خبریں

نارتھ ایسٹ میں مظاہرے کے بیچ  حکومت نے ’ملک مخالف‘ نشریات کو لے کر  چینلوں کو آگاہ کیا

وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ سبھی ٹی وی چینلوں کو صلاح دی جاتی ہے کہ وہ ایسے مواد کے متعلق خاص طور پر احتیاط برتیں، جن سے تشدد پھیل سکتا ہو یا لاءاینڈ آرڈر بنائے رکھنے میں مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو یا پھر ایسے واقعات جو ملک مخالف عمل کو بڑھاوا دے رہے ہوں۔

تریپورہ کی راجدھانی اگرتلا میں شہریت ترمیم بل کی مخالفت میں مظاہرہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

تریپورہ کی راجدھانی اگرتلا میں شہریت ترمیم بل کی مخالفت میں مظاہرہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزارت اطلاعات و نشریات نے سبھی  ٹی وی چینلوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے مواد کے نشریات کو لےکر احتیاط برتیں جن سے تشدد ہونے یا پھیلنے کا خدشہ ہو۔ حکومت کی طرف سے یہ ہدایت ایسے وقت میں آئی ہیں جب پارلیامنٹ میں شہریت ترمیم بل پاس ہونے کے بعد آسام اور تریپورہ جیسی نارتھ ایسٹ  ریاستوں میں  مظاہرہ اور تشدد دیکھنے کو مل رہا ہے۔

حکومت کی طرف سے ٹی وی چینلوں کو جاری ہدایت

حکومت کی طرف سے ٹی وی چینلوں کو جاری ہدایت

بدھ کو ٹی وی چینلوں کو جاری کی گئی ہدایات میں وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا، ‘ ایک بار پھر سے تمام ٹی وی چینلوں کو صلاح دی جاتی ہے کہ وہ ایسے مواد کے متعلق خاص طور پر احتیاط برتیں، جن سے تشدد کو حوصلہ ملتا ہو یا اس سے تشدد بھڑکتا ہو، یا نظم و نسق بنائے رکھنے میں مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو یا پھر ایسے واقعات جو ملک مخالف عمل کو بڑھاوا دے رہے ہوں۔ ‘

وزارت نے کہا کہ یہ مشورہ ‘ ان تمام مواد پر نافذ ہوتا ہے، جو ملک کے اتحاد کو متاثر کرتے ہیں اور اس لئے یہ یقینی بنائیں کہ ایسا کوئی بھی مواد نشر نہ ہو جو ان کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ‘ جاری ہدایت میں آگے کہا گیا ہے، ‘ سبھی نجی سیٹیلائٹ ٹی وی چینلوں سے گزارش  کی جاتی ہے کہ وہ اس مشورہ پر سختی سے عمل کریں۔ ‘

حکومت کی ان ہدایات کی حزب مخالف نے مخالفت کی ہے۔ راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس رکن پارلیامان ڈیریک او براین نے جمعرات کو وزارت کی ان ہدایات کے خلاف وقفہ صفر کا نوٹس دیا۔ پہلے بھی وزارت اطلاعات و نشریات کئی مواقع پر نجی ٹی وی چینلوں کے لئے ہدایت جاری کرتی رہی ہے، جس میں پروگرام اور نشریات کوڈ کے تحت طےشدہ مواد کی  نشریات کو لےکر سخت عمل کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔

پارلیامنٹ نے بدھ کو شہریت ترمیم بل کو منظوری دے دی، جس میں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے مذہبی استحصال  کی وجہ سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی کمیونٹی کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت عطا کرنے کا اہتمام ہے۔ بل کے حق میں 125 ووٹ پڑے جبکہ 105 ممبروں نے اس کے خلاف ووٹ  کیا۔

شہریت ترمیم بل کو منظوری ملنے کی مخالفت میں جاری مظاہرہ کے مدنظر آسام کی راجدھانی گوہاٹی اور ڈبروگڑھ میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو لگا دیا گیا، جبکہ تریپورہ میں آسام رائفلس کے جوانوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان ریاستوں کے لئے جانے والی ٹرینوں اور ہوائی جہازوں کو رد کر دیا گیا ہے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)