خبریں

مدھیہ پردیش: شہریت قانون کی مخالفت میں بی جے پی کے تقریباً 90 مسلم رہنماؤں نے اجتماعی طور پر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا

سی اے اےکے خلاف بی جے پی چھوڑنے والے مسلم رہنماؤں نے اپنے خط  میں کہاہے کہ ،ہندوستانی آئین کے آرٹیکل14 کے تحت کسی بھی ہندوستانی شہری کو برابری  کاحق حاصل ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت  نے سی اےاے کو مذہبی بنیاد  پرنافذ کرکےملک  کو باٹنے کا کام  کیا گیا ہے جو آئین  کے بنیادی جذبےکے خلاف ہے۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

(فائل فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی :شہریت ترمیم قانون (سی اےاے)کو مذہبی بنیاد پرفرق کرنے والا قانون بتاتے ہوئے مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کےتقریباً 80 مسلمان رہنماؤں نے پارٹی کی رکنیت  چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ان بی جے پی رہنماؤں  میں شامل رازق  قریشی فرشی والا نے جمعہ  کو یہ جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 80 مسلم رہنماؤں نے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو جمعرات  کوخط بھیج کر پارٹی کی رکنیت چھوڑ دی ہے۔

پارٹی چھوڑنے والے رہنماؤں میں بی جے پی کے اقلیتی  مورچے کے کئی عہدیداران  شامل ہیں۔ قریشی نے کہا، سی اے اےکے وجود میں آنے کے بعد ہم لوگوں کااپنی کمیونٹی کی تقریبات میں شامل ہونا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ ان تقریبات میں لوگ ہمیں یہ کہہ کر کوس رہے تھے کہ ہم سی اے اےجیسےباٹنے والے قانون پر کب تک چپ رہیں گے؟ انہوں نے کہا، کسی بھی کمیونٹی  کے حقیقی طور پر مظلوم پناہ گزینوں  کوہندوستان کی شہریت  ملنی چاہیے۔ آپ محض مذہب کی بنیاد پر طے نہیں کر سکتے کہ فلاں آدمی  گھس پیٹھیا ہےیا دہشت گرد ہے۔

سی اے اےکے خلاف بی جے پی چھوڑنے والے مسلم رہنماؤں نے اپنے خط  میں کہاہے کہ ،ہندوستانی آئین کے آرٹیکل14 کے تحت کسی بھی ہندوستانی شہری کو برابری  کاحق حاصل ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت  نے سی اےاے کو مذہبی بنیاد  پرنافذ کرکےملک  کو باٹنے کا کام  کیا گیا ہے جو آئین  کے بنیادی جذبےکے خلاف ہے۔غورطلب ہے کہ سی اےاے کےخلاف جن بی جے پی رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کااعلان  کیا ہے، ان میں سے کچھ پارٹی کے قومی نائب صدر کیلاش وجئے ورگیہ کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ اقلیتی کمیونٹی  کے بی جے پی رہنماؤں کے اجتماعی استعفیٰ کے بارے میں پوچھے جانے پر وجئے ورگیہ نے جمعرات کی شام  کوکہا، ‘مجھے حالانکہ اس معاملے کی جانکاری نہیں ہے، لیکن اگر کوئی ان کو گمراہ ہو رہا ہے، تو ہم  سمجھائیں گے۔

این ڈی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق،شہریت ترمیم  قانون کی مخالفت کے بیچ بی جے پی کے اقلیتی  مورچے سے جڑے کارکنوں نے ایک  فیصلہ کیاہے۔ اندور میں بی جے پی سے جڑے مختلف عہدوں  پر کام کرنے والے تقریباً90 ممبروں  نے پارٹی کی رکنیت  چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔اندور میں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے اقلیتی مورچہ کے رہنما رازق قریشی فرشی والا نے کہا کہ مرکزی حکومت  نے اس قانون کو نافذ کرکے غیر آئینی  قدم اٹھایا ہے، اس لیے سبھی ممبر اپنااستعفیٰ پارٹی کے صدر کو دے رہے ہیں۔

رازق قریشی  کو بی جے پی کے قومی نائب صدر کیلاش وجئے رگیہ کا خاص مانا جاتا ہے۔ دریں اثنابی جے پی کی رکنیت  سے استعفیٰ دینے والے ممبروں  نے کسی دوسری  پارٹی کا ساتھ دینے سے فی الحال انکار کر دیا ہے۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)