خبریں

ایودھیا تنازعہ: یوپی کے ڈی جی پی نے کہا-تقریباً 12 ہزار لوگ ہمارے رڈار پر، 500 لوگ گرفتار

ڈی جی پی نے کہا،فیلڈ کے بعد ہمارا سب سے زیادہ دھیان سوشل میڈیا پر ہے اور اس کے لیے باقاعدہ  ایک ٹیم کو تعینات کیا گیا ہے۔ ابھی تک ایسے 1659 لوگوں کے سوشل میڈیااکاؤنٹ کو ہم نے نگرانی میں رکھا ہے، جن سے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے  والی پوسٹ کی جا سکتی ہیں۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

نئی دہلی : ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مدنظر اتر پردیش ،بالخصوص ایودھیا میں احتیاط  کے طور پرخاص تیاری کی جارہی ہے۔ اترپردیش  کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے اکانومک ٹائمس سے ایک انٹرویو میں کہا  کہ پولیس تقریباً1659 لوگوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نظر رکھ رہی ہے اور ضرورت پڑی تو انٹرنیٹ خدمات  معطل کی جا سکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے آج یوپی کے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کو بلایا ہے۔ بتایا جارہا ہے اس ملاقات میں  ایودھیا میں سکیورٹی کی صورت حال  پر بات  ہونی ہے۔

ڈی جی پی نے بتایا ہے کہ پولیس فورس کو صاف ہدایت  ہے کہ ہر قیمت پر امن و آشتی  برقرار رہنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ، ہم پیدل گشت کر رہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ دھرم گروؤں کے ساتھ میٹنگ  کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ، ہم نے گزشتہ کچھ دنوں میں تقریباً6000 امن مذاکرات  کی ہیں اور 5800 دھرم گروؤں سے ملاقات کی  ہے۔ ہم فوج  اور ایئر فورس  کے رابطے میں بھی  ہیں۔

ڈی جی پی  اوپی سنگھ نے جانکاری دیتے ہوئےکہا کہ ، ہمارے رڈار پر ابھی تک تقریباً10 ہزار لوگ آئے ہیں اور ہم نے انہیں سی آر پی سی کے تحت پابند کیا ہے، تاکہ وہ اپنے مقصد  میں کامیاب  نہ ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 500 سے زیادہ لوگوں کو جیل بھیجا جا چکا ہے۔ اکانومک ٹائمس سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ،فیلڈ کے بعد ہمارا سب سے زیادہ دھیان سوشل میڈیا پر ہے اور اس کے لیے باقاعدہ  ایک ٹیم کو تعینات کیا گیا ہے۔ ابھی تک ایسے 1659 لوگوں کے سوشل میڈیااکاؤنٹ کو ہم نے نگرانی میں رکھا ہے، جن سے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے  والی پوسٹ کی جا سکتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ،’اگر ہمیں ضرورت محسوس ہوئی تو انٹرنیٹ کو معطل  کیا جا سکتا ہے۔ مگر ابھی ایسی کوئی ضرورت نہیں لگتی۔’ انہوں نے مزید بتایا، ‘ہم نے ایودھیا سمیت کچھ حساس مقامات کی پہچان کی ہے جہاں سے آنے جانے والے لوگوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔’ڈی جی پی او پی سنگھ نے اکانومکس ٹائمس سے کہا کہ، بھیڑپر قابو رکھنا اور افواہوں کو روکنا ہماری اولین  ترجیحات  میں سے ہے۔ ہم نے مرکز سے سی آر پی ایف  کی مانگ کی ہیں اور ابھی تک 40 کمپنیاں ہمیں مل چکی ہیں۔ 70 کمپنی کی اور ضرورت ہے۔ یہ کمپنیاں پی اے سی اور پولیس کے علاوہ تعینات رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے دوہرا چیلنج  ہے کیونکہ ایودھیا میں یہ وقت  تیوہاروں کا ہے۔ اس وقت وہاں ‘پنچکوسی پری کرما’ چل رہی ہے۔ 10 نومبر کو عید میلادالنبی  ہے اور 11-13 نومبر تک کارتک پورنما کامیلہ ہے، جہاں عقیدت مند سریو ندی میں غسل کریں گے۔ ہم پوری طرح سے تیار ہیں اور سبھی انعقاد  امن کے ساتھ نپٹ لیں گے۔وہیں دینک بھاسکر کی ایک خبر کے مطابق،ایودھیا تنازعے پر سپریم کورٹ  کے فیصلے سے پہلےمرکزی حکومت نے جمعرات  کو سبھی ریاستوں  سے الرٹ رہنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی  اپنانے کی ہدایت دی ہے۔

بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق،حکومت کی ہدایت پر وہاٹس ایپ نے ایک مہینے میں ملک  بھر میں 20 لاکھ وہاٹس ایپ گروپ اور اکاؤنٹ بند کر دیے، ہیں۔وہاٹس ایپ کے ترجمان کے حوالے سے بھاسکر نے لکھا ہے کہ ، ایودھیا فیصلے کے مد نظر اپنے پلیٹ فارم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے آرٹی فیشیل انٹلی جنس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے مشکوک سرگرمیوں  والے گروپس اور نمبروں کی پہچان کر کے انہیں بلاک کیا جا رہا ہے۔

 فیس بک کے دہلی واقع دفتر نے بھی ان ہدایات پر عمل کرنے کی بات کہی ہے۔ حکومت  وہاٹس ایپ، ٹوئٹر،  فیس بک کے علاوہ ٹیلی گرام اور سگنل جیسے نئے ایپ پر بھی نظر رکھے ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق،نفرت پھیلانے والے لوگوں کا ایک بڑا طبقہ ایسے ہی نئے ایپ کے ذریعے گڑبڑی کر رہا ہے۔ ان سے نپٹنے کے لیے وزارت داخلہ  کی انٹرنل سکیورٹی ونگ نے وسیع پیمانے پر تیاری کی ہے۔