ادبستان

راہی معصوم رضا اپنی کتابوں میں نئے ہندوستان سے مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں …

راہی معصوم رضا نے ٹوپی شکلا کے پیش لفظ میں لکھا کہ ٹوپی شکلا میں ایک بھی گالی نہیں ہے مگر یہ پورا ناول ایک گندی گالی ہے جسے میں ڈنکے کی چوٹ پر بک رہا ہوں۔

Rahi-Masoom-Raza-1-e1515673275722

  راہی معصوم رضا ایک بااصول اور بے باک ادیب کےطور پرسر فہرست ہیں۔ سماجی اور سیاسی مسائل ، محفلوں میں ہونے والے مباحثے، وجودی بحران سے جوجھتا ہوا انسان، انسانی رشتوں کےبیچ حائل بے شمار وعدوں  اور معاہدوں کے درمیان راہی ایک بہترین مصور ہیں۔آج کےسماجی و سیاسی حالات  کے پس منظر میں راہی صاحب  بہت یاد آرہے ہیں۔ خاص طور پر جب  کہ ہندو مسلم تعلقات میں خلیج بڑھتی جارہی ہے اور فرقہ پرستی کی طناب ایک بار پھر سےپورے ملک میں پھیل رہی ہے۔ راہی نے مابعد تقسیم والی جنریشن کی ذہن سازی کرنے کی ہمت کی ۔ حالانکہ اس وقت یہ کام آسان نہیں تھا۔

 ایک باخبر ادیب کی طرح انھوں نے کہا کہ تقسیم ہند سے ہمارا مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ ہندوستان میں نفرت اور فرقہ پرستی پر مبنی سیاست کےعہد کی ابتدا ہوئی   ۔دونوں قوموں نے  اپنی اپنی تاریخ کو روشن بنانے کے فراق میں تاریخ کو مسخ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں سال کی مشترکہ تاریخ  اب ہندو  تاریخ اورمسلم تاریخ میں تقسیم ہوگئی۔ دونوں نے اپنے اپنے راجا اور ہیرو ، اپنی زبانیں ، اپنے لباس اور اپنے لوگ  چن لیے۔یہاں تک کہ خوابوں کی دنیا میں بھی بہت گھپلا ہوا، خواب  ہندو  اور مسلمان، خواب ہندوستانی اور پاکستانی ہوگئے۔

 راہی نے سیکولر اور جمہوری اقدار کی آبیاری کی ، ان کی کہنی اور کرنی میں فرق کرنا مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں تین ماؤں کا بیٹا ہوں:نفیسہ بیگم، گنگا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جن میں نفیسہ بیگم تو مر چکی ہیں لیکن گنگا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہیں۔ہمارے ارد گرد کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو اپنی مٹی کے تئیں اس حد تک دیوانے ہوں اور ایمان کی حد تک اس امر کے قائل ہوں؟

گنگا ندی ان کے لیے ایک سیکولراستعارہ ہے  جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے نزدیک مقدس ہے۔راہی  ایک بات ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ صاحب !دو ندیاں ملنے سے تین نہیں بلکہ ایک ہوجایا کرتی ہیں۔وہ اپنےعقیدے اور سماجی پوزیشن سے بھی  بخوبی واقف ہیں یعنی  ایک مسلمان اور سیکولر ہندوستانی!

ان باتوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے کہ مشہور زمانہ ٹی وی سیریل مہا بھارت  کے مکالمہ نویس اور ‘میں سمے ہوں’کی نہ ختم ہونے والی گونج کے خالق راہی صاحب ہیں۔

فوٹو: یوٹیوب

فوٹو: یوٹیوب

راہی کا مشہور زمانہ ناول   ٹوپی شکلا  ہندو مسلم تعلقات اور سیکولرزم کی عکاسی کرتا ہے۔اس میں انھوں نے متمول اور تعلیم یافتہ طبقے کے دوہرے اور منافقانہ کردار کا ماتم کیا  ہےکہ جو سیکولر ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں جب کہ وہ حقیقتاً  فرقہ پرست  ہیں۔ ٹوپی شکلا جو کہ سیکولر اور ہندوستانیت کی اقدار کا پرتو ہے ، اس منافقت کا شکار ہوجاتا ہے جس کا انجام خودکشی پر ختم ہوتا ہے۔آج یونیورسٹی اور کالجوں میں اساتذہ کے طرز فکر اور کیمپس میں ہونے والی منافقانہ پالیٹکس  سے نہ جانے کتنے ٹوپیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

وہ ٹوپی شکلا کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ خود کشی انسانی تہذیب کی ہار  ہوتی ہے، ٹوپی شکلا میں ایک بھی گالی نہیں ہے مگر یہ پورا ناول ایک گندی گالی ہے جسے میں ڈنکے کی چوٹ پر بک رہا ہوں۔راہی صاحب خوش نصیب تھے کہ انھیں اساتذہ  اور تعلیم یافتہ طبقے کے چھپے ہوئے فرقہ پرستی کے جذبات کو اجاگر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

وہ  آج زندہ  ہوتے تو  انھیں یہ محنت بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی  کیوں کہ اب یہ افرادخیموں میں تقسیم ہوچکے ہیں اورسیاسی پارٹیوں کے منشور لکھ رہے ہیں ۔ہمارے دور کی فرقہ پرستی نے نئی کروٹیں لی ہیں۔

  راہی صاحب دونوں قوموں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم ڈھونڈتے رہے ، وہ بتاتے رہے کہ دونوں قوموں کے بیچ رشتہ اٹوٹ ہے  ۔ انھوں نے ہندو مسلم رشتوں کو روز مرہ کی زندگی میں  جا کر سمجھانے کی کوشش کی۔ان کے رشتوں کی نفسیات کا نصاب ہمارے  نصاب سے ذرا مختلف ہے۔   کیوں کہ ہمارے والے نصاب میں جنونی ہجوم کا حد سے بڑھا ہوا تشدد ہے، ذات  اور فرقےکے نام پر جان لیوا حملے ہیں اور سماج کے مرکزی دھارے سے خارج افرادکا جم غفیر ہے۔   یہ سب کچھ آج ‘نارمل’ ہوگیا ہے۔

اور ایسا اس وجہ سے بھی ہورہا ہے کیوں کہ ہم نے اپنے حصے کا  کام ملک کے سیاست دانوں پر چھوڑ دیا ہے۔راہی صاحب آج یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہجوم کسی کانہیں ہوتا ، اس نے تو تہذیبوں کو نگل لیا ہے۔لہٰذا یاد رہے کہ جرمنی میں آج ہٹلر اور اس کی پارٹی کا ذکر بھی قابل جرم ہے حالانکہ  یہ وہ لوگ تھے جنھیں یہ غرہ تھا کہ ان کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا۔

Rahi-Masoom-Raza-e1515673325747

ضرورت اس بات کی ہے کہ پھر سے پرانے رشتوں کی ڈور کو تلاش کیا جائے اور ماضی کے مزاروں  کو آباد کیا جائے۔راہی صاحب اس بات  پر بضد تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات کی صدیوں پرانی تاریخ  ہے، خدا ر ا اسے نہ جھٹلا یا جائے۔   انھوں نے کہا کہ جدید ہندوستان کی کہانی میں تقسیم ہند ایک فل اسٹاپ ہے  جسے دربدری کی تاریخ  کے اوراق میں جلی حرفوں سے لکھاجاچکا ہے۔

  مگر کیا اس ملک کے ہندو اور مسلمان  اس المیے کواپنے لیے  ہمیشہ ہمیش کا تاریخی حوالہ بنالیں گے یا پھر  وہ اس سے  سبق حاصل کریں  گے  اور ایک اچھی اور مثبت سماجی  زندگی میں یقین رکھنے  کی ابتدا کریں گے؟ یہی وہ نصاب ہے جسے راہی ہمارے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں اور یہی وہ تعلیم ہے جو وہ ہمیں دینا چاہتے ہیں۔

راہی معصوم رضا کی تحریریں نئے ہندوستان کے  ہندو مسلم تعلقات کی سیاست  کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند ، سیکولرزم ، تہذیب  اور ‘ہندوستانیت’ جیسے موضوعات پر مبنی ہیں۔ان کی کتابوں میں  آدھا گاؤں ، ٹوپی شُکلا، ہمت جون پوری، نیم کا پیڑ، اوس کی بوند ،دل ایک سادہ کاغذ، کٹرہ بی آرزو، سین پچھتر اور اسنتوش کے دن  وغیرہ شامل  ہیں۔

(مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،  حیدرآباد، کے شعبہ سوشل ورک میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔)