خبریں

جموں و کشمیر: آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد حراست میں لیے 3 رہنماؤں کو رہا کیا گیا

جموں و کشمیر انتظامیہ نے 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد سے حراست میں لیے گئے 3 رہنماؤں یاور میر، نور محمد اور شعیب لون کو رہا کیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: جموں و کشمیر انتطامیہ نے 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد سے حراست میں لیے گئے 3 رہنماؤں کو جمعرات کو رہا کر دیا۔افسروں نے یہ جانکاری دی۔انھوں نے بتایا کہ  یاور میر، نور محمد اور شعیب لون کو مختلف بنیادوں پر رہا کیا گیا ہے۔میررفیع آباد اسمبلی سیٹ سے سابق ایم ایل اے رہ چکے ہیں، جبکہ لون نے کانگریس کے ٹکٹ سے شمالی کشمیر سے الیکشن لڑا تھا جس میں ان کو ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انھوں نے بعد میں کانگریس چھوڑ دی تھی۔ ان کو پیپلس کانفرنس چیف سجاد لون کا قریبی مانا جاتا ہے۔

 نور محمد نیشنل کانفرنس کے کارکن ہیں۔افسروں نے بدھ کو بتایا تھا کہ رہا کیے جانے سے پہلے نور محمد ایک حلف نامہ پر دستخط کر کے امن و امان بنائے رکھنے اور اچھا سلوک کرنے کا وعدہ کریں گے۔اس سے پہلے گورنر نے پیپلس کانفرنس کے عمران انصاری اور سید اخون کو خراب صحت کی وجہ  سے 21 ستمبر کو رہا کیا تھا۔

غور طلب ہے کہ جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے 5 اگست کے فیصلے کے بعد رہنماؤں، علیحدگی پسندوں ، کارکنوں اور وکیلوں سمیت ہزار سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ان میں 3 سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔

تقریباً 250 لوگ جموں و کشمیر کے باہر جیل بھیجے گئے۔ فاروق عبداللہ کو بعد میں پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا جبکہ دیگر رہنماؤں کو سی آر پی سی کے تحت حراست میں لیا گیا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)