خبریں

شہریت قانون: یوگی نے یوپی پولیس کے ذریعے لوگوں سے نقصان کی بھرپائی کی کارروائی کو صحیح ٹھہرایا

شہریت قانون کی حمایت میں مدھیہ پردیش کے گوالیار شہر میں ہوئے اجلاس کے دوران اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اب مظاہرہ  کے دوران توڑ پھوڑ نہیں ہو رہی ہے اور ملزم اب معافی مانگ رہے ہیں۔

فوٹو:پی ٹی آئی

فوٹو:پی ٹی آئی

نئی دہلی: اتر پردیش  کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نےشہریت قانون (سی اےاے)کے خلاف احتجاج اور مظاہرہ میں تشدد کے بعد ریاستی پولیس کی ‘نقصان کے لیے ادائیگی’کی  کارروائی کوصحیح ٹھہرایا۔انہوں نے کہا کہ اس سے اب احتجاج اور مظاہرہ  کے دوران توڑ پھوڑ نہیں ہو رہی ہے اورملزم اب معافی مانگ رہے ہیں۔

یوگی نے گوالیار جی وائی ایم سی گراؤنڈ میں سی اے اےکی حمایت میں جن جاگرن منچ کے زیر اہتمام منعقد ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا، ‘سی اےاے پر کانگریس نے پرتشددماحول بنا دیا، لیکن ہم نے طے کیا کہ جوسرکاری املاک  کو نقصان پہنچائےگا، اس کا پیسہ متعلقہ ملزم سے وصول کیا جائےگا۔’

انہوں نے کہا، ‘اب مظاہرہ  کے دوران توڑ پھوڑ نہیں ہو رہی ہے، بلکہ ملزم معافی مانگ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حقیقت سامنے آنی چاہیے اور ہماری سرکار نے ملزمین کے پوسٹر شہروں میں لگائے ہیں۔’وزیر اعلیٰ نے ایودھیا میں رام مندر پر عدالت کے فیصلے کے بعد اتر پردیش میں امن  بنائے رکھنے کا ذکر کیا۔

انہوں نے سی اے اےکے خلاف مظاہرہ  میں کانگریس پر ماحول کو خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ‘یہ قانون شہریت دینے کا ہے اور کسی کے حقوق چھیننے کا قانون نہیں ہے۔ کانگریس جس نے ایمرجنسی لگاکر آئین  کو روندا تھا، وہ اب اسے بچانے کی بات کر رہی ہے۔’

انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ان کی معاون پارٹیوں کی مقتدرہ ریاستوں میں  سی اےاے کونافذنہیں کرنے کی بات ہورہی ہے، تو کیا یہ آئین  کو چیلنج دینے جیسا نہیں ہے۔ملک میں سی اے اےکی ضرورت بتاتے ہوئے یوگی نے کہا کہ ہندوستان نے تو نہرو لیاقت سمجھوتے کی پیروی کی اور کسی اقلیت کو پریشان نہیں کیا، لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ظلم ہوئے اور ان کی آبادی کم ہوتی گئی۔

انہوں نے کہا، ‘مہاتما گاندھی جی نے بھی کہا تھا کہ پاکستان میں جتنی بھی اقلیت ہیں، ان کے لیے ہندوستان کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ اسی لئے 1955 میں شہریت قانون بنا، جس میں ترمیم کرکے سی اےاے کے طورپر اس کو نافذگو کیا گیا ہے۔’یوگی نے کہا کہ اب کانگریس مہاجرین  اور گھس پیٹھیوں میں فرق نہیں کر پا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ‘ملک میں دہشت گردی  کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں، وہ سب گھس پیٹھیوں نے کی ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیاں دہشت گرد گھس پیٹھ،علیحدگی پسند اور نکسل  کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ لوگوں کو اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔’واضح ہو کہ اتر پردیش  میں شہریت قانون کو لےکر تشدد کے مختلف معاملے میں اب تک کم سے کم 21 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع ہوئے تشدد کے دوران سرکاری املاک کے نقصان کی بھرپائی کے لیے انتظامیہ لوگوں کو کا نوٹس بھیج رہی ہے۔

اس سے پہلے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے وارننگ دی تھی کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو بخشا نہیں جائےگا، ان سے بدلہ لیا جائےگا۔ نقصان کی بھرپائی کی جائےگی۔

اتنا ہی نہیں اترپردیش کے گورکھپور شہر میں ہوئے ایک اجلاس کے دوران انہوں نےشہریت قانون اور این آرسی کے خلاف ہوئے مظاہرےکے دوران سرکاری املاک کے نقصان کی بھرپائی جنگی پیمانے  پر کرانے کی بات کہی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ جو نہیں سدھریں گے، انہیں جہاں کی یاترا کرنی ہے، وہاں کی کرا دی جائےگی۔

(خبررساں ایجنسی  بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)