خبریں

حیدر آباد: پولیس کا دعویٰ-ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے چاروں ملزم انکاؤنٹر میں مارے گئے

گزشتہ 27 نومبر کو تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد کے باہری علاقے میں سرکاری اسپتال میں کام کرنے والی ایک خاتون ڈاکٹر کا 4 نوجوانوں نے ریپ کے بعد قتل کر دیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآبادمیں ایک خاتون ویٹنری ڈاکٹرکے ریپ اور قتل کے چاروں ملزم کے ایک انکاؤنٹر میں مارے جانے کا دعویٰ پولیس نے کیا ہے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ سبھی ملزم بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے اور پولیس فائرنگ میں مارے گئے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق،حیدرآباد پولیس کے سینئر افسر انکاؤنٹر کی جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں ملزمین کو جائے واردات پر لے جایا گیا تھا،جہاں ان لوگوں نے خاتون ڈاکٹر کا ریپ کے بعد قتل کر دیا تھا۔اس دوران چاروں بھاگنے کی کوشش کرنے لگے اور پولیس کی فائرنگ میں مارے گئے۔

حیدرآباد کے سائبرآباد پولیس کمشنروی سی سجنارنے اے این آئی سے کہا،’سبھی ملزم محمد عارف،نوین،شیوااور چیناکیشوولو جمعہ تڑکے 3 بجےکے بیچ شادنگرکے چتن پلی کے پاس پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے۔معاملے کی تفصیلی جانکاری جلد دی جائے گی۔

ادھر خاتون ڈاکٹر کے والد نے کہا،’میری بیٹی کی موت کو 10 دن ہو گئے۔میں نے پولیس اور حکومت کے تئیں اپنا شکریہ ظاہر کیا ہے۔اب میری بیٹی کی روح کو سکون مل جائے گا۔’

بتا دیں کہ گزشتہ 27 نومبر کی رات میں حیدرآباد شہر کے باہری علاقے میں سرکاری اسپتال میں کام کرنے والی 25 سالہ  خاتون ڈاکٹر سے  4 نوجوانوں نے ریپ کر کےاس کا قتل کر دیا تھا۔چاروں نوجوان لاری مزدور ہیں۔اس جرم کے سلسلے میں چاروں ملزم نوجوانوں کو 29 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اگلے دن 30 نومبر کو ان سبھی کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔

خاتون ڈاکٹر کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر درج کرنے میں لاپرواہی برتنے کے معاملے میں 3 پولیس اہلکاروں کو برخاست بھی کیا جا چکا ہے۔ 27 نومبر کی رات خاتون ڈاکٹر لاپتہ ہو گئی تھیں اور اگلی صبح ان کی جلی ہوئی لاش حیدرآباد کے شادنگر میں ایک زیر تعمیر فلائی اوور کے نیچے ملی تھی۔

الزام ہے کہ 27 نومبر کی شام چاروں ملزمین نے جان بوجھ کر خاتون ڈاکٹر کی اسکوٹی پنکچر کی تھی اور پھر مدد کے بہانے ان کے ساتھ ریپ کیا اور قتل کر دیا۔پھر لاش کو جلا دیا۔