خبریں

ٹی آر پی معاملہ: سپریم کورٹ پہنچے ری پبلک کے ذمہ دار، پولیس کے سامنے نہیں ہو ئے پیش

ٹی آر پی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے گروہ کاپردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے چیف فنانشل آفیسر کے علاوہ دو اور چینلوں کے نمائندوں کوسنیچر کو پوچھ تاچھ کے لیے بلایا تھا۔

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر

نئی دہلی: ٹی آر پی سے چھیڑچھاڑکے معاملے میں سنیچرکو پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیےگئے ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے چیف فنانشل آفیسر(سی ایف او)نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق،سی ایف او شیوسبرامنیم سندرم نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے معاملے کی جلد شنوائی کی مانگ کی ہے اور ممبئی پولیس کے سمن کو بھی چیلنج  دیا ہے۔

بتا دیں کہ ممبئی پولیس نے ٹی آر پی چھیڑ چھاڑ معاملے میں پوچھ تاچھ کے لیے ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے سی ایف اوکو سنیچرکی صبح پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا تھا لیکن کمپنی کے سی ایف او نےاپنی مصروفیت کا ذکر تے ہوئے معذرت کا اظہارکیا۔

کمپنی کے سی ایف او شیو سبرامنیم سندرم نے کہا کہ 16 اکتوبر تک ان کے اپائنٹمنٹ پہلے سے شیڈول ہیں اس لیے انہوں نے کوئی اور تاریخ دینے کی گزارش  کی ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے سی ایف اوکے علاوہ دو ایجنسیاں، جو اس معاملے میں شامل دو دیگرچینلوں کو اشتہار دلانے میں شامل تھی، انہیں بھی پولیس کےسامنےپیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی ٹی وی چینل باکس سنیما اور فکت مراٹھی کے اکاؤنٹنٹ کو بھی ری پبلک ٹی وی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادہ  ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی)کے لیےادائیگی  کرنے کے لیے جانچ میں شامل ہونے کے لیے سمن جاری کیا گیا تھا۔

واضح ہو کہ ممبئی پولیس نے جمعرات کو ٹی آر پی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے ایک گروہ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس معاملے میں چار افرادکو گرفتار کیا تھا۔غورطلب ہے کہ ٹی آر پی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کون سا ٹی پروگرام سب سے زیادہ دیکھا گیا۔ اس سے ناظرین  کی پسند اور کسی چینل کی مقبولیت  کا بھی پتہ چلتا ہے۔

خفیہ طریقے سے کچھ گھروں میں ٹی وی چینل کےناظرین کی بنیاد پر ٹی آر پی کی گنتی کی جاتی تھی۔ملک میں براڈکاسٹ آڈینس ریسرچ کاؤنسل (بارک)ٹی وی چینلوں کے لیے ہفتہ وار ریٹنگ جاری کرتا ہے۔بارک ٹی وی کے ناظرین کی تعداد بتانے کے لیے صحیح،قابل اعتماد اوروقت کے پابند نظام  کےقیام اور نگرانی کا کام کرتا ہے اور ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیاکے گائیڈ لائن سے بندھا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی آر پی کی پیمائش کے لیے ممبئی میں دو ہزار بیرومیٹر لگائے گئے ہیں۔ بارک نے ‘ہنسا’نامی ایجنسی کو ان بیرومیٹر پر نظر رکھنے کا ٹھیکہ دیا تھا۔اس بیچ پولیس نے کہا کہ وہ بارک کو خط لکھ کر انڈیا ٹو ڈے سمیت کچھ دیگر چینلوں کی جانب  سے کسی طرح کی مشکوک سرگرمیوں کی تفصیلات طلب کرےگا۔

بتا دیں کہ معاملے کی ایف آئی آر میں انڈیا ٹو ڈے کا بھی نام ہے، جس نے زیادہ  ٹی آر پی کے لیے مبینہ طور پر ہنسا ریسرچ گروپ کو پیسہ دیا۔ممبئی پولیس نے جمعہ  کو کہا کہ ملزم سے پوچھ تاچھ کی بنیاد پر بادی النظرمیں ایسا نہیں لگتا ہے کہ انڈیا ٹو ڈے اس مبینہ کھیل میں شامل ہے۔

جوائنٹ پولیس کمشنر(کرائم)ملند بھارامبے نے کہا، ‘حالانکہ، ابھی تک کسی کو کلین چٹ نہیں دی گئی ہے۔ ہم ٹی آر پی کے سلسلے میں انڈیا ٹو ڈے کو لےکر کسی طرح کی مشکوک سرگرمی کا پتہ لگانے کے لیے بارک کو خط لکھیں گے۔ یہ اس کھیل  میں کسی اور چینل کے شامل ہونے کے لیے فیصلہ کن ثبوت ہوگا۔’

اب تک گرفتار کئے گئے دوملزم وشال بھنڈاری(21)اور بومپلی راؤ عرف سنجو راؤ (44)سے پوچھ تاچھ کی بنیاد پر پولیس نے بارک سے ری پبلک، باکس سنیماز اورفکت مراٹھی کی تفصیلات مانگی  ہے۔سینئر آئی پی ایس افسر کا کہنا ہے کہ ان تینوں چینل کی ٹی آر پی میں غیرمعمولی سرگرمیوں  کا پتہ چلا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹی آر پی سے مبینہ چھیڑ چھاڑ کا سب سے پہلے پتہ اس وقت چلا، جب بارک کی نظر اس سال کی شروعات کی غیرمعمولی ٹی آر پی ریٹنگس پر گئی۔انٹرنل جانچ کے دوران پتہ چلا کہ ہنسا کے ملازم وشال بھنڈاری ٹی آر پی سے چھیڑ چھاڑ میں شامل ہیں۔ ہنسا ریسرچ گروپ کو پتہ چلا کہ بھنڈاری نے اپنے والد کے گھر پر دو –بار-ا و-میٹر لگائے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنسا گروپ نے بھنڈاری سے جون میں استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ کمپنی نے ابھی تک اس معاملے میں پولیس شکایت درج نہیں کرائی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جانکاری اس ہفتے کی شروعات میں ان کے آفس میں پہنچی تھی۔ اس کی بنیاد پرجانچ کی گئی اور بھنڈاری کو حراست میں لیا گیا۔

ایک عہدیدار نے کہا، ‘جب ہم نے ہنسا ریسرچ گروپ کےاہلکاروں  کو اس کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کی شروعات میں ان کی آڈٹ رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ بھنڈاری سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔ پولیس کو دیے بیان میں ہنسا کے جنرل منیجر نے کہا کہ ان کی آڈٹ رپورٹ کےمطابق بھنڈاری نے ٹی آر پی بڑھانے کے لیے لوگوں سے انڈیا ٹو ڈے چینل کو چلاکر رکھنے کے لیے کہا تھا۔’

حکام نے کہا، ‘جب ہم نے بھنڈاری سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے ری پبلک، فکت  مراٹھی اور باکس سنیما کا بھی نام لیا۔ یہاں تک کہ جن چار لوگوں کے بیان درج کیے گئے، انہیں مبینہ طور پر ہنسا نے پیسہ دیا تھا۔ تینوں نے اس سے انکار کیا کہ انہوں نے لوگوں سے انڈیا ٹو ڈے چالو رکھنے کو کہا تھا۔ وہیں، چوتھے شخص نے چینل دیکھنے کو لےکر اپنا بیان بدل دیا۔ سب نے تینوں چینلوں کا نام لیا ہے۔’

پولیس نے بتایا کہ بھنڈاری سے پوچھ تاچھ کے دوران پولیس کو بومپلی راؤ عرف سنجو راؤ کے بارے میں پتہ چلا۔ راؤ بھنڈاری اور چینلوں کے بیچ کی کڑی تھا۔یہ چینل زیادہ ٹی آر پی کے لیے راؤ سے رابطہ کرتے تھے اور اس کو پیسہ دیتے تھے۔ اس کے بدلے راؤ کے ذریعے بھنڈاری اور ان لوگوں کو پیسہ دیا جاتا تھا، جو ان چینلوں کو اپنے ٹی وی سیٹ پر چلا کر رکھتے تھے۔

پولیس کو پتہ چلا ہے کہ ہنسا کے پاس ممبئی میں تقریباً 1800 گھروں (جہاں پر بار-ا و-میٹر لگے ہیں)کے لیے لگ بھگ 20 ریجنل منیجر ہیں۔ بھنڈاری ممبئی کے شمالی مضافات میں اس طرح کے 83 گھروں کاانچارج تھا۔بارک کی رپورٹ کے مطابق، ان 83 گھروں میں سے 10 گھروں میں مشکوک سرگرمیوں کا پتہ چلا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بار-ا و-میٹر لگے دوسرے گھروں میں کسی طرح کی مشکوک سرگرمی کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔

اس معاملے میں اب تک بھنڈاری، راؤ اورفکت مراٹھی کے مالک شریش شیٹی اور باکس سنیما کے مالک نارائن شرما کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہیں جمعہ کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جہاں سے انہیں 18 اکتوبر تک پولیس کی حراست میں بھیج دیا گیا۔ اس معاملے میں تین لوگوں کی وانٹیڈ ملزم کے طور پر پہچان کی گئی ہے۔

چینل دیکھنے کے لیے پیسے دیے تھے، نہیں پتہ تھا ریٹنگ کی ہیراپھیری ہے:گواہ

ممبئی پولیس کے ذریعے ٹی آر پی میں چھیڑ چھاڑ کو لےکر ری پبلک ٹی وی اور دو دیگر چینلوں کے خلاف جانچ کے اعلان کے بعد ایک شخص نے کہا ہے کہ اسے کچھ چینلوں کو دیکھنے کے لیے ماہانہ پیسےدیےجا رہے تھے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، شخص نے کہا کہ اس کے گھر میں ویوورشپ کی جانچ کے لیے ایک پیپل میٹر لگا تھا۔

بتا دیں کہ یہ شخص ان تین گواہوں میں سے ایک ہے، پولیس کے مطابق ٹی وی چینلوں نے جس کو رشوت دی تھی۔اس شخص نے بتایا، ‘بار –او-میٹر کے ایگزیکٹو نے مجھے باکس سنیما (تین چینلوں میں سے ایک جس کے خلاف جانچ چل رہی ہے)دیکھنے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مجھے دوپہر دو سے چار بجے تک چینل دیکھنا ہے اور اس کے لیے مجھے 500 روپے دیے گئے تھے۔’

شخص نے کہا کہ اس نے ایسا دو سے تین سال تک کیا اور اسے کبھی احساس نہیں ہوا کہ یہ ٹی آر پی کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ بعد میں ان کے گاؤں جانے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔ شخص نے کہا، ‘میں وہاں نہیں تھا اور میرا ٹی وی بھی بند تھا۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ میں اب ٹی وی نہیں دیکھ رہا ہوں۔’