خاص خبر

ہاتھرس: متاثرہ فیملی محفوظ  نہیں، افسروں پر چلے مقدمہ: پی یو سی ایل

شہری حقوق کی تنظیم  پیپلس یونین فار سول لبرٹیز نے اتر پردیش کے ہاتھرس میں دلت لڑکی  کےساتھ مبینہ گینگ ریپ  اور قتل کے معاملے میں اپنی جانچ رپورٹ عوامی کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے فیملی نظربند جیسی صورت حال  میں رہ رہی ہے۔ سی بی آئی کو معاملے میں پولیس کے رول کی بھی جانچ کرنی چاہیے۔

لکھنؤ میں پی یوسی ایل کے ممبروں  کی پریس کانفرنس(فوٹو: عصمت آرا)

لکھنؤ میں پی یوسی ایل کے ممبروں  کی پریس کانفرنس(فوٹو: عصمت آرا)

اتر پردیش کے ہاتھرس میں دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ اورقتل کے معاملے میں شہری حقوق کی تنظیم  پیپلس یونین فار سول لبرٹیز(پی یوسی ایل)نے سنیچر کو اپنی جانچ رپورٹ عوامی کی۔اس میں کہا گیا ہے کہ سی آر پی ایف کی تعیناتی سے متاثرہ فیملی  کو فوری راحت ضرور ہے، لیکن وہ محفوظ  نہیں ہیں۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہاتھرس گینگ ریپ متاثرہ  کی فیملی گھر میں نظربند جیسی حالت  میں رہ رہی ہیں۔

پی یو سی ایل نے سنیچر کو لکھنؤ واقع پریس کلب کے ہال میں ایک پریس کانفرنس  کے دوران کہا کہ متاثرہ فیملی  نے انہیں مہیا کرائی گئی سی آر پی ایف سکیورٹی واپس لینے کے بعد اپنی جان کے خطرے کے خدشات  کا اظہار کیا تھا۔

پی یو سی ایل نے کہا، ‘سی آر پی ایف کی تعیناتی سے متاثرہ فیملی کو فوری راحت ضرور ہے، لیکن وہ محفوظ  نہیں ہیں۔ متاثرین خوف زدہ ہیں کہ فورس کے نہیں رہنے پر کیا ہوگا، اس لیے ان کے تحفظ  کے علاوہ نربھیا فنڈ سے ان کی بازآبادی کا انتظام  کیا جائے۔’

پی یو سی ایل کے ممبر کمل سنگھی نے کہا، ‘جب ہم اہل خانہ سے ملنے گئے تو ایسا لگا جیسے ہم جیل میں بند کسی دہشت گرد  سے ملنے جا رہے ہیں، نہ کہ کسی خوفناک ریپ متاثرہ کے گھر والوں سے۔’

تنظیم  نے ہاتھرس معاملے میں سی بی آئی کی جانچ رپورٹ بھی جاری کی۔

گزشتہ 14 ستمبر کو ہاتھرس میں مبینہ طور پر ٹھاکر کمیونٹی کے چار لوگوں نے دلت لڑکی  کا گینگ ریپ کیا تھا۔ لڑکی  کی 29 ستمبر کو علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ اسی دن دیر رات (30 ستمبر کو علی الصبح)اتر پردیش کی ہاتھرس انتظامیہ نے اہل خانہ  کی موجودگی اور منظوری کے بنا آناًفاناً میں آخری رسومات کی ادائیگی  کر دی تھی۔

اس معاملے میں لگ بھگ دو مہینے بعد جانچ ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہے۔

پی یو سی ایل کےاراکین نے کہا، ‘سی بی آئی الہ آبادہائی کورٹ  کی دیکھ ریکھ میں ہاتھرس معاملہ کی آزادانہ  اور غیر جانبدارانہ جانچ کر رہی ہے لیکن سی بی آئی جانچ کے باوجود متاثرہ فیملی  مطمئن نہیں ہے۔ تحفظ کا خطرہ  بنا ہوا ہے، کیونکہ سی آر پی ایف کے جانے کے بعد اہل خانہ  کی جان محفوظ  نہیں رہےگی۔’

کمل سنگھ، فرمان نقوی، آلوک انور، ششی کانت، کے بی موریہ سمیت پی یو سی ایل کے اراکین  کی ٹیم نے ہاتھرس واقع متاثرہ کے گاؤں کا دورہ کیا تھا۔انہوں نے متاثرین سے ملاقات کی اور اب تک ہوئی جانچ کے سلسلے میں ایک رپورٹ جاری کی۔

‘اَ بلیک سٹوری’ نام سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ریپ متاثرہ کےاہل خانہ  کی بازآبادی کا بندوبست کیا جانا چاہیے اور گھر کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کے وعدے کو جلد سے جلد پورا کیا جانا چاہیے۔کمل سنگھ نے کہا کہ گھروالے فکر مند ہیں  کہ اگر سی آر پی ایف کو ہٹا لیا گیا تو کیا ہوگا؟

پی یو سی ایل کے ممبروں  نے کہا کہ مقامی پولیس اور گاؤں کے دبنگوں کا گٹھ جوڑ برقرار ہے، اس لیے متاثرین دہشت میں ہیں  کہ فورس کے ہٹنے پر ان کی زندگی کا کیا ہوگا۔

کمل سنگھ نے کہا، ‘متاثرہ کے والد نے ہمیں بتایا کہ وہ تحفظ کے نقطہ نظر  سے اپنے بیٹوں کو گاؤں میں رہنے کے بجائے باہر کام کے لیے بھیج دیں گے۔ ہم بھی فیملی کےتحفظ کو لےکر فکرمند ہیں، کیونکہ مقامی انتظامیہ، پولیس اور گاؤں کے اشرافیہ کی سانٹھ گانٹھ ویسی ہی ہو جائےگی، جیسے پہلے تھی۔ میں اس دن کو لےکر فکرمند ہوں، جب فیملی  کی سکیورٹی ہٹا دی جائےگی۔’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ متاثرین سے ملنے کے دوران انہیں کچھ چونکانے والی باتیں پتہ چلیں۔انہوں نے کہا، ‘شکایت گزار 17 ستمبر کو پولیس تھانے گئے تھے یعنی پانچ دن پہلے جب پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ متاثرہ  نے پہلی بار ریپ  کا ذکر کیا تھا اور تحریری  شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت کو پولیس حکام  نے درج کیا تھا لیکن بعد میں اسے رفع دفع کر دیا گیا۔’

انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو معاملے میں پولیس کے رول کی بھی جانچ کرنی چاہیے۔

کمل سنگھ نے کہا، ‘سی بی آئی جانچ کا دائرہ بڑھایا جانا چاہیے اور جن پولیس حکام  نے معاملے کونظرانداز کیا تھا انہیں جانچ کے دائرے میں لانا چاہیے۔ پولیس حکام  نے کہا تھا کہ ریپ  نہیں ہوا تھا اور صبح کے وقت آخری رسوم کی ادائیگی  کی گئی، اس کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔’

پی یو سی ایل کے ممبروں نے کہا کہ اس معاملے میں کچھ حکام  کے خلاف محکمہ جاتی  کارروائی کی گئی ہے، لیکن جن پولیس و انتظامیہ  کے خلاف مجرمانہ  معاملے بنتے ہیں اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔تنظیم  نے یہ بھی کہا کہ ہاتھرس جانے کے راستے متھرا میں گرفتار کیے گئے صحافی صدیق کپن سمیت چار لوگوں کے خلاف یوپی پولیس کے الزام اس معاملے سے دھیان ہٹانے کے لیے لگائے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی بھی سی بی آئی جانچ ہونی چاہیے۔پی یو سی ایل کے ایک دیگرممبر اور وکیل فرمان نقوی نے کہا کہ اس معاملے کے ساتھ پاپولر فرنٹ آف انڈیا(پی ایف آئی)کو جوڑنا ہندو مسلم تفریق  کے جذبے کوپیدا کرنے کے ارادے سے کیا گیا۔

انہوں نے کہا، ‘اگر پی ایف آئی شدت پسند اسلامی  تنظیم  ہے تو اس پر پابندی کیوں نہیں لگائی  جاتی۔’انہوں نے کہا کہ یوپی سرکار کے ذریعے ان چاروں لوگوں کو گرفتار کرنا ہاتھرس معاملے میں اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش ہے۔

پی یو سی ایل کے ایک دیگر ممبر آلوک انور نے کہا کہ چاروں لوگوں کو غیرقانونی طریقے سے گرفتار کیا گیا اور انہیں فوراً رہا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا،‘انہیں اپنے وکیلوں اور فیملی  سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کن حالات میں ہیں۔’

کمل سنگھ نے کہا کہ پی یو سی ایل کی ٹیم نے جب گاؤں کا دورہ کیا تھا تو وہ اس بات سے ڈرے ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ بھی پچھلے مہینے گرفتار کئے گئے چاروں لوگوں کی طرح سلوک  نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سرکار ہاتھرس کے ضلع  مجسٹریٹ کا دفاع کر رہی تھی۔

بتا دیں کہ ہاتھرس کے ضلع  مجسٹریٹ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا تھا، جس میں وہ متاثرہ فیملی  کے ممبروں  کو دھمکاتے نظر آ رہے ہیں۔ممبروں  کے مطابق، گینگ ریپ  اورقتل کے معاملے میں کارروائی ہوئی، لیکن جس طرح جبراًلاش  جلائی  گئی اورفیملی کے ممبروں  کو آخری بار دیکھنے بھی نہیں دیا گیا، ان حکام  کے خلاف کوئی کارروائی کیوں  نہیں کی گئی۔

ممبروں  نے برخاست کیے گئے پولیس حکام  پر مجرمانہ مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ہی ضلع مجسٹریٹ  کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی۔

کمل سنگھ نے کہا، ‘متاثرہ  کےاہل خانہ کو دھمکانے کے لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ یہ بتانے پر کہ میڈیا کے جانے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوگا، یہ پوچھنے پر کہ کیا انہیں معاوضہ چاہیےیا کچھ اور۔ اس طرح انتظامیہ  انہیں بچا رہی ہے۔’

ممبروں  نے کہا کہ جبراًلاش جلائے جانے کے معاملے کی بھی سی بی آئی جانچ کرے، اس کے ساتھ ہی ہاتھرس سانحہ کے نام پر دنگا بھڑ کانے اور سازش  سےمتعلق  مقدمے جس میں ایس ٹی ایف  کے تحت  جانچ چل رہی ہے، انہیں  بھی عدالت کی نگرانی  میں جاری سی بی آئی جانچ کے دائرے میں لیا جانا چاہیے۔

ادارہ  کے ممبروں  نے کہا کہ متاثرہ  اور ان کے گھروالوں کی کردار کشی  کی گئی اور ایسا کرنے والوں کو بخشا نہیں جا سکتا۔

جانچ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ  کی کردار کشی قابل سزا جرم  ہے اور ایسا کرنے والوں اور متاثرہ فیملی  کے خلاف پروپیگنڈہ  کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

شہری حقوق  کے لیےکام کر رہی تنظیم پی یو سی ایل نے منیش سنہای، سیما آزاد، آلوک، ودشی، سدھانت راج، ششی کانت، کے بی موریہ، توحید، کے ایم بھائی اور کمل سنگھ کی ایک ٹیم بنا کر جانچ رپورٹ تیار کرائی۔ سنیچر کو پی یو سی ایل نے اس جانچ رپورٹ کی ایک کتاب  بھی تقسیم  کی، جس میں اتر پردیش سرکار پر سنگین الزام  لگائے گئے ہیں۔

اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔