خبریں

ہیمنت سورین کی کمیونٹی کو لے کر قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر رگھوبر داس کے خلاف معاملہ درج

جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے رہنماہیمنت سورین کی شکایت پر رگھوبر داس کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔الزام ہے کہ رگھوبر داس نے ایک انتخابی ریلی کے دوران سورین کی کمیونٹی کو لے کر قابل اعتراض تبصرہ  کیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی :جھارکھنڈ مکتی مورچہ کےرہنما ہیمنت سورین کی کمیونٹی کو لےکر مبینہ طورپر قابل اعتراض بیان دینے کو لےکرجھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جےپی رہنما رگھوبر داس کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔جامتاڑہ کے ایس پی انشمن کمار نے بتایا کہ 19 دسمبر کو سورین کی شکایت  پر پولیس افسر اروند اپادھیائے نے معاملے کی جانچ کی اور مہجام پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ایس پی کے مطابق، سورین نے دمکا تھانے میں داس کے خلاف شکایت درج کرائی تھی اور ان پر جامتاڑا میں ایک انتخابی ریلی میں ان کی کمیونٹی پرقابل اعتراض  بیان دینے کاالزام لگایا تھا۔

سورین  نے کہا، ‘میں نے رگھوبر داس کے خلاف دمکا میں ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے (رگھوبر داس)بدھ (18 دسمبر)کو جامتاڑا کے مہجام میں ایک انتخابی ریلی کے دوران میری کمیونٹی پر قابل اعتراض تبصرہ  کیا تھا۔ ان کے لفظوں  سے میرے جذبات اوروقارکو ٹھیس پہنچا ہے۔ کیا آدیواسی فیملی  میں پیدا ہونا جرم  ہے؟’

ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے آئی پی سی  کی دفعہ 504، 506 اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ یہ معاملہ جامتاڑا ضلع کے مہجام پولیس تھانے میں درج کیا گیا اور جانچ ایس ڈی پی او اروند اپادھیائے کو سونپ دی گئی ہے۔

سورین نے صحافیوں سے کہا، ‘انہوں نے کمیونٹی کو نشانہ بنانے والے نام  کا،غیر مہذب لفظوں  کا استعمال کیا ہے، ان کے خلاف ہم نے تھانے میں تحریری طور پر شکایت دی  ہے، ہم اس بیان سے صدمے میں  ہیں۔ ہمارے وقار کو ٹھیس پہنچا ہے۔’وہیں، بی جے پی  نے اس کو سیاسی  بدلے سے کی گئی کارروائی بتایا ہے۔

 بی جےپی کی ریاستی  اکائی کے ترجمان  پر تول شاہ دیو نے کہا، ‘رگھوبر داس کے خلاف سیاسی  بدلے کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔ داس کے خلاف کوئی معاملہ نہیں بنتا۔ پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی تھی لیکن اچانک وہ حرکت میں آ گئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس پر دباؤ ہے۔’

بتا دیں کہ ریاست میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی  کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست کی 81 سیٹوں میں سے بی جے پی  کوصرف25 سیٹوں پر جیت ملی، جبکہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی قیادت والے گٹھ بندھن کو 47 سیٹوں پر کامیابی ملی۔سال1995 سے لگاتار جمشیدپور ایسٹ سیٹ سے ایم ایل اے رہے وزیر اعلیٰ  رگھوبر داس خود اس بار جیت حاصل نہیں کر پائے۔ داس کو انہیں کی  پارٹی کے باغی ایم ایل اےسریو رائےنے ہرایا، جو جمشیدپورمغربی سے ٹکٹ نہ ملنے پر ان کے خلاف میدان میں کود پڑے تھے۔

(خبررساں ایجنسی  بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)