خبریں

روی داس مندر معاملہ: بھیم آرمی چیف سمیت 96 لوگ 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجے گئے

سپریم کورٹ کی ہدایت پر ڈی ڈی اے نے 10 اگست کو تغلق آباد واقع سنت روی داس مندر کوگرا دیا تھا، جس کو لےکر مظاہرہ ہو رہے ہیں۔

دہلی کے سنت روی داس مندر کو گرائے جانے کے خلاف مظاہرہ کرتے دلت کمیونٹی کے لوگ(فوٹو : پی ٹی آئی)

دہلی کے سنت روی داس مندر کو گرائے جانے کے خلاف مظاہرہ کرتے دلت کمیونٹی کے لوگ(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے تغلق آباد حلقے میں مبینہ طور پر فساد کرنے اور غیر قانونی طور پر جمع ہونے کے الزام میں حراست میں لئے گئے بھیم آرمی چیف چندرشیکھر آزاد اور دیگر 95 کو جمعرات کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔تغلق آباد حلقے میں روی داس مندر کو گرائے جانے کے خلاف  مظاہرہ کے بعد ان کو بدھ کی رات کو حراست میں لیا گیا تھا اور گووندپوری تھانے میں آئی پی سی  کی الگ الگ دفعات میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔پولیس نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر 10 اگست کو ڈی ڈی اے نے جہانپناہ جنگل میں مندر کو گرا دیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ اسی مقام پر مندر بنانے کی مانگ کو لےکر رام لیلا میدان میں 10000 لوگ اکٹھا ہوئے تھے، لیکن مظاہرہ کے دوران تقریباً پانچ ہزار لوگوں نے آزاد کی رہنمائی میں مندر کی طرف مارچ کا منصوبہ بنایا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس لاٹھی اور چھڑیاں تھیں جن پر جھنڈے لگائے ہوئے تھے، وہ حکومت اور سپریم کورٹ کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔500 سال پرانا یہ مندر روی داسیا مذہب کے پیروکاروں کے لئے مقدس مقام ہے، جن میں سے زیادہ تر دلت ہیں۔مندر کو گرائے جانے کو لےکر فرقے کے کئی رہنماؤں کے ذریعے گووندپوری کے روی داس مارگ پر باقاعدہ  مظاہرہ کئے جا رہے ہیں۔ ان کی مانگ ہے کہ اسی مقام پر مندر دوبارہ تعمیر کی جائے۔پنجاب کے کئی حصوں میں بھی مظاہرہ ہو رہے ہیں، جہاں پر شاعر سنت روی داس کے پیروکار بڑی تعداد میں ہیں۔پچھلے ہفتہ عدالت نے پنجاب، ہریانہ اور دہلی کی حکومتوں کو یہ یقینی بنانے کو کہا تھا کہ لاء اینڈ آرڈر سے متعلق مسئلہ نہیں ہونے اور اس مدعا کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

ایف آئی آر میں مظاہرین کی تعداد 4000 سے 5000 بتائی جا رہی ہے لیکن مختلف میڈیا رپورٹس اور چشم دید گواہوں کے مطابق یہ تعداد دوگنی ہے۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ اس وقت شروع ہوئی، جب مظاہرہ کے طے شدہ مقام رام لیلا میدان کے بجائے مظاہرین نے مندر کی طرف مارچ کرنا شروع کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل بھیڑ نے بار بار دی گئی وارننگ پر کوئی دھیان نہیں دیا اور بغیر اکساوے کے ہی ان پر حملہ کر دیا۔حالانکہ مظاہرین نے دی وائر کو بتایا کہ ریلی پر امن تھی، کچھ لوگ موقع واردات پر جانا چاہتے تھے کیونکہ یہ ان کے لئے بہت ہی جذباتی مدعا ہے لیکن پولیس نے لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا۔

موقع واردات پر موجود دلت کارکنان نے کہا کہ ریلی پر امن تھی اور پولیس کے ذریعے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کرنے کے بعد ہی ہنگامہ شروع ہوا۔مظاہرین نے اس میں ایک بڑی سازش کا دعویٰ کیا ہے، جہاں پہلے تو رائٹ ونگ کارکن مظاہرین کے ساتھ جڑ گئے اور بعد میں ہنگامہ کرنا شروع کر دیا، جس سے یہ جھڑپ ہوئی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)