خبریں

تریپورہ میں بی جے پی کو ووٹ نہیں دینے والوں  کو نشانہ بنایا جارہا ہے: کانگریس

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے الزام لگایا  کہ بی جے پی ان رائے دہندگان کو نشانہ بنارہی تھی جنہوں نے لوک سبھا میں ان کے لیے ووٹ نہیں کیا۔ بی جے پی کے غنڈوں سے جان بچانے کے لیے ڈرے سہمے لوگ جنگلوں میں چھپے ہیں۔

فوٹو: ٹوئٹر

فوٹو: ٹوئٹر

نئی دہلی : کانگریس نے بی جے پی پر تریپورہ لوک سبھا انتخاب میں اس کے حق میں ووٹ نہیں ڈالنے والے رائے دہندگان کے ساتھ تشدد کرنےکا الزام لگایا ہے او ر بی جے پی  حکومت والی ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے آسام رائفلس کی تعیناتی کا مطالبہ کیاہے۔ کانگریس ترجمان پون کھیرا اور پارٹی کے تریپور ہ چیف پرودت دیب برمن نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا ہےتو ہم آخری راستے کے طور پر سپریم کورٹ جائیں گے  اور متاثرین کے لیے معاوضے کا مطالبہ کریں گے۔ کھیر انے الزام لگایا  کہ بی جے پی ان رائے دہندگان کو نشانہ بنارہی تھی جنہوں نے لوک سبھا میں ان کے لیے ووٹ نہیں کیا۔ برمن نے کہا بی جے پی کے غنڈوں سے جان بچانے کے لیے ڈرے سہمے لوگ جنگلوں میں چھپے ہیں۔

تریپورہ کانگریس چیف نے کہا کہ ، ہم نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے ۔ تشدد کے مسلسل واقعات کے مدنظر سپریم کورٹ ہی واحد اختیار رہ گیا ہے ہم ابھی بھی درخواست کر رہے ہیں کہ پولیس یہاں کے حالات کو قابو کرنے میں ناکام ہے اس لیے یہاں آسام رائفلس کو تعینات کیا جائے ۔ہم کسی طرح کی سیاسی بیان بازی سے پرہیز کر رہے ہیں ۔ ہم امن و سکون چاہتے ہیں ۔دریں اثنا کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا کہ لوک سبھا انتخاب کے دوران 443 بوتھوں پر دوبارہ ووٹنگ کرانے کی مانگ نہیں مانی گئی  اور اب اس کوہم  سپریم کورٹ میں چیلنج دیں گے ۔ پارٹی ترجمان  پون کھیر ا نے کہا کہ 11 اپریل کو ووٹنگ کے بعد پارٹی نے 433 بوتھوں پر پھر سے ووٹنگ کا مطالبہ کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے بنا کوئی وجہ بتائے صرف 168 بوتھوں پر دوبارہ ووٹنگ کرائی ۔

ریاستی کانگریس کے چیف دیب برمن نے کہا کہ پارٹی اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مغربی بنگال کی طرح تریپورہ  میں بھی تشدد ہوا اور یہ تشدد بی جے پی کارکنان نے کیا ، لیکن میڈیا اور الیکشن کمیشن کا اس طرف دھیان نہیں گیا۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)