خبریں

جمہوریت کو لے کر انڈسٹری میں کسی کو لڑتے ہو ئے نہیں دیکھ رہا ہوں، لیکن طلبا لڑ رہے ہیں: سیف علی خان

اپنی حالیہ فلم تاناجی کو لےکر سیف علی خان نے کہا کہ ایک اداکار کے طورپر فلم میں میرا کردار بہت اچھا ہے، لیکن فلم میں جو دکھایا گیا ہے، وہ تاریخ نہیں ہے۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے ‘انڈیا’ کا کوئی تصور نہیں تھا۔

سیف علی خان، فوٹو: پی ٹی آئی

سیف علی خان، فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: معروف اداکار سیف علی خان نے ملک کے موجودہ حالات پر اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ملک میں جو ماحول ہے، اس کودیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔نوبھارت ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، سیف نے کہا، ‘ملک کے لوگ جو رویہ اپنا رہے ہیں وہ غلط ہے۔ یہ رویہ ہمیں بھائی چارے کے راستے سے دور کر رہا ہے۔’

سیف نے اتوار کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ملک کے موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم سیکولرازم سے دور جا رہے ہیں اور مجھے کوئی بھی اس کے لیے لڑتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک اداکار ہونے کے ناطے میرے لیے کوئی بھی اسٹینڈ لینا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس سے فلمیں بین ہو سکتی ہیں، جس سے فلم کی کمائی پر اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا اس لیے فلم انڈسٹری کے لوگ اپنے بزنس اور اپنی فیملی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے اور کسی بھی طرح کا سیاسی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔فلم ‘تاناجی ان سنگ واریئر’ میں منفی کردار میں نظر آئے سیف نے یہ بھی کہا کہ ایک اداکار کے طورپر فلم میں میرا کردار بہت اچھا ہے، لیکن کوئی اس کو تاریخ کہے تو میں نہیں مانتا۔

انہوں نے کہا کہ فلم میں جو دکھایا گیا ہے، وہ تاریخ نہیں ہے۔سیف نے کہا، ‘تاریخ  کیا ہے، میں اسے جانتا ہوں لیکن اگر کوئی کہے کہ فلم میں جو دکھایا گیا ہے وہ تاریخ  ہے تو میں اس کو نہیں مانتا۔’انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے ‘انڈیا’ کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کے بارے میں زور شور سے بحث کرنے کی کوئی منطق ہے۔

سیف نے فلموں میں تاریخی حقائق سے چھیڑ چھاڑ کو غلط بتاتے ہوئے کہا، ‘کچھ وجہوں سے میں کوئی اسٹینڈ نہیں لیتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اگلی بار کروں۔ میں رول کو لے کر بہت پرجوش تھا، کیونکہ یہ بہت دلچسپ تھا لیکن جب لوگ کہتے ہیں کہ یہ تاریخ  ہے، تومیں نہیں مانتا کہ یہ تاریخ ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تاریخ  کیا ہے۔’

فلم انڈسٹری میں تاناجی جیسی فلمیں کیوں بن رہی ہیں ؟ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے سیف نے کہا، ‘یہی چلتا ہے اور اس لئے یہ آئیڈیا چل پڑا ہے۔ میں حقیقت میں ایسی فلم انڈسٹری کا حصہ ہونا پسند کروں گا جو ایک اسٹینڈ لے، جو لوگوں کو بتائے کہ تاریخ  کیا ہے، نہ  کہ طے شدہ  سوچ کے ساتھ اس سے چھیڑ چھاڑ کرے لیکن لوگ کہتے ہیں کہ یہ چلتا ہے۔ یہ ایک آئیڈیا ہے جو چل نکلا ہے، لیکن یہ حقیقت میں خطرناک ہے۔’

سیف نے کہا، ‘میں جمہوریت کو لےکر انڈسٹری میں کسی کو لڑتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہوں لیکن طلبا لڑ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کا کوئی اسٹینڈ نہیں لے پاتا، ہو سکتا ہے ان کی فلم بین کر دی جائے۔’