خبریں

کورونا وائرس: ایک دن میں کورونا کے ریکارڈ ساڑھے تیرہ ہزار معاملے

ملک میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کووڈ انیس کے ریکارڈ تیرہ ہزار پانچ سو چھیاسی نئے کیسز سامنے آچکے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ  اکیاسی ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

فوٹو: رائٹرس

نئی دہلی: گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے تین سو چھتیس مزید مریضوں کی موت ہوگئی جس کے ساتھ ہی ملک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر بارہ ہزار پانچ سو سے زائد ہوگئی ہے۔وزارت صحت کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد جمعرات اٹھارہ جون تک تین لاکھ اکیاسی ہزار تین سو بیس ہوگئی تھی جبکہ بارہ ہزار چھ سو پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاہم اب تک دو لاکھ سے زائد افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں صحت یاب ہونے والوں کی شرح 53 فیصد ہے اور گوکہ ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ چوتھا ملک بن چکا ہے تاہم یہاں شرح اموات 3.3 فیصد پر مستحکم ہے۔

ہندوستان میں مغربی ریاست مہاراشٹر، جنوبی ریاست تمل ناڈو اور دارالحکومت نئی دہلی میں نئی قسم کے کورونا وائرس کے کیسز سب سے زیادہ ہیں۔ دہلی میں کورونا سے متاثرین کی تعداد پچاس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جب کہ لگ بھگ دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران دہلی میں ریکارڈ 2877 نئے کیسز سامنے آئے۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین بھی کورونا پازیٹو پائے گئے اور ان دنوں زیر علاج ہیں۔

مہاراشٹر کورونا سے متاثرین کے لحاظ سے سرفہرست ہے جہاں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد اس وبا کا شکار ہوئے ہیں جب کہ 5751 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ صرف ممبئی میں 62875 افراد متاثر اور 3311 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تمل ناڈومیں متاثرین کی تعداد 52334 اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 625 ہے۔ ریاستی دارالحکومت چنئی میں ہی سینتیس ہزار سے زائد افراد متاثر اور تقریباً پانچ سو ہلاک ہوچکے ہیں۔

اعدادوشمارچھپانے کا الزام

اس دوران مرکزاور ریاستی حکومتوں پر کورونا وائرس سے متاثرین کی اصل تعداد چھپانے کے الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں۔ بالخصوص اترپردیش، دہلی، تلنگانہ، گجرات، مدھیہ پردیش اورمغربی بنگال وغیرہ ریاستوں میں مریضوں کی اصل تعداد چھپانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہندوستان  میں بہت کم تعداد میں کورونا کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اس لیے مریضوں کی اصل تعداد کا پتہ نہیں چل پا رہا۔

اس دوران سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کی سخت سرزنش کی ہے جس کے بعد دہلی میں عام آدمی پارٹی حکومت نے بیس جون سے روزانہ اٹھارہ ہزار ٹیسٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے جو کہ موجودہ تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کم تعداد میں ٹیسٹ کے بعد متاثرین کی تعداد میں روزانہ 12ہزار سے زیادہ کا اضافہ ہورہا ہے تو زیادہ ٹیسٹ کے بعد صورت حال یقیناً مزید تشویش ناک ہوگی۔

خیال رہے کہ ہندوستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے دنیا کا طویل ترین لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ 25 مارچ سے شروع لاک ڈاؤن کی مدت میں حکومت نے 30جون تک توسیع کردی ہے۔ تاہم جون کے پہلے ہفتے میں ہی ریستوراں، شاپنگ مالز  اور مذہبی مقامات کوکھولنے کی اجازت دے دی تھی۔ جس کے بعد متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔