خبریں

تنخواہ میں اضافے کی مانگ کو لے کر ایچ اے ایل ملازم غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر

سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈکے ملازمین‎ نے تنخواہ میں ترمیم سمیت کئی مانگوں کو لےکر انتظامیہ سے بات چیت میں ناکام رہنے کے بعد یہ فیصلہ لیا ہے۔ ملک بھر میں ایچ اے ایل کی نو اکائیوں کے ملازم 14 اکتوبر سے ہڑتال پر رہیں‌گے۔

 (فوٹو :رائٹر)

(فوٹو :رائٹر)

نئی دہلی: سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ(ایچ اے ایل)کے ملازمین نے سوموار سے غیر معینہ مدت ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا ہے۔ ملازمین‎ کی تنخواہ  میں ترمیم سمیت کئی مانگوں کو لےکر انتظامیہ سے مذاکرہ ناکام رہنے کے بعد ہڑتال پر جانے کا فیصلہ لیاگیا۔ہندوستان ایروناٹکس نے بتایا کہ ہڑتال کو ٹالنے کی تمام کوششوں کے درمیان ملازمین‎ نے غیر معینہ مدت ہڑتال پرجانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسٹاف یونین کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ انتظامیہ نے ان کی مناسب اورمعقول مانگ پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ اسٹاف تنظیموں نے ایچ اے ایل کے تمام مراکز کو نوٹس بھیج‌کر ایک جنوری 2017 سے تنخواہ کی ری شیڈولنگ کی مانگ‌کی حمایت میں 14 اکتوبر سے غیر معینہ مدت ہڑتال پر جانے کی ہدایت دی ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انتظامیہ نے اس سے پہلے کہا تھا، ‘اس مجوزہ غیر معینہ مدت ہڑتال سے عام طور پر کمپنی کی کارکردگی اور خاص طورپر ملازمین‎ پر منفی اثر پڑے‌گا۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی کےمفاد میں اور مسلح افواج کے بیڑے کی خدمت (فلیٹ سروس)کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، یہ ضروری ہے کہ ملازم اس طرح کی غیر قانونی ہڑتال نہ کرے اور انتظامیہ کےذریعے مہیا کرائے گئے مناسب تنخواہ ترمیم سے رضا مند ہو جائے۔ ‘

ٹریڈ یونینس کے اہلکاروں اور افسروں کے درمیان ان کریمنٹ میں امتیاز کرنےکو لےکر سوال کھڑے کر رہے ہیں۔ ایچ اے ایل کی اسٹاف یونین تنخواہ میں ترمیم کی مانگ‌کر رہی ہیں۔ ایچ اے ایل انتظامیہ نے اہلکاروں کی کل تنخواہ میں آٹھ فیصد کا اضافہ کی پیشکش کی ہے۔ ٹریڈ یونینس کے افسروں کی تنخواہ میں یکمشت کیا گیا 35 فیصدی اضافہ کے برابر تنخواہ بڑھانے کی مانگ‌کر رہےہیں۔امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق، ملازم 2017 میں تنخواہ کو لےکر ہوئے سمجھوتہ کو نافذ کرنے کی مانگ‌کر رہے ہیں۔ ایک یونین کے صدر نے کہا، ‘ایچ اے ایل کے منتظمین کی تنخواہ 35 فیصد کے حساب سے بڑھائی گئی ہے۔ ہم مساوات کی مانگ‌کررہے ہیں۔ ‘

اپنے بیان میں ایچ اے ایل کا کہنا ہے، ‘انتظامیہ کے ایک دوستانہ/شروعاتی تنخواہ سمجھوتہ کو لےکر کی جا رہی ٹھوس  کوششوں کے باوجود بدقسمتی سے یونین نے ضدی رویہ اپناتے ہوئے آفر کو منظور نہیں کیا اور غیر معینہ مدت ہڑتال پر جانے کا فیصلہ لیا ہے جبکہ انتظامیہ نے ان سے اس مدعا کو پر امن طریقے سے سلجھانے کی اپیل کی تھی۔’اتوار کو جنرل سکریٹری اور آل انڈیا ایچ اے ایل ٹریڈ ایسوسی ایشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیف کنوینر سوریہ دیو چندرشیکھر نے کہا، ‘جیسا کہ پہلے طےکیا ہوا تھا، ایچ اے ایل اکائی کے تمام ملازم 14 اکتوبر، 2019 سے اپنی غیرمعینہ مدت ہڑتال شروع کریں‌گے۔ ‘

ٹریڈ یونین نے انتظامیہ کو 30 ستمبر کو ہی نوٹس دےکر مطلع کر دیا تھا کہ ملک بھر میں ایچ اے ایل کی نو اکائی 14 اکتوبر سے ہڑتال پر ہیں۔ یہ ہڑتال اس لئے ہو رہی ہےکیونکہ ملک بھر کے تقریباً 20 ہزار ملازمین‎ کی تنخواہ بڑھانے کو لےکرجاری مذاکرہ ناکام ہوگیا۔ایچ اے ایل انتظامیہ نے آل انڈیا ایچ اے ایل ٹریڈ ایسوسی ایشن کوآرڈینیشن کمیٹی کی مجوزہ غیر معینہ مدت ہڑتال کو غیر قانونی بتایا ہے اور قومی سلامتی کےمدنظر خبردار کیا۔

 ایچ اے ایل نے بیان میں کہا، ‘مذاکرہ کے دوران مزدوری مذاکرہ کمیٹی نےملازمین‎ / تنظیم اورملک کے مفاد کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کسی بھی ہڑتال / تحریک کا سہارا لینے کے برےاثر سے یونین کو واقف کرایا تھا۔ ‘انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ ہڑتال سے تنظیم کی کارکردگی پر منفی اثرپڑے‌گا۔ واضح ہو کہ ایچ اے ایل کے ملک بھر میں 16 مینوفیکچرنگ پلانٹ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹرس بھی ہیں جن میں 30 ہزار سے زیادہ ملازم کام کر رہے ہیں۔

 (خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)