خبریں

70 سال میں آئین میں کی گئی 103 ترمیم، صرف ایک کو سپریم کورٹ نے بتایا غیر آئینی

راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے صرف 99ویں آئینی ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اکتوبر 2015 میں ججوں کے ذریعے ججوں کی تقرری کے 22 سال پرانے کالیجئم سسٹم کی جگہ لینے والے نیشنل جوڈیشل اپائنمنٹ کمیشن، 2014 کو رد کر دیا تھا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ہندوستانی پارلیامنٹ نے آئین میں 70 سال کے دوران 103 بار ترمیم کئے اور اس میں صرف ایک ترمیم کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا۔ پہلا اور آخری، دونوں آئینی ترمیم سماجی انصاف سے متعلق تھے۔ راجیہ سبھا سیکرٹیریٹ کے ذریعے جاری ایک ریلیز  کے مطابق، دستور ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1949 کے دن ہندوستان کے آئین کو اپنایا تھا، جس کو ہرسال یومِ آئین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سال آئین کو تسلیم کئے جانے کی 70ویں سالگرہ ہے۔

یومِ آئین کے موقع پر منگل کو پارلیامنٹ کے سینٹرل ہال میں منعقد خصوصی پروگرام میں صدر جمہوریہ  رامناتھ کووند، نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبروں اور مدعو لوگوں کو خطاب کریں‌گے۔ راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے جاری بیورے کے مطابق، آئین میں پہلی ترمیم 1951 میں عارضی پارلیامنٹ نے پاس کیا تھا۔ اس وقت راجیہ سبھا نہیں تھی۔ اس کے بعد سے اب تک 103 ترمیم کئے جا چکے ہیں۔

راجیہ سبھا سکرٹیریٹ نے بتایا کہ پہلی ترمیم کے تحت ‘ ریاستوں ‘ کو سماجی اور اقتصادی طور پر پچھڑے طبقوں یاایس سی ایس ٹی کے احیا کے لئے مثبت قدم اٹھانے کا حق دیا گیا تھا۔ آئین میں کی گئی آخری 103ویں ترمیم 2019 میں اقتصادی طور پر پچھڑے طبقوں کو تعلیمی اداروں اور تقرری میں 10 فیصدی ریزرویشن دینے سے متعلق تھا۔

ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ نے صرف 99ویں آئین ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ یہ ترمیم نیشنل جیوڈیشیل کمیشن کی تشکیل سے متعلق  تھا۔ سپریم کورٹ نے 16 اکتوبر 2015 کو ججوں کے ذریعے ججوں کی تقرری کی 22 سال پرانے کالیجئم سسٹم کی جگہ لینے والے این جے اے سی قانون، 2014 کو رد کر دیا تھا۔

پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے چار-ایک کی اکثریت سے دئے فیصلے میں این جے اے سی قانون اور آئین (99 ویں ترمیم) قانون، 2014 دونوں کو غیر آئینی اور ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ اس کے بعد سال 2018 میں سپریم کورٹ نے این جے اے سی قانون کو رد کرنے والے اس کے 2015 کے فیصلے پر نظرِثانی کی مانگ والی عرضی 470 دن کی دیری کئے جانے کی بنیاد پر خارج کر دی تھی۔

راجیہ سبھا، جس کی تشکیل 1952 میں ہوئی، اس کے بعد سے ایوانِ اعلیٰ نے 107 آئینی ترمیم بل پاس کئے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک بل کو لوک سبھا نے نامنظور کیا، جبکہ چار آئینی ترمیم بل نچلے ایوان کی تحلیل ہونے کی وجہ سے غیربے اثر ہو گئے۔ راجیہ سبھا نے 1990 میں پنجاب میں صدر راج لگانے سے متعلق بل منظور کیا تھا، جس کو لوک سبھا نے نامنظور کر دیا تھا۔

ریلیز  میں آگے کہا گیا کہ لوک سبھا نے 106 آئینی ترمیم بل پاس  کئے ہیں، جس میں سے تین بلوں کو راجیہ سبھا نے نامنظور کر دیا تھا۔ ان میں 1970 میں اس وقت کے دیسی ریاستوں کے سابق حکمرانوں کے پریوی پرس اور خصوصی اختیارات کو ختم کرنے والا بل اور 1989 میں پنچایتوں  اور شہر اکائیوں اور شہر پنچایت میں سیدھا انتخاب کرانے کے لئے لائے گئے دو بل شامل ہیں۔

اس سے پہلے وینکیا نائیڈو نے راجیہ سبھا کی اشاعت ‘ راجیہ سبھا : دی جرنی سنس 1952 ‘ کا اجرا کیا۔ دستور ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1949 کو آئین بناکو اس کو اپنایا  تھا اور 26 جنوری 1950 کو آئین نافذ کیا گیا۔