خبریں

یوپی: دبنگوں کا خوف، دو مہینے سے چھپ کر رہ رہے ہیں اپنے گیتوں میں امبیڈکر کے خیالات کوپیش کر نے والے گلوکار

غازی پور ضلع کے وشال غازی پوری اور ان کی اہلیہ سپنا دلت اورپسماندہ مفکرین  کی تعلیمات  کو گیتوں کے ذریعہ  پیش کرتے ہیں۔گزشتہ اکتوبر میں ان گیتوں سے ناراض علاقے کے کچھ دبنگوں نے ان کے اسٹوڈیو میں آگ زنی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ پولیس میں شکایت درج ہونے کے باوجود وشال اپنی فیملی کے ساتھ  چھپ کر رہنے کو مجبور ہیں۔

ایک تقریب میں سپنا اور وشال۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

ایک تقریب میں سپنا اور وشال۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

بابا صاحب امبیڈکر کے خیالات کو گیتوں کے ذریعےپیش کرنےوالےنوجوان گلوکار وشال غازی پوری  اور ان کی اہلیہ سپنا بودھ دو مہینے سے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔مشن گیت کے علاوہ پرائیویٹائز یشن، روزگار کے مدعے پر ان کے گائے گیت‘آیا دیش وکریتا’،‘نجی کرن دھوکہ ہے’ اور ‘ایک تھا ہٹلر ایک ہے جھوٹھلر’سے دبنگ ناراض ہو گئے ہیں۔ ان کے اسٹوڈیومیں آگ زنی کرنے کے بعد انہیں روزانہ جان سے مارنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔

ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر پائی ہے۔ جان بچانے کے لیےمیاں بیوی  اپنے دوسالہ بچہ کے ساتھ چھپ کر رہ رہے ہیں۔وشال سنگھ بادل عرف وشال غازی پوری  اور ان کی اہلیہ  سپنا بودھ غازی پور ضلع کے نونہرا تھانے کے وشنوپور گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ گاؤں سے دو کلومیٹر دور نونہرا میں وشال اور سپنا نے اپنا اسٹوڈیو بنا رکھا ہے۔ وہ یہیں رہتے ہیں۔

وشال کے والدین گاؤں میں دو ایکڑ زمین  بٹائی پر لےکر گھر چلاتے ہیں۔ وشال نے جون پور سے گریجویٹ کرنے کے بعد الہ آباد سے پربھاکر سنگیت کی تعلیم  لی ہے۔بی ایچ یو میں ڈپلومہ کورس کرتے ہوئے وہ  روی داس اسکول  کےمینجمنٹ سے جڑے رام جی راؤ کے رابطہ میں  آئے۔ رام جی راؤ نے انہیں رہنے کی جگہ دی اور اسکول کے بچوں کو موسیقی  کی تعلیم  دینے کو کہا۔

رام جی راؤ نے انہیں بابا صاحب امبیڈکر، جیوتی با پھولے، چھترپتی ساہوجی، ساوتری بائی پھولے، کانشی رام کے خیالات  اورتعلیمات  سے متعارف کرایا اور انہیں ان کے خیالات کو گیتوں کےذریعے حاشیائی سماج کو بیدار کرنے کے لیے راغب  کیا۔

(فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

(فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

وشال سال 2014 سے مشن گلوکار بن گئے اور دلت مفکرین  کے خیالات  کو گیت کے ذریعے پیش کرنے لگے۔سال2016 میں سدھارتھ نگر ضلع میں ایک تقریب  میں اپنا پروگرام  دینے پہنچے وشال کی ملاقات سپنا سے ہوئی۔ سپنا اسی ضلع کے ڈھیبروآ کی رہنے والی ہیں اور اس تقریب  میں پروگرام  دینے آئی تھیں لیکن موقع نہیں مل سکا۔

اس ملاقات کے بعد دونوں میں دوستی ہو گئی اور پھر انہوں نے کئی تقاریب  میں ایک ساتھ مشن گیت گائے۔ سال 2017 میں دونوں نے شادی کر لی۔ اب ان کا ایک بچہ بھی ہے۔وشال اور سپنا کے اب تک 100 البم آ چکے ہیں جس میں انہوں نے سینکڑوں گیت گائے ہیں۔ ‘سنو سپاہی بھیم’، ‘جئے بھیم نمو بدھائے’، ‘یدھ نہیں بدھ چاہیے’، ‘بھیم دیوانوں چلو بدھ کی اور’دونوں کےاہم البم ہیں۔

وشال اور سپنا پچھلے تین چار سالوں میں مشن گلوکار کے طور پر کافی مقبول ہو گئے۔ حال کے دنوں  میں انہوں نے ملک  کے اہم مسائل پر مرکوز کئی گیت گائے۔ان کا گایا گیت‘آیا دیش وکریتا’، ‘نجی کرن تو دھوکہ ہے’ اور ‘ایک تھا  ہٹلر ایک ہے جھوٹھلر’ کافی مشہور ہوئے۔ ان دو گیتوں میں وشال اور سپنا نے نجی کرن، بےروزگاری، ملک  کے اقتصادی  حالات کو بیان  کرتے ہوئے بنا کسی کا نام لیے ملک کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔

آیا دیش وکریتا گیت میں وہ کہتے ہیں،

جب بھارت اپنا بکھرا تھا تب چندر گپت نے اکھنڈ کیا

پھر اپنی قلم کے دم پہ اسے بھیم راؤ نے بلند کیا

اس دیش کی کرسی پہ اب تو ایسا ٹھگ ہے بیٹھا

جو دیش کو ایسے بیچ رہا کہ نام پڑا وکریتا

وہ چائے بیچتے بیچتے اب بن گیا دیش وکریتا

کالا دھن لاؤں گا کہہ کے بھارت کے کوش کو صاف کیا

شرمکوں کو بھوکھے مار رہا دھنکوں کا آئکر معاف کیا

اربوں کھربوں دھن نگل کے بھی خود کو فقیر ہے کہتا

جو دیش کو ایسے بیچ رہا کہ نام پڑا دیش وکریتا

وہیں‘ ایک تھا ہٹلر ایک ہے جھوٹھلر’ میں انہوں نے آئینی اداروں  کو کمزور بنا دینے کا سوال اٹھایا ہے،

ایک تھا ہٹلر ایک ہے جھوٹھلر

ایک نے جرمنی کا ناش کیا

ایک نے بھارت کو کنگال کیا

اچھے دن کا سپنا دکھا کے ڈال دیا دلدل میں

ای ڈی اسی کو جیب میں رکھ لیا، میڈیا کو اپنی بغل میں

نیایہ پالیکا کو بھی اس نے ڈرا ڈرا کے بےحال کیا

سمے سمے پر وہ اپنے بھکتوں کو بھی آزماتا ہے

کبھی جو سنکٹ آئے تو تالی تھالی بجواتا ہے

دھرم کا زہر پلا پلا کے لاکھوں بھکت وہ پال لیا

نوکری دوں گا کہ کے وہ کروڑوں نوکری چھین لیا

آر بی آئی کو خالی کرکے ارتھویوستھا شونیہ کیا

کھربوں کے قرض میں بھارت کو چندن وہ پھر سے ڈال دیا

(فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

(فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

گیت کے جواب میں ملی دھمکیاں

چندن کے لکھے ان گیتوں کو جب وشال اور سپنا نے گایا تو وہ  کافی مقبول ہوئے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ علاقے کے کچھ دبنگ لوگوں کے نشانے پر آ گئے۔وشال کو 27 اکتوبر 2020 کو چار موبائل نمبروں سے کال کرکے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ وشال نے اس کی اطلاع نونہرا تھانے کو دی۔

دو دن بعد 29 اکتوبر کو ان کے اسٹوڈیو پر رات میں آئے کچھ لوگوں نے دروازہ پیٹتے ہوئے بھدی بھدی گالیاں دیں اور کہا کہ یہ گیت گاکر اس نے اچھا نہیں کیا ہے۔ اسے جان سے مار دیا جائےگا۔ ان کے گھر اور اسٹوڈیو پر لگے فلیکس کے بینر، جھنڈے وغیرہ جلا دیے۔

اس واقعہ کی اطلاع وشال نے نونہرا تھانے کو دیتے ہوئے تحریر دی۔ پولیس نے دھارا 506، 507،435 اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی وفعہ3 2 کے تحت دگ وجئے سنگھ، رشی اوستھی اور دو نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

ایف آئی آر درج ہونے کے اگلے دن وشال کو دھمکی بھرے تین کال آئے۔ اس کے بعد 31 اکتوبر اور چار نومبر کو بھی انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے کال آئے۔یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے دو مہینے بعد بھی کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

وشال اور سپنا کو لگاتار دھمکی بھرے فون آتے رہے، جس سے ڈرکر انہوں نے گھر چھوڑ دیا اور پچھلے دو مہینے سے چھپ کر رہ رہے ہیں۔

وشال نے بتایا کہ انہوں نے ایس پی  کوخط لکھ کر تحفط  کا مطالبہ کیا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ انہیں اور ان کی فیملی کو نقصان پہنچایا جائےگا۔ ان کا پیچھا کیا جاتا ہے۔ لگاتار دھمکیوں کی وجہ سے وہ ایک طرح کی انڈرگراؤنڈ زندگی بسرکر رہے ہیں۔ وہ کھلے طور پر کہیں آ جا نہیں سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک بار کچھ وقت کے لیے گاؤں گئے تھے، تو دھمکانے والوں کو پتہ چل گیا اور کال آ گیا کہ تم بچو گے نہیں۔ چاہے چاہے کتنا چھپ لو۔وشال نے ضلع مجسٹریٹ،اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن، ایس سی ایس ٹی کمیشن اور ڈائریکٹر جنرل آف  پولیس کو بھی خطوط  بھیج کر دھمکی دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے اور تحفظ  کی مانگ کی ہے۔

وشال کہتے ہیں،‘جب گیت گانا شروع کیا تو مقصدمنوج تیواری اور روی کشن جیسا گلوکاراوراداکاربننا تھا لیکن امبیڈکرتحریک سے جڑنے کے بعد اندر کا یہ کیڑا مر گیا اور پوری زندگی بابا صاحب کے مشن میں لگانے کا ارادہ کیا۔ ہم دونوں بابا صاحب کے مشن کو اپنے گیتوں کے ذریعے آگے بڑھا رہے ہیں۔’

وشال کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ان کے گیت سے اعتراض  ہے، ان سے وہ بات چیت اور بحث کو تیار ہیں لیکن گیت پسند نہ آنے پر تشددکا سہارا لینا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ عدم تشدد کی راہ پر چلتے ہیں  اور بابا صاحب کے مشن کے لیے کام کرتے رہیں گے اور دھمکیوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔

(مضمون نگار گورکھپور نیوزلائن ویب سائٹ کے مدیر ہیں۔)