ادبستان

گرونانک کے 550 ویں یوم پیدائش پر اردو شاعری کے کچھ خاص رنگ

اردو میں گرونانک پر متعدد نظمیں کہی گئی ہیں ،آج ان کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر اردو شاعری کے  چند رنگ ملاحظہ فرمائیں۔

فوٹو : سوشل میڈیا

فوٹو : سوشل میڈیا

گرو نانک پر اردو میں ایک اہم نظم نظیر اکبرآبادی کی بھی ہے۔جس کاعنوان گرو نانک جی کی مدح ہے۔ علامہ اقبال نے نانک  کو مرد کامل کہا تھا تو نظیر نے ان کو کامل رہبر کا نام دیا۔

ہیں کہتے نانک شاہ جنھیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو

وہ کامل رہبرجگ میں ہیں یوں روشن جیسے ماہ گرو

مقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرو

نِت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرو

اِس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

نظیر  اکبرآبادی کی نظم کا یہ حصہ بھی ملاحظہ کیجیے؛

ہر آن دلوں بیچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا لاتے ہیں

اور سیوک ہو کر ان کے ہی ہر صورت بیچ کہاتے ہیں

کر اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین اسے دکھلاتے ہیں

خوش رکھتے ہیں ہر حال انھیں سب من کا کاج بتاتے ہیں

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابانانک شاہ گرو

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

جو آپ گرو نے بخشش سے اس خوبی کا ارشاد کیا

ہر بات وہی اس خوبی کی تاثیر نے جس پر صاد کیا

یاں جس جس نے ان باتوں کو ہے دھیان لگا کر یاد کیا

ہر آن گرو نے دل ان کا خوش وقت کیا اور شاد کیا

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

نظیر نے اپنی اس نظم میں بتایا ہے کہ اگر صدق دل سے نانک  کو یاد کیاجائے تو اس کا ہر مقصد پورا ہوتا ہے؛

 دن رات سبھوں نے یاں دل دے ہے یاد گرو سے کام لیا

سب منکے مقصد بھر پائے خوش وقتی کا ہنگام لیا

دکھ درد میں اپنے دھیان لگا جس وقت گرو کا نام لیا

پل بیچ گرو نے آن انھیں خوشحال کیا اور تھام لیا

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

گرو نانک کن لوگوں کو آنند عنایت کرتے ہیں ، اس کی تصویر  نظیرنے یوں اتاری ؛

جو ہر دم ان سے دھیان لگا امید کرم کی دھرتے ہیں

وہ ان پر لطف و عنایت سے ہر آن توجہ کرتے ہیں

اسباب خوشی اور خوبی کے گھر بیچ انھوں کے بھرتے ہیں

آنند عنایت کرتے ہیں سب من کی چنتاہرتے ہیں

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

اسی طرح علامہ اقبال کی مشہور نظم نانک کی یاد آتی ہے کہ؛

قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروانہ کی

قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی

آہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر

غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر

آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا

ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا

شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی

بارش رحمت ہوئی،لیکن زمیں قابل نہ تھی

آہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے

درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے

برہمن سرشار ہے اب تک اسی پندار میں

شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں

بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا

نور ابراہیم سے آذر کا گھر روشن ہوا

پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے

ان دونوں شعرا سے الگ جگن ناتھ آزادنے گرونانک کو ابر کرم کہا اور بڑی خوبصورتی سے لکھاکہ ؛

تو اک ابر کرم تھا جو زمان خشک سالی میں

دیار ہند پر برسا محیط بیکراں ہو کر

زمین کشور پنجاب کی تقدیر کیا کہیے

چمک اٹھا ہر اک ذرہ حریف کہکشاں ہو کر

تلوک چند محروم نے نانگ کو تصویر رحمت قرار دیا اور اپنی عقیدت کو یوں نظم کیا؛

تری توقیر سے توقیر ہستی ہے گرو نانک

تری تنویر ہر ذرے میں بستی ہے گرو نانک

تری جاگیر میں عرفاں کی مستی ہے گرو نانک

تری تحریر اوج حق پرستی ہے گرو نانک

تری تصویر سے رحمت برستی ہے گرو نانک

ظہورستان رحمت ہے کہ یہ تصویر ہے تیری

کوئی نقش حقیقت ہے کہ یہ تصویر ہے تیری

عیاں صبح سعادت ہے کہ یہ تصویر ہے تیری

دل مضطر کی راحت ہے کہ یہ تصویر ہے تیری

تری تصویر سے رحمت برستی ہے گرو نانک

آنند نرائن ملانے یہ نظم گرونانک کےپانچ سو سالہ جشن پیدائش کے موقع پر پٹنہ میں کہی تھی؛

کثافت زندگی کی ظلمت میں شمع حق ضو فشاں ہو کیسے

جہاں کی بجھتی ہوئی نگاہوں کو جگمگاتا ہے بام نانک

نہ پاک کوئی نہ کوئی ناپاک کوئی اونچا نہ کوئی نیچا

گرو کا یہ مے کدہ ہے اس جا ہر اک کو ملتا ہے جام نانک

یہاں مٹے آ کے تفرقے سب رہی نہ آلودگی کوئی بھی

یہ حرف الفت، یہ طور عرفاں، یہ عرش انساں، یہ نام نانک

اسی طرح جاوید وششٹ کی نظم ذکر نانک میں نانک کو کچھ یوں یاد کیا گیا ہے؛

ذکر نانک پہ سر جھکاتا ہوں

پھر میں لوح و قلم اٹھاتا ہوں

نکہت نو بہار آئی ہے

اس کا سندیس ہی تو لائی ہے

ذات اس کی ہے چشمہ عرفاں

نام اس کا ہے نانک دوراں

نام نانک کا جام امرت کا

آج نانک ہے نام امرت کا

رازداں زندگی فطرت کا

آشنا درد آدمیت کا

اشک شبنم ہے وہ گل تر ہے

درد انسانیت کاپیکر ہے

وہ گرو ا ک دماغ روشن ہے

معرفت کا چراغ روشن ہے

یہ سنہری کلس، یہ گرودوارے

سب ہیں انسانیت کے گہوارے

ان میں گونجے ہے وہ مدھر بانی

جس طرح جل ترنگ میں پانی

روح کو فتح مند اس نے کیا

حق کا پرچم بلند اس نے کیا

درس توحید کا دیا سب کو

مل گیا جیسے اک دیا سب کو

منور لکھنوی نے نانک کی تکریم شوالے میں بھی کی اور خانقاہوں میں بھی ان کی تعظیم کی ، انہوں نے کہا؛

ہر شوالے میں تکریم نانک کی تھی

خانقاہوں میں تعظیم نانک کی تھی

پاک سے پاک تنطیم نانک کی تھی

درس نانک کا تعلیم نانک کی تھی

منزلت یہ بنائے مباہات ہے

پانچ سو سال پہلے کی یہ بات ہے

بسمل سعیدی دہلوی کی رطاعی میں  نانک اس طرح آئے ،

کیا درس ہے وہ درس جو اقوال میں ہے

حکمت سی وہ حکمت ہے جو اعمال میں ہے

وہ قول ہو تیرا کہ عمل ہو، نانک

بے مثل وہ اس عالم امثال میں ہے

رام کشن مضطر نے گرو نانک کے وجود میں کائنات کی روشنی تلاش کی اور کہا؛

مثل خورشید جہاں تاب تھا نانک کا ظہور

تیرگی دور ہوئی پھیل گیا نور ہی نور

اک تجلی سے ہوا سینۂ گیتی معمور

ایک آواز نے بخشا ابدیت کا شعور

حق کی تعلیم سے انسان کو جب گیان ہوا

ایک ہے سب کا خدا سب کو یہ عرفان ہوا

بسمل ایمن آبادی نے تونانک نام کی ہی تشریح لکھ ڈالی اور کہا؛

 نون سے نور خدا روشن ہے تیرے نام پر

ہے الف اللہ اکبر کا علم با کرو فر

کن کو الٹا صاف تیرا نون کاف آیا نظر

مرحبا اے عالی چشم عالی نسب عالی گہر

چار دانگ عالم میں تیرے نام کی کیا دھوم ہے

جو ترا خادم ہو وہ اب بن گیا مخدوم ہے

اندرجیت گاندھی ذات نانک کے عنوان سے لکھا؛

اے گو رو نانک، مسیحائے زماں

فخر عالم، نازش ہندو ستاں

ذات تیری مایۂ تقدیس تھی

معتقد کیوں کر نہ ہو تیرا جہاں

پورن سنگھ ہنر امرتسری نے حق و باطل کے درمیان نانک نام دلیل حق کے طور پر نظم کیا ، انہوں نے لکھا؛

اجالا نور حق کا ہوگیا سارے زمانے میں

کہ باطل کے لیے اک تیغ آتش بار نانک تھے

ساحر ہوشیار پوری نے نانک کو فرشتہ ، مرشد اور رہبر اعظم کے طور پر یادکیا؛

ایسا انسان کہ فرشتے کا یقیں ہو جس پر

ایسا مرشد کہ جسے مرشد کامل مانیں

ایسا رہبر کہ جسے رہبر اعظم کہیے

یوں تو اردو شاعری میں نانک کی عظمت کے ترانے خوب گائے گئے ہیں ، لیکن یہاں چند خاص رنگوں کو محسوس کرتے  ہوئے  بانو سرتاج کی نظم ملاحظہ کیجیے؛

فلک تھال ہے چاند سورج دیے ہیں

ستاروں کے جھرمٹ یہ موتیوں سے ہیں

جو ہے دھوپ خوشبوئے کہسار بھی ہے

تو جھونکے ہوا کے چنور کر رہے ہیں

نباتات میں پھول بے غم سماں ہیں

تیری آرتی میں یہ سب خود لگے ہیں