راؤ نڈ رابن مرحلے میں ایک دوسرے سے کھیلیں گی اور سرفہرست دو ٹیمیں فائنل میں مقابلہ کریں گی۔

پاکستان کے سابق بلے باز انضمام الحق نے دنیا میں اپنی بہترین بلے بازی سے بہت نام کمایا ۔وہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے اچھے بلے بازو ں میں شمار ہوئے اب ان کے بھتیجے امام الحق کمال کر رہے ہیں۔اپنے پہلے ہی ون ڈے میچ میں سنچری بنانے والے امام الحق نے ایک اور کمال کر دیا ہے۔انہوں نے اپنا27واں ون ڈے میچ کھیلتے ہوئے چٹھی سنچری بنائی۔یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے اتنے کم ون ڈے میچ کھیل کر اب تک کسی بھی کھلاڑی نے چھ سنچری نہیں بنائی تھی۔انہوں نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ون ڈے میچ کے دوران 151رنوں کی شاندار اننگ کھیل کر یہ ریکارڈ بنایا۔

اس سے پہلے ون ڈے کرکٹ میں سب سے کم اننگ کھیل کر چھ سنچرےاں بنانے کا ریکارڈ سری لنکا کے اپل تھرنگا کے پاس تھا جنہوں نے31 میچ کی29 ویں اننگ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔12دسمبر1995کو ملتان میں پیدا ہونے والے امام الحق نے اپنا پہلا ون ڈے میچ 18 اکتوبر2017 کو ابو ظہبی میں سری لنکا کے خلاف کھیلا اور اس میں 100رن بنانے میں کامیاب ہوئے۔وہ پاکستان کے صرف دوسرے ایسے کرکٹر ہیں جنہوں نے ون ڈے میں اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری بنائی۔

جنوب ایشیائی کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والے ہندوستانی تیراک ایم بی بالاکرشن کی سڑک حادثہ میں موت ہو گئی۔وہ اپنے دوست کے ساتھ ٹو وہیلر پر کہیں جا رہے تھے کہ ایک لاری نے انہیں ٹکر مار دی اور وہ لاری کے نیچے آ گئے۔2007میں انہوں نے قومی کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتا تھا اور 2010میں قومی چمپئن شپ کے دوران تو انہوں 50میٹر بیک اسٹروک میں قومی ریکارڈ بھی بنایا تھا۔ اسی سال انہوں نے100میٹر اور200میٹر میں جنوبی ایشیائی کھیلوں کے دوران بھی گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ صرف27سال کی عمر میں بالا کرشن کی موت بہت ہی افسوس ناک ہے۔