خبریں

ریلوے کو رد کر نے پڑے لاک ڈاؤن کے دوران بک کرائے گئے 1490 کروڑ روپے کے 94 لاکھ ٹکٹ

ریلوے کے اعلیٰ حکام  نے بتایا کہ 15 اپریل سے تین مئی تک بک کرائے گئے 39 لاکھ ٹکٹوں کے لیے 660 کروڑ روپے کی رقم  واپس کی جائےگی۔ جبکہ 22 مارچ سے 14 اپریل کے بیچ بک کرائی گئی 55 لاکھ ٹکٹوں کے لیے 830 کروڑ روپے کی رقم  واپس کی جائےگی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

(فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: کو رونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لگائے گئے ملک گیر  لاک ڈاؤن سے پہلے مسافروں کے ذریعے بک کرائی گئی 94 لاکھ ٹکٹوں کے رد ہونے پر ریلوے کو ریونیو میں 1490 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ریلوے کے اعلیٰ حکام  نے بتایا کہ 22 مارچ سے 14 اپریل کے بیچ سفر کے لیے بک کرائی گئی 55 لاکھ ٹکٹوں کے لیے 830 کروڑ روپے کی رقم  واپس کی جائےگی۔

ریلوے نے 21 دن کے لاک ڈاؤن نافذہونے سے تین دن پہلے 22 مارچ کو اپنی مسافر خدمات  کو بڑے  پیمانے پرردکر دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کو 15 اپریل سے بڑھاکر تین مئی تک کئے جانے کے فیصلے  کی وجہ سے بک کرائے گئے 39 لاکھ ٹکٹوں کے لیے 660 کروڑ روپے کی رقم  واپس کی جائےگی۔

ذرائع نے بتایا کہ ملک  میں 14 اپریل تک لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران ٹرین کی ٹکٹیں بک کرنے کی سہولت جاری تھی اور لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد سفرکرنے کے لیے تقریباً 39 لاکھ ٹکٹیں بک کی گئیں۔لیکن وزیر اعظم  نریندر مودی کے ذریعے منگل کو لاک ڈاؤن بڑھانے کے بعد ریلوے نے نہ صرف تین مئی تک اپنی سبھی خدمات  ردکر دی ہیں بلکہ ایڈوانس بکنگ بھی روک دی ہے۔

ہندوستان  میں 25 مارچ سے 14 اپریل تک 21 دن کا لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا۔وزیر اعظم  نریندر مودی نے منگل کو لاک ڈاؤن تین مئی تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ ریلوے نے 15 اپریل سے مسافرو ں کے لیے بکنگ کوبند نہیں کیا تھا۔ریلوے کے اعلیٰ حکام  نے کہا، ‘لگ بھگ 660 کروڑ روپے واپس کئے جائیں گے۔ 15 اپریل سے تین مئی کے بیچ سفر کے لیے 39 لاکھ بکنگ کی گئی تھی۔’

ریلوے نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی بڑھی ہوئی مدت کے دوران سفر کے لیے بک کرائے گئے ٹکٹوں کے پورے پیسے واپس کئے جائیں گے۔ ریلوے نے کہا کہ واپس کی گئی رقم آن لائن بکنگ کرانے والے مسافروں کے کھاتے میں سیدھے بھیج دی جائےگی جبکہ کاؤنٹر پر ٹکٹ بک کرانے والے لوگ 31 جولائی تک پیسے واپس لے سکتے ہیں۔

وزیر اعظم کے اعلان کے بعد ریلوے نے اپنی سبھی مسافر خدمات  کو رد کیے جانے کی مدت کو لاک ڈاؤن کے ختم ہونے تک بڑھا دیا ہے۔ریلوے نے کہا کہ اگلےاحکامات  تک ای ٹکٹ سمیت کسی بھی ٹکٹ کی پیشگی بکنگ نہیں کی جائےگی۔حالانکہ سوشل میڈیا پر لوگوں نے کہا کہ ریلوے نے ٹکٹ رد کرنے پر پیسہ واپس کرتے وقت آن لائن بکنگ پر کنوینس فیس  میں کٹوتی کی ہے۔

ریلوے نے اس بارے میں صفائی  دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ‘جب ٹرین رد ہو جاتی ہے، تو مسافرکو پورا کرایہ واپس کر دیا جاتا ہے۔ کنوینس فیس  واپس نہیں کی جاتی ہے جو ایک شخص کے لیے برائے نام  ہوتا ہے۔’

(خبررساں  ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)