خبریں

یوپی آسام کے بعد جے این یو اسٹوڈنٹ کے خلاف دہلی، منی پور اور اروناچل پردیش میں کیس درج

جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے اسٹوڈنٹ شرجیل امام پر شہریت ترمیم  قانون کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریرکرنے کے الزام  میں سیڈیشن  کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ بہار کے جہان آباد واقع ان کے  گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

نئی دہلی: آسام اور اتر پردیش کے بعد شہریت قانون (سی اےاے)کے خلاف مظاہروں  کے دوران مبینہ  طور پر اشتعال انگیزتقریرکرنے کے ملزم  جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے  شرجیل امام کے خلاف اب نئی دہلی، منی پور اور اروناچل پردیش میں بھی پولیس نے کیس درج کیا ہے۔منی پور پولیس نے کہا کہ امام کے خلاف آئی پی سی  کی دفعہ121 اے (ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش)، 124 اے (سیڈیشن)، 120 بی (مجرمانہ سازش) اور 153 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ دفعہ153 بدامنی  لانے کی منشا سے مختلف مذہبی گروپوں کے بیچ دشمنی  پیدا کرنے سے متعلق ہے۔

یہ سبھی معاملے 16 جنوری کو اتر پردیش کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) میں کی گئی اس کی تقریر کے لیے درج کئے گئے ہیں۔منی پور کے وزیر اعلیٰ  کے صلاح کار رجت سیٹھی نے ٹوئٹ کیا، ‘شرجیل امام کے قابل اعتراض  ویڈیو کو اپنے علم  میں لیتے ہوئے، جس میں وہ نارتھ ایسٹ کوملک  سے الگ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، منی پور پولیس نے دفعہ 121/121-اے/124-اے/120-بی/153 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔’

وزیر اعلیٰ  این بیرین سنگھ نے ان کے ٹوئٹ کو شیئر کیاہے۔

شرجیل کی مبینہ تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس کے خلاف سیڈیشن  کے الزام  لگائے گئے ہیں۔ ویڈیو میں شرجیل امام کو سی اےاے کے مد نظر آسام میں مظاہرےکو تیز کرتے ہوئے سڑک جام کرنے کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، تاکہ سرکار ان کی بات کو سننے کے لیے مجبور ہو۔اس سے پہلے علی گڑھ  مسلم یونیورسٹی کیمپس میں کی گئی تقریر کو لےکر اسی الزام میں علی گڑھ کے تھانے میں شرجیل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آسام اور نئی دہلی میں شرجیل کے خلاف یو اے پی اے کے تحت ایک معاملہ درج کیا گیا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس کے ڈی ایس پی (کرائم)راجیش دیو نے کہا، ‘ایسا دیکھا گیا کہ بہار کا رہنے والا اور نئی دہلی کے جے این یو سے اسٹوڈنٹ شرجیل امام نے این آرسی اور سی اے اےکے خلاف اشتعال انگیز تقریرکی  ہے۔’انہوں نے بتایا، ‘اس سے پہلے اس نے گزشتہ  سال 13 دسمبر کو نئی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی ایسی  ہی تقریرکی  تھی، اس کے بعد اس نے سرکار کے خلاف ایک اور مشتعل بیان  دیا، جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ آئی پی سی کی دفعہ124 (سرکار کے خلاف تقریر یاتحریر)، 153 اے (مذہبی عداوت کو بڑھاوا دینا)اور 505( بھڑ کانے والا بیان)کے تحت شرجیل امام کے خلاف ایس آئی ٹی کرائم برانچ نے کیس درج کیا ہے۔وہیں اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ  پیما کھانڈو نے نے شرجیل امام کی تقریر سے جڑے مبینہ ویڈیو کو ٹوئٹ کرکے کہا ہے، ‘ہندوستان کے باقی حصوں سے آسام اورنارتھ ایسٹ کے  دوسری ریاستوں کو الگ کرنے کے لیے اکسانا، فرقہ وارانہ دشمنی پیدا کرنا،ہندوستان  کی خودمختاریت اور علاقائی سالمیت میں خلل ڈالنا، برداشت نہیں کیا جائےگا۔ ایٹہ نگر کرائم برانچ نے آئی پی سی کی دفعہ124 (اے)، 153 (اے) اور 153(بی) کے تحت کیس درج کیا ہے۔’

آسام پولیس کے اے ڈی جی پی جےپی سنگھ نے کہا، ‘شرجیل امام کے خلاف گوہاٹی کرائم برانچ پولیس تھانے میں ایک ایف آئی آریو اے پی اے اورآئی پی سی کی دفعہ153اے، 153 بی اور 124 اے کے تحت درج کی گئی ہے۔’اتر پردیش، دہلی اور بہار پولیس مل کر شرجیل کی گرفتاری کی کوشش کر رہی ہے۔ علی گڑھ کے ایس ایس پی آکاش کلہری بتایا، ‘دو ٹیموں کو شرجیل امام کی گرفتاری کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ہم دہلی اور بہار پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔’

جے این یو اسٹوڈنٹ شرجیل امام کے بہارواقع  گھر پر چھاپے ماری

مبینہ تقریرکےملزم شرجیل امام کے بہار کے جہان آباد واقع آبائی گھر پر پولیس نے چھاپے ماری کی۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے سوموار کو یہ جانکاری دی۔جہان آباد کے ایس پی منیش کمار کے مطابق، کاکو تھاناحلقہ میں پڑنے والے امام کے گھر پر اتوار کی رات چھاپے مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ جے این یو اسٹوڈنٹ کے خلاف درج معاملوں کی جانچ کر رہی سینٹرل  ایجنسیوں کی طرف سے مدد مانگے جانے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔

ایس پی نے بتایا کہ امام اپنے گھر پر نہیں ملا لیکن پوچھ تاچھ کے لیے اس کے دو رشتہ داروں اور ان کے ڈرائیوروں  کو حراست میں لیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

آئی آئی ٹی ممبئی سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویٹ، شرجیل امام جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار ہسٹوریکل اسٹڈیز سے ریسرچ کرنے کے لیے دہلی آئے تھے۔ شرجیل کے مرحوم والد اکبر امام مقامی  جے ڈی یو رہنما تھے، جنہوں نے اسمبلی انتخاب  بھی لڑا تھا پر ہار گئے تھے ۔پورے معاملے پر ردعمل  دیتے ہوئے شرجیل کی ماں افشاں  رحیم نے میڈیا سے کہا، ‘میرا بیٹابے قصور ہے۔ اس نے این آرسی کو لےکر پریشانی کو دیکھتے ہوئے چکاجام کی بات کہی ہوگی جس سے شاید سرکار پر اثر پڑے۔ وہ نوجوان ہے، کوئی چور یا پاکٹ مار نہیں۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔’

انہوں نے آگے کہا، ‘لیکن میں گارنٹی دیتی ہوں کہ معاملوں کی جانکاری ہونے پر وہ جانچ ایجنسیوں کے سامنے پیش ہوگا اور جانچ میں پوری طرح مدد کرےگا۔’انہوں نے کہا کہ لمبےوقت سے وہ اپنے بیٹے سے نہیں ملی ہیں لیکن کچھ ہفتے پہلے ان کی فون پر بات چیت ہوئی تھی۔رحیم نے کہا، ‘وہ سی اے اے اور ملک میں این آرسینافذ ہونے کے خوف سے پریشان تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اس سے مسلمان  ہی نہیں بلکہ سبھی غریب لوگ پریشان ہوں گے۔’

انہوں نے کہا کہ اصل میں شاہین باغ  مظاہرے کے تقریباً15 دن بعد اس نے مظاہرین سے وہاں سے ہٹ جانے کو کہا تھا اور ایک مہینے تک صورت حال دیکھنے اور پھر مستقبل  کے قدم پر فیصلہ لینے کو کہا تھا۔رحیم نے کہا، ‘لیکن وہ لوگ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ وہ ‘چکاجام’ کی اپیل  کر رہا تھا۔ وہ بچہ ہے اور لوگوں کو الگ کرنےکے لیے اکسانے کی اس میں طاقت نہیں ہے۔’

بی بی سی کے مطابق شرجیل کے چچا ارشد نے کہا، ‘اس نے اپنی بات رکھی ہے۔ اس جمہوریت میں سبھی کو اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ لیکن میڈیا نے اسے بی جے پی والوں کے کہنے پر اس طرح سے دکھا دیا کہ ہمارا لڑکا ملک کا غدار بن گیا۔ جو لوگ اسے غدار کہہ رہے ہیں انہیں اس کی پوری تقریر سننی چاہیے۔ وہ تو تحریک  کی حکمت علمی  پر بات کر رہا تھا۔’ارشد نے بتایا کہ ان کی فیملی  ڈری  ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘شرجیل کی ماں اور بھائی کو کئی ڈرانے اور دھمکانے والے فون کال آئے ہیں۔ اس کی جانکاری ہم نے پولیس کو بھی دی ہے۔ لیکن پولیس الٹے ہمیں کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ حالات ایسے بن گئے ہیں کہ ہم سڑک پر نکل رہے ہیں تو لوگ سرعام طعنے کس رہے ہیں۔ اس ملک  میں کسی کو اپنی بات کہنے کا حق بھی نہیں ہے کیا؟’

 (خبررساں ایجنسی  پی ٹی آئی کے ان پٹ کے ساتھ)