خاص خبر

’بہار انتخاب: ہمرے دکھ میں کیہو ناہی آئل، ووٹ مانگے کے منھ کیہو کے نا با‘

گراؤنڈ رپورٹ:مغربی  چمپارن ضلع کےلکشمی پور رمپروا گاؤں کےسرحدی پانچ ٹولے کے پانچ سو سے زیادہ  لوگ گنڈک ندی کی باڑھ اور کٹان سے ہوئی بڑی  تباہی کے بعد پھر سے زندگی کو پٹری پر لانے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔ وجودکے بحران  سےجوجھ رہے ان ٹولوں میں انتخابی  ہنگامےکی گونج نہیں پہنچی ہے۔

کھیتوں میں سے بالو نکال رہے 75 سالہ منگرو۔ (تمام  فوٹو: منوج سنگھ)

کھیتوں میں سے بالو نکال رہے 75 سالہ منگرو۔ (تمام  فوٹو: منوج سنگھ)

گنڈک ندی سے 200 میٹر دور 75سالہ منگرو بندایک چھوٹے سے کڑاہے میں بالو بھر کر ایک طرف پھینک رہے ہیں۔صبح سے وہ یہ کام لگاتار کیے جا رہے ہیں جبکہ ان کا کمزور بدن اس کڑی  محنت کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

تین مہینے میں گنڈک کی تین بار کی باڑھ میں ان کا کھیت ریت سے پٹ گیا اور گھر بہہ گیا۔ وہ ریت ہٹاکر اپنے کھیت کو پھر سے فصل بونے لائق بنانا چاہتے ہیں۔ دوردور تک پھیلے ریت میں اپنا کھیت ‘اپرانے’کی ان کی کوشش جاری ہے۔

باڑھ آنے کی رات کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں،‘رات میں پانی آئیل۔ بھاگ کے کیمپے(ایس ایس بی) میں چل گئینی۔ گھر دہ کے ا ینہے چل گئیل۔ گھرے میں 50 کلو چاؤر، 10 کلو کیرائے، 10 کلو بکلا، مسری کے بیا رہل۔ سب دہ بہہ او نہیں چل گئیل۔ تین بیگھہ روپا کھیت رہل۔ سب بھاس مار دیہلے با۔ کوربانتی، کھمبھا کھمبھی جٹا کے پھر سے گھر جوڑت ہئین۔ ٹھیہنا بھر بالو با۔ اٹھا کے بیگت ہئیں کہ کچھ لگاوے لائق ہو جائے۔’

بہار کےمغربی چمپارن ضلع کے لکشمی پور رمپروا گاؤں کے پانچ ٹولےکانہی، بن ٹولی، جھنڈہوا، چکدہوا اور رو ہوا کے 500 سے زیادہ لوگ گنڈک ندی کی باڑھ اور کٹان سے ہوئی بڑی تباہی کے بعد پھر سے زندگی کو پٹری پر لانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

اس گاؤں میں کوئی انتخابی ہنگامہ نہیں ہے۔ ابھی تک کوئی بھی امیدواریہاں انتخابی تشہیرکے لیےنہیں آیا ہے حالانکہ نامزدگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

یہاں تیسرےمرحلےمیں سات نومبرکوووٹنگ  ہونی ہے۔جب کانہی ٹولہ، بن ٹولہ، جھنڈہوا ٹولہ اور چکدہوا کے لوگ باڑھ اور کٹان میں اپنا سب کچھ گنوا کر ایک مہینے تک اسکول میں پناہ گزینوں  کی طرح رہ رہے تھے، تب بھی ان کا حال جاننے کوئی نہیں آیا۔

یہ گاؤں مغربی  چمپارن ضلع کے والمیکی نگراسمبلی حلقہ میں آتے ہیں۔ اسمبلی انتخاب  کے ساتھ ساتھ والمیکی نگر لوک سبھا کاضمنی انتخاب بھی ہو رہا ہے۔ یہاں کے ایم پی  ویدھ ناتھ پرساد مہتو کے انتقال کی وجہ سے سیٹ خالی ہوئی تھی۔

والمیکی نگر ٹائیگر ریزروفاریسٹ سے سٹے یہ پانچوں گاؤں گنڈک ندی کے مشرقی ساحل  پر واقع ہیں۔ ندی کے اس پار اتر پردیش کے مہراج گنج ضلع کے گاؤں ہیں۔ اتر کی طرف  نیپال کا گاؤں سستا ہے۔کانہی ٹولہ سے تقریباً120 کلومیٹر دور ضلع ہیڈکوارٹر بتیا میں سیاسی حرارت روز بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ضلع اور ریاست کے آخری سرے پر نیپال سرحدپرواقع ان گاؤوں کے لوگ اپنے مستقبل  کو لےکرخوفزدہ  ہیں۔

جھنڈہوا ٹولہ کےمہنت رام کافی پریشان دکھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،‘ہمہن کے بات کب ہوئی۔ جب سب اورا جائی تب۔ ندی گانویں کے طرف بھاگل آوت با۔ کھیت اؤر گھر ندی میں سمات با۔ جو بچ گئیل با اومے بھاٹھ مار گئل با۔ اہے حالت رہی ت جہاں بئٹھل ہئیں جا اہو ختم ہو جائی۔ کہاں رہب جا، کا کھائب جا۔ ہمن کے تکلیف کب سنل جائی۔ اتنو کھیت بچل نئکھی۔ نہ دھان نہ گنا۔’

مہنت رام کا ایک ایکڑ کھیت اس بار گنڈک ندی کی کٹان میں سما گیا۔ اب ان کے پاس صرف ایک بیگھہ کھیت بچا ہے۔لکشمی پور رمپروا گرام پنچایت کے وارڈ نمبر 14 میں پانچ ٹولے کانہی ٹولہ، بن ٹولہ، جھنڈہوا ٹولہ، چکدہوا اور رو ہوا ٹولہ آتے ہیں۔ ان پانچ گاؤں میں تقریباً 1200ووٹر ہیں۔

جولائی سے ستمبر ماہ میں گنڈک ندی کی آئی تین باڑھ سے یہ تمام ٹولے بری طرح متاثر ہوئے۔ گنڈک ندی کا رخ لگاتار پورب کی طرف ہوتا جا رہا ہے۔ اس وجہ سےیہ گاؤں پچھلے پانچ سال  سے کٹان اور باڑھ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ندی کا کٹان تب سے شروع ہوا، جب سے گنڈک کے مشرقی  ساحل پر نیپال نے اپنے حصہ میں باندھ  بنا دیا۔ یہ باندھ  ہندوستان  نیپال سرحد پر سستا گاؤں کی طرف  بنا ہے۔

بالو اور گاد سے بھری اس جگہ پر محض تین مہینے پہلے تک کھیت اور گھر تھے۔

بالو اور گاد سے بھری اس جگہ پر محض تین مہینے پہلے تک کھیت اور گھر تھے۔

چکدہوا کے لوگوں  کےمطابق نیپال کی طرف باندھ  تو بنا ہی،باندھ کے تحفظ کے لیے کئی ٹھوکر بنائے گئے۔ ہندوستان کی طرف ندی کےمشرقی ساحل  پر کوئی باندھ نہیں ہے۔نیپال میں باندھ بننے کی وجہ سے ندی کا رخ دھیرے دھیرے چکدہوا، کانہی ٹولہ، بن ٹولہ اور جھنڈہوا ٹولہ کی طرف ہونے لگا۔ سال 2017 میں بن ٹولہ کے 12 گھر اور سینکڑوں ایکڑ کھیت ندی میں سما گئے۔

کھیتی کی زمین پر اب گنڈک ندی بہہ رہی ہے۔ ندی اب گاؤں کے کافی نزدیک آ گئی ہے۔ باڑھ جانے کے بعد بھی ندی کے کٹان کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس سال کی باڑھ اور کٹان نے ان پانچوں گاؤں کا سب سے زیادہ نقصان کیا۔ جولائی سے لےکرستمبر مہینے کے آخر تک تین بار باڑھ آئی۔

باڑھ سے کانہی ٹولہ کے ایک درجن گھر ندی میں سما گئے۔ درجنوں کسانوں کی سینکڑوں ایکڑ زمین  ندی میں چلی گئی۔ کسانوں نے بڑی محنت سے دھان اور گنے کی فصل لگا رکھی تھی۔ دھان کی فصل تو پوری طرح  خراب ہو گئی۔

کسی کسی کسان کی ہی گنے کی فصل بچ پائی ہے۔ دھان اور گنے کے کھیت دو سے تین فٹ تک ریت اور گاد سے پٹ گئے ہیں۔جھنڈہوا ٹولہ کے گنیش شاہ کی تین ایکڑ دھان کی فصل پوری طرح خراب ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سال دھان کا ایک دانہ نہیں ملا ہے۔

کانہی ٹولہ کی سگنتی دیوی کی دو ایکڑ دھان کی فصل ندی میں چلی گئی۔ چندر یکا مسہر کا ایک ایکڑ کھیت ندی کی دھار میں آ گیا ہے۔ ان کا گھر گرتے گرتے بچا ہے۔

نصراللہ انصاری بتاتے ہیں،‘ڈیڑھ ایکڑ دھان کی فصل دریا میں چلی گئی ہے۔ دس کٹھا بچا ہے جس میں ہلدی، ادرک، سبزی بوئے تھے۔ ندی کے بالو اور پانک سے کھیت ایسا پٹا ہے کہ پتی تک دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ گھر گرتے گرتے بچا ہے، کھنبھا بانس لگاکر کسی طرح سے گرنے سے روک رکھا ہے۔’

وہ کہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں اتنا نقصان نہیں دیکھے تھے۔ پورا گاؤں بھوکے مر رہا ہے۔

رام ورکش، ہیرالال، سنجیتا، چندہ دیوی، آشا دیوی، سنتو دیوی، الاوتی، کماری، کنہئی بندوغیرہ  کا بھی یہی حال ہے۔ اودھیش رام کی ڈیڑھ ایکڑ فصل برباد ہو گئی ہے۔نوجوان گوپال نشاد بتاتے ہیں کہ ان کا گھر کٹ کر ندی میں سما گیا۔ دو تین کٹھا کھیت تھے، وہ بھی ختم ہو گئے۔ اب وہ دوسرے کے کھیت میں جھوپڑی ڈال کر رہ رہے ہیں۔

کسماوتی دیوی نے باڑھ آنے کے پہلے اپنی جھوپڑی کے سامنے مچان بنا لیا تھا۔ وہ بچوں کو لےکر20 دن تک مچان پر رہیں۔ باڑھ کا پانی کم نہ ہونے پر انہیں باڑھ سے متاثر لوگوں کے لیے بنائے گئے کیمپ میں جانا پڑا۔ وہ وہاں 15 دن رہیں۔

وہ کہتی ہیں،‘پانچ کٹھا میں دھان روپے تھے۔ سب بھاٹھ مار دیا۔ ادھیا بٹہیا لےکر کل 18 کٹھا میں کھیتی کیے تھے۔ سب برباد ہو گیا۔’سیوک رام اور کلاوتی کے گھر میں رکھا اناج دہ گیا۔ پانچ بکریاں بھی مر گئیں، کسی طرح وہ دو بھینسوں کو بچا پائیں۔

کسماوتی دیوی۔

کسماوتی دیوی۔

دروپدی دیوی کی گنا اور دھان کی فصل پوری طرح ماری گئی ہے۔ ان کے شوہر کیدار کشواہا مزدوری کرنے چنئی گئے ہیں۔ وہ ان کی سلامتی کو لےکرفکرمند ہیں۔کہتی ہیں،‘کھیت باری سے کام چل جات رہل۔ اب کی کرے سہارے یہاں رہتن۔ چھہ دن پہلے چل گئلن۔ ابہن تک بات ناہیں ہو پائل با کہ کئسن باٹین۔

کانہی ٹولہ کے 26 سالہ انور انصاری باڑھ میں ڈھہ گئی پھوس کی جھوپڑی اور بالو سے پٹے کھیت کو دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس بار کی باڑھ اور کٹان نے ان کے حوصلے کو بھی توڑ دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دس سال پہلے ان کے والدین گزر گئے تھے۔ بڑی محنت سے کھیتی کر کےاپنی فیملی  کو کھڑا کیا لیکن اس بار سب برباد ہو گیا۔ باڑھ میں ڈوب کر ان کے دادا65 سالہ دھمن میاں نہیں رہے۔ چھوٹا بھائی عالم انصاری پہلے سے دہلی ہجرت کر گیا ہے۔ گھر میں بیوی  اور تین چھوٹے چھوٹے بچہ ہیں۔

انور کا ایک ایکڑ کھیت ندی میں کٹ گیا ہے۔باقی  بچا 15 کٹھا کھیت بالو سے پٹ گیا ہے۔ انہوں نے اس میں دھان، مونگ پھلی، گنجی، مرچا لگا رکھا تھا۔ دس ہزار روپے قرض لےکر کھیتی کی تھی۔

انور۔

انور۔

اب انور مزدوری کر رہے ہیں۔ وہ روتے ہوئے کہتے ہیں،‘پورے علاقے کی حالت خراب ہے۔ گاؤں میں کوئی مزدوری بھی نہیں مل رہی ہے۔ ہم تو دو جون کی روٹی کے محتاج ہو گئے ہیں۔’سوکھل کےتین ایکڑ کھیت کے ساتھ ساتھ گھر، پانچ کوٹھی بانس ندی کی کٹان میں چلا گیا۔ اب وہ  دوسری جگہ رہ رہے ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ باڑھ اور کٹان سے متاثر ان لوگوں  کو سرکار کی جانب سے دیا جانے والا چھ ہزار کا معاوضہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔مہنت رام اور شنکر کہتے ہیں،‘تین برس پہلے 2017 کی باڑھ میں چھینٹ چھانٹ کے سرکاری معاوضہ ملل رہل۔ اے بیری اب تک چھہ ہجریا نہیں آیا ہے۔ بینکے پر کئی بار جاکے کھاتے چیک کرا بھئلیں جا۔’

باڑھ متاثرین  کو سرکار کی جانب سے دیے جانے والا چھ ہزار کے معاوضہ کو گاؤں والے اپنی زبان  میں چھہ ہجریا کہتے ہیں۔

بلاک ڈیولپمنٹ کمیٹی(بی ڈی سی)کےممبر گلاب انصاری بتاتے ہیں کہ رو ہوا ٹولہ کے ایک15-16 لوگوں کو چھ ہزار کا معاوضہ ملا ہے۔ حکام  تمام پانچ گاؤں کے 446 باڑھ کٹان متاثرلوگوں کی فہرست بنا کر لے گئے ہیں لیکن رو ہوا ٹول چھوڑ باقی چار گاؤں میں کسی کو بھی ‘چھہ ہجریا’ نہیں ملا ہے۔

باڑھ اور کٹان سے سب سے برا حال 40 گھر والے کانہی ٹولہ کا ہے۔ اس کے بعد 23 گھر والے بن ٹولے کا ہے۔ ان چار ٹولوں میں نشاد، دلت، مسہر اور پسماندہ مسلمانوں کے گھر ہیں۔

کسی کا گھر پختہ نہیں ہے، سب جھوپڑیاں ہیں۔ وکاس کے نام پر ان ٹولوں کو قریب آٹھ مہینے پہلے آرسی سڑک اور سولر انرجی والی بجلی ملی ہے۔ ٹوائلٹ، پینے کے پانی کا انتظام  نہیں ہے۔چاروں ٹولوں میں سولر پلانٹ لگے ہیں جس سے ایک بلب اور پنکھا چلانے کے لیے بجلی ملتی ہے جس کا 30 روپے فکس بل دینا پڑتا ہے۔

ان پانچ گاؤں میں کوئی سرکاری اسکول نہیں تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے ہی اسکول کے لیے جھوپڑی بنا کر دی۔گاؤں والوں اور اس گاؤں میں کام کر رہے ایک این جی اوگورکھپور انوائرمینٹل ایکشن گروپ کی کوشش  سے اب سرکاری پرائمری  اسکول کی بلڈنگ  بن رہی ہے۔ دیوار کا کام پورا ہو گیا ہے۔ چھت کا کام ادھورا ہے۔

بن ٹولہ کی کانتی دیوی رہنماؤں سے بہت خفا ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مکھیا، بی ڈی سی اور ایس ایس بی کے جوانوں کے علاوہ کوئی رہنماان کی مدد کی کون کہے، حال پوچھنے اب تک نہیں آئے۔وہ کہتی ہیں،‘اب چناؤ آ گئل با۔ دیکھل جائی سب دوڑل ائینہین۔ بھوہی کے بھی پیر پڑ جئہین۔ ائسن نیتا اکھڑ پڑیں۔ آویں اے بیری۔ بڑھیاں سے ووٹ دیائی ’

کانتی دیوی کی17 کٹھا دھان کی فصل باڑھ سے برباد ہو گئی ہے۔ باڑھ میں ان کی آٹھ بکریاں مر گئیں۔ انہیں ڈیڑھ مہینہ گاؤں سے دور ایک اونچی  جگہ پر رہنا پڑا۔بڑے تڑپ کے ساتھ وہ کہتی ہیں،‘ہمن کے بھوک لگل با، ای ہی خاطر بولت ہئیں جا۔ سبھے آفت میں با۔ دکھ سے ہی بولی بہرات با۔ بھرل رہت تو ہمن کے آپ سے کا ہیں کچھ کہتیں۔’

انہیں کے گاؤں کی بدھیا بتاتی ہیں، ‘پہلی بار باڑھ آئی تو ہم سب تھوڑا بہت بچا لے گئنی لیکن دوسری بار صبح ندی کا پانی گوں گوں کرت گھسل تو اناج پانی سب بہہبلائے گئیل۔ نو ٹھو بکری مر گئیلین۔’نصراللہ انصاری کہتے ہیں کہ چناؤ کے وقت جب امیدوار ووٹ مانگنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کو جتا دیجیے سب پریشانی ختم  کر دیں گے لیکن جیت جاتے ہیں تو جھانکنے بھی نہیں آتے۔

وہ کہتے ہیں،‘ہمرے دکھ میں کیہو ناہی آئل، ووٹ مانگے کے منھ کیہو کے نا با۔ ‘(ہمارے گاؤں میں اس بار امیدوار ووٹ مانگنے کا منھ نہیں رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے دکھ کےوقت وہ نہیں آئے۔)انجلی اور چندہ دیوی نصراللہ  انصاری  کو ٹوکتے ہوئے کہتی ہیں،‘ارے آپ نیتا لوگن کے ناہیں جانیلین۔ او سب خوب سج دھج کے ائہین۔ پھر وعدہ کرہین۔’

باڑھ کے بعد گنے کی فصل کا حال۔

باڑھ کے بعد گنے کی فصل کا حال۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ سوچ رہے ہیں کہ گاؤں کے باہر ایک بینر لگوا دیں کہ باندھ نہیں تو ووٹ نہیں۔ جو بھی ووٹ مانگنے آئےگا ہم ان سے کہیگے کہ وہ خلاصہ کریں کہ باندھ کیوں نہیں بنوائے۔’پچھلی بارامیدواروں نے وعدہ کیا تھا کہ گاؤں کو باڑھ کٹان سے بچانے کے لیے باندھ بنوائیں گے لیکن وہ وعدہ پورا نہیں کر پائے۔ اس لیے ہم اس بار ووٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔

گوپال نشاد بھی انجلی، چندہ اور پوجا کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بینر بنوانے میں300-400 روپے خرچ ہوگا۔ چندہ کرکے ہم لوگ پیسہ جٹا لیں گے۔گاؤں کے لوگوں نے باڑھ کٹان سے بچاؤ کے لیے کئی بار افسروں،عوامی نمائندوں  کو خط دیے۔ کوئی شنوائی نہیں ہونے پرسب  نےخودہی کام کرکے کر کٹان کی جگہ  پر بچاؤ کا کام بھی کیا۔

اس میں 450 لوگوں  نے حصہ لیا تھا پر باڑھ نے ان  کے بچاؤ کام کو تہس نہس کر دیا ہے۔پانچوں گاؤں کا نزدیکی بازار بھیڑہاری ہے، جو گاؤں سے چھ کلومیٹر دور پڑتا ہے۔ بھیڑہاری جانے کے لیے بےحد خراب کچی سڑک ہے۔ پیدل، سائیکل جا سکتی ہے۔ بائیک گرگراکے چل پائیں گے۔

یہ سڑک نیپال سے سرحدی تنازعہ کی وجہ سے نہیں بن پا رہی ہے۔گاؤں والے چاہتے ہیں کہ دونوں ملک بات چیت کر تنازعے کا حل کر لیں اور یہ سڑک بنا لیں۔ اسی سڑک سے نیپالی گاؤں سستا کے لوگ بھی آتے جاتے ہیں۔

بی ڈی سی گلاب انصاری کہتے ہیں کہ باڑھ کٹان اور بھیڑہاری سے گاؤں تک سڑک کی تعمیر ہم لوگوں کی اہم مانگ ہے۔ جو بھی ووٹ مانگنے آئےگا، اس کے سامنے یہی مانگ رکھی جائےگی۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر اس سال بھی سرکار اور عوامی نمائندوں نے کچھ نہیں کیا تو اگلے سال یہ سب پانچ گاؤں گم ہو جا ئیں گے اور ہم کو نقل مکانی کےلیے مجبورہونا پڑے گا۔شنکر بھر بےحد اداس لہجہ میں کہتے ہیں،‘باڑھ اور کٹان ہمن کے پانچ سال کے لیے گرا دیہلس۔ ای پانچ سال ہمن کے دی ہیں میں روآں تک ناہیں جامی۔’

(مضمون نگار گورکھپور نیوزلائن ویب سائٹ کے مدیر ہیں۔)