خبریں

فیس کو لے کر طلبا کی مخالفت کے بعد ٹی آئی ایس ایس کا حیدر آباد کیمپس غیر معینہ مدت کے لئے بند

ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز (ٹی آئی ایس ایس) کے حیدر آباد کیمپس میں طلبا کا مظاہرہ گزشتہ  ہفتے شروع ہوا تھا۔ فیس میں اضافہ اور لڑکیوں کے ہاسٹل کے آس پاس سکیورٹی  کی کمی کی مخالفت میں طلبا  بھوک ہڑتال پر ہیں۔

(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/ TISS For Everyone)

(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/ TISS For Everyone)

نئی دہلی: ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز (ٹی آئی ایس ایس) کے حیدر آباد کیمپس میں گزشتہ سوموار سے تمام اکادمک سرگرمیوں کو فوری طور پر غیرمعینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے یہاں کے طلبا مظاہرہ  کر رہے ہیں جس کے مدنظر یہ فیصلہ لیا گیا۔دی نیوز منٹ کی رپورٹ کے مطابق، سبھی طلبہ و طالبات سے کیمپس خالی کر دینے کے لئے کہہ دیا گیا ہے۔ ہاسٹل اور میس کی فیس کو لےکر کیمپس میں بھوک ہڑتال کے ساتھ ہی پچھلے کچھ دنوں سے طلبہ و طالبات کا مظاہرہ جاری تھا۔

ٹی   آئی ایس ایس کی ایکٹنگ  ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر وندھیا نے بتایا، ‘ طلبا گزشتہ ایک ہفتے سے ہمیں کیمپس میں گھسنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہماری ان سے میٹنگ ہوئی اور ہم نے کہا تھا کہ ہم اس ماحول میں بات نہیں کر سکتے۔ اس لئے ہمارے ممبئی انتظامیہ نے غیرمعینہ مدت کے لئے تمام تعلیمی سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔غیرمعینہ مدت کے لئے کیمپس بند کر دیا گیا ہے، ایک بار حالات نارمل  ہونے پر کیمپس کو دوبارہ کھولا جائے‌گا۔ ‘

اسکرال ڈاٹ ان کی رپورٹ کے مطابق، طلبا ہاسٹل کی بڑھی ہوئی فیس اور گرلس ہاسٹل کے پاس سکیورٹی کی کمی کی مخالفت میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان  کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے پاس کئی خواتین نے ظلم و ستم  کا سامنا کیا ہے لیکن کالج نے کسی بھی طرح کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کیمپس میں نہیں ہے۔

راجیہ سبھا رکن پارلیامان کریم کے ذریعے مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک کو لکھا خط

راجیہ سبھا رکن پارلیامان کریم کے ذریعے مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک کو لکھا خط

یونیورسٹی نے سوموار کو جاری نوٹس میں کہا کہ ہماری بار بار کی گئی اپیل اور بات چیت کی کوششوں کے باوجود مظاہرہ کر رہے طلبا رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں اس لئے کیمپس میں گزشتہ  پانچ دنوں سے کام کاج پوری طرح سے ٹھپ ہے۔کالج کا کہنا ہے کہ  مظاہرہ نو جولائی کو اس وقت شروع ہوا تھا، جب طلبا نے فیکلٹی  کے ممبروں کو کالج میں داخل نہیں ہونے دیا۔

نوٹس میں کہا گیا تھا، ‘ ادارے کے ذریعے بار بار کی گئی گزارش کے باوجود طلبا نے اپنی غیر قانونی، غیراخلاقی، غیرمعقول سرگرمیاں اور کام میں رکاوٹ ڈالنا جاری رکھا۔ ادارے نے بعد میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حالات آگے اور خراب ہو سکتے ہے اور کیمپس کے اندر تمام طرح کی رکاوٹوں  کا امکان ہے۔ ‘

کالج نے کہا کہ ادارہ ان رکاوٹوں کے درمیان اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ طلبا، اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف سبھی کے لئے کیمپس کے اندر عام تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنا محفوظ اور عملی نہیں ہے۔

اسکرال ڈاٹ ان کی رپورٹ کے مطابق، اس بیچ راجیہ سبھا رکن پارلیامان الامارم کریم نے مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل رمیش پوکھریال نشنک کو خط لکھ‌کر ان سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کی۔

کریم نے کہا کہ طلبا کی تشویش  کی اہم وجہ ہاسٹل کی بڑھی ہوئی فیس ہے۔ طلبا نے الزام لگایا ہے کہ کالج نے بنا ٹینڈر جاری کئے غیراخلاقی طور سے ہاسٹل کی سروس کو کسی پرائیویٹ سروس  والے کو  آؤٹ سورس کیا ہے۔

کریم نے کہا کہ کالج گزشتہ تین سالوں میں اپنا کیمپس تین بار شفٹ کر چکا ہے اور موجودہ وقت میں یہ ایک پرائیویٹ اسکول کی بلڈنگ  میں ہے، جہاں کوئی سکیورٹی  نہیں ہے۔

انہوں نے  مزید کہا، ‘ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس معاملے میں مداخلت کریں اور ٹی آئی ایس ایس  کے طلبہ و طالبات کے ذریعے اٹھائے گئے تمام معاملوں کے حل کے لئے وابستہ انتظامیہ کو ہدایت دیں  اور جلد از جلد طلبا کی مانگوں کو قبول کریں۔’