خبریں

اتر پردیش میں زہریلی شراب پینے سے کم سے کم 14 لوگوں کی موت، 39 بیمار

دریں اثنااس معاملے کے کلیدی ملزم پپو جیسوال کو پولیس نے ایک مڈبھیڑ کے دوران گرفتار کرلیا ہے ۔ رام نگر کے بھنڈ کے امرائی کنڈ کے پاس ایک مڈبھیڑ کے دوران  اس کو گرفتار کیا گیا ۔ مڈبھیڑ میں پولیس نے ملزم کےپاؤں میں گولی بھی ماری اور اس کو زخمی حالت میں ضلع ہاسپٹل میں داخل  کرایا گیا ے ۔ اس معاملے میں اب تک تین ملزموں کی گرفتاری ہوئی ہے۔

Barabanki

نئی دہلی: اتر پردیش کے بارہ بنکی ضلع کے رام نگر علاقے میں زہریلی شراب پینے سے کم سے کم12 لوگوں کی موت ہو گئی اور 39 لوگ بیمار ہو گئے ہیں۔ حالانکہ خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے اب تک مرنے والوں کی تعداد 14 بتائی ہے۔بارہ بنکی پولیس سپرنٹنڈنٹ اجئے ساہنی نے بتایا کہ رام نگر تھانہ علاقے کے رانی گنج گاؤں اور اس کے آس پاس کے مجروں کے کئی لوگوں نے سوموار اور منگل کی درمیانی رات کو شراب پی تھی، جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ ان میں سے اب تک 12 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ مرنے والوں میں چار ایک ہی فیملی کے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شراب پینے سے بیمار 39 دیگر لوگوں کو لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی ہاسپٹل سمیت مختلف ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ساہنی نے بتایا کہ مرنے والوں میں ونے پرتاپ عرف راجو سنگھ (30)، راجیش (35)، رمیش کمار (35)، سونو (25)، مکیش (28)، چھوٹےلال (60)، سوریہ بکش، راجیندر ورما، شیوکمار (38)، مہیندر، رام سہارا (20) اور مہیش سنگھ (45) شامل ہیں۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والے لوگوں کے رشتہ دار کو دو-دو لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاملے میں ضلع آب کاری افسر، نو آب کاری ملازمین‎ اور دو پولیس افسروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔اترپردیش حکومت کے ترجمان اور وزیرصحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے لکھنؤ میں بتایا کہ موضوع کی تفتیش کے لئے ایودھیا کے کمشنر، پولیس انسپکٹر جنرل اور آب کاری محکمے کے کمشنر کی ٹیم بنائی گئی ہے، جو مختلف پہلوؤں کی تفتیش کرکے 48 گھنٹے کے اندر رپورٹ دے‌گی۔وزیرِ صحت نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش کے لئے تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی ٹیم دیگر پہلوؤں کے علاوہ اس بات کی بھی تفتیش کرے‌گی کہ کہیں اس واقعہ کے پیچھے کوئی سیاسی سازش تو نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ہاپوڑ اور اعظم گڑھ میں ہوئے ایسے واقعات میں سیاسی سازش سامنے آئی ہے، لہذا جانچ‌کے دائرے میں اس پوائنٹ کو بھی لایا گیا ہے۔سنگھ نے کہا کہ اس معاملے میں ضلع آب کاری افسر شیو نارائن دوبے، حلقہ آب کاری جائزہ کار رام تیرتھ موریہ، تین آب کاری ہیڈ کانسٹبل اور پانچ سپاہی کے ساتھ-ساتھ رام نگر کی پولیس ،سرکل افسر پون گوتم اور تھانہ انچارج راجیش کمار سنگھ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔اس بیچ، ریاست کے آب کاری وزیر جئے پرتاپ سنگھ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ یہ واقعہ بےحد سنگین ہے کیونکہ جس شراب کو پینے سے لوگوں کی موت ہوئی وہ آب کاری محکمے کے رجسٹرڈ فروخت کنندہ کے یہاں سے لی گئی تھی اور اس میں غالباً پہلے سے ملاوٹ کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ آب کاری محکمے وقت وقت پر رجسٹرڈ دکانوں کے یہاں تفتیش کرواتا رہتا ہے تاکہ شراب میں کسی بھی طرح کی ملاوٹ نہ  ہونے پائے۔ ایسے میں یہ معاملہ بےحد سنگین ہے۔ سنگھ نے کہا کہ اس معاملے کے قصورواروں کو قطعی بخشا نہیں جائے‌گا۔

دریں اثنااس معاملے کے کلیدی ملزم پپو جیسوال کو پولیس نے ایک مڈبھیڑ کے دوران گرفتار کرلیا ہے ۔ رام نگر کے بھنڈ کے امرائی کنڈ کے پاس ایک مڈبھیڑ کے دوران  اس کو گرفتار کیا گیا ۔ مڈبھیڑ میں پولیس نے ملزم کےپاؤں میں گولی بھی ماری اور اس کو زخمی حالت میں ضلع ہاسپٹل میں داخل  کرایا گیا ے ۔ اس معاملے میں اب تک تین ملزموں کی گرفتاری ہوئی ہے۔اس پورے معاملے میں مجسٹریٹ جانچ کے حکم بھی دے دیے گئے ہیں اور ملزمین پر این ایس اے لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

واضح ہو کہ اس سے پہلے اس سال فروری مہینے میں دیسی شراب کے استعمال سے اتر پردیش اور پڑوسی ریاست اتراکھنڈ میں 108 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس میں 73 لوگ اتر پردیش کے تھے۔ ان 73 میں سے 62 لوگ ریاست کے سہارن پور اور میرٹھ ضلعوں سے تھے۔ اس واقعہ میں اتراکھنڈ کے 35 لوگ مارے گئے تھے۔جانچ  میں پتہ چلا تھا کہ اتر پردیش سے غیر قانونی شراب خریدی اور اتراکھنڈ کے ہری دوار ضلع کے ایک گاؤں بالو پور اور اس کے آس پاس کے گاؤں میں بیچ دیا گیا تھا۔ مرنے والے لوگ اتراکھنڈ کے ہری دوار اور اتر پردیش کے سہارن پور ضلع کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک رشتہ دار کی’تیرہویں’کے بعد گزشتہ 7 فروری کی شام کو شراب کا استعمال کیا تھا۔وہیں اتر پردیش کے کُشی نگر میں ہوئے ایک دیگر واقعہ میں تقریباً 11 لوگوں کی موت زہریلی شراب کے استعمال سے ہو گئی تھی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)