خبریں

کیا وزیر اعظم مودی نے ملک کی خفیہ جانکاری ارنب گوسوامی کو لیک کی: راہل گاندھی

ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کو بالا کوٹ ہوائی حملے کی جانکاری تین دن پہلے ہونے کی جانب  اشارہ کرنے والے لیک ہوئے وہاٹس ایپ چیٹ کے سلسلے میں  کانگریس رہنما راہل گاندھی نے معاملے کی جانچ کے لیےپارلیامانی کمیٹی کی تشکیل کامطالبہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس ترجمان نے گوسوامی کی فوراً گرفتاری کی بھی مانگ کی۔

کانگریس رہنما راہل گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کانگریس رہنما راہل گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کے وہاٹس ایپ چیٹ پر اپنا پہلاردعمل  دیتے ہوئے کانگریس رہنما راہل گاندھی نے دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی آواز میں اپنی آوازملاتے ہوئے معاملے کی جانچ کے لیے پارلیامانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ  کیا ہے۔

بتا دیں کہ ان لیک ہوئے وہاٹس ایپ چیٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گوسوامی کو 2019 کے بالا کوٹ ہوائی حملے کی پہلے سے جانکاری تھی۔

رپورٹ کے مطابق، لیک کو لےکر سیدھے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ‘کسی صحافی  کو ملک کی سلامتی  سے متعلق حساس  جانکاری فراہم  کرنا ایک‘مجرمانہ فعل’ہے اور اس معاملے کی جانچ ہونی چاہیے۔’

انہوں نے کہا، ‘آپ دیکھیں گے کہ کوئی جانچ نہیں کی جائےگی، کیونکہ جانکاری  لیک کرنے والے خود وزیر اعظم تھے۔’گاندھی نے کہا، ‘اس طرح کی چیزیں(بالا کوٹ ہوائی حملہ)صرف کچھ لوگوں کی جانکاری میں ہوتی ہیں، جس میں وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع،سکریٹری دفاع، ایئر فورس چیف اور ملٹری چیف شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر اس طرح کا کوئی راز کسی صحافی کو لیک ہو گیا ہے، تو یہ سرکاری پرائیویسی سے متعلق قانون کی خلاف ورزی  ہے۔ یہ ایک ملک کی خفیہ جانکاری کو لیک کرنے کا معاملہ ہے۔’

انہوں نے الزام لگایا،‘انہیں پانچ لوگوں میں سے کسی ایک نے جانکاری دی ہوگی۔ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔’

راہل گاندھی نے کہا، ‘ہمیں یہ پتہ کرنا ہوگا کہ یہ جانکاری کس نے دی۔ جانکاری  دینے اور حاصل کرنے والے دونوں کو جیل جانا ہوگا۔ اس کی کارروائی شروع ہو جانی چاہیے، لیکن یہ کارروائی شروع نہیں ہوگی، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم نے ہی جانکاری  دی ہوگی۔’

کانگریس رہنما کے مطابق، ہوائی حملے کاسیاسی فائدہ  اٹھانے میں کچھ بھی حب الوطنی جیسا نہیں ہے۔

انہوں نے آگے کہا کہ مرکز میں(اقتدارمیں بیٹھی)بی جے پی اور اس کی سرکار خود کو ‘دیش بھکت اور راشٹروادی’ کہتی ہے، لیکن قومی سلامتی سےسمجھوتہ  کر سکنے والی ایسی حساس  جانکاری لیک کرنا ایک مجرمانہ فعل  ہے، جو کہ ملک  کی فضائیہ  اور اس کے پائلٹوں کو سنگین خطرے میں ڈالتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی یقینی طور پر جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ‘ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے کس نے ارنب گوسوامی کو یہ جانکاری دی۔ کیا وہ خود وزیر اعظم نریندر مودی تھے؟ یا وہ وزیر داخلہ تھے؟

سابق کانگریس صدرنے کہا، ‘اگر ارنب گوسوامی کے وہاٹس ایپ پیغامات پر ایسی جانکاری ہےتو یہ پاکستان کے پاس بھی ہو سکتی ہے اور پھر یہ خفیہ نہیں رہ سکتی ہے۔ اس لیے یہ پائلٹوں کی زندگی اور پورے آپریشن کو خطرے میں ڈالتی ہے۔’

بتا دیں کہ کئی چینلوں کی جانب سے ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹس(ٹی آر پی)کو لےکر کی گئی مبینہ دھوکہ دھڑی معاملے میں چل رہی جانچ میں ممبئی پولیس نے ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ارنب گوسوامی اور براڈکاسٹ آڈینس ریسرچ کاؤنسل (بی اے آر سی)کے سابق سی ای او پارتھو داس گپتا کے بیچ ہوئی وہاٹس ایپ چیٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے ریٹنگس سے ‘چھیڑ چھاڑ’ کے طریقوں کے بارے میں چرچہ کی تھی۔

وہاٹس ایپ پیغامات گوسوامی کی وزیر اعظم دفتر اور وزارت اطلاعات ونشریات سے نزدیکی دکھاتے ہیں، ساتھ میں یہ بھی دکھاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی پہنچ کا غلط استعمال کیا۔

ان پیغامات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گوسوامی کو ان اہم  فیصلوں کی بھی جانکاری تھی جو مرکزی حکومت  نے لیے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں بالا کوٹ ایئراسٹرائیک اور جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کی بھی پہلے سے جانکاری تھی۔ اس سے سرکار کے اعلیٰ کمان سے ان کےقریبی تعلقات کا بھی پتہ چلتا ہے۔

دونوں کے بیچ پیغامات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس بالا کوٹ ہوائی حملے سے تین دن پہلے 23 فروری، 2020 کو یہ جانکاری تھی کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔مبینہ طور پر گوسوامی کہتے ہیں کہ یہ نارمل سے بڑی اسٹرائیک ہوگی اور سرکار کو یقین ہے کہ اس اسٹرائیک سے لوگ خوش ہو جائیں گے۔

اس سے پہلے کانگریس رہنما پی چدمبرم نے اتوارکو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے پوچھا تھا کہ کیا اسٹرائیک، سے تین دن پہلے ایک صحافی کو جوابی حملے کے بارے میں پتہ تھا؟ آخر قومی سلامتی  سےمتعلق خفیہ فیصلے کی جانکاری سرکار حامی صحافت کو کیسے ملی؟

گاندھی کے تبصرے ایک پریس کانفرنس  کے بعد آئے، جس میں انہوں نے تین نئے زرعی  قوانین کے خلاف بڑے پیمانے پر ناراضگی کو نظر انداز کرنے کے لیےمرکز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے کسان مخالفت کر رہے ہیں، لیکن سرکار حل  دینے میں دیری کر رہی ہے۔

مرکز کو ارنب گوسوامی کے مبینہ  چیٹ کانوٹس لینا چاہیے: مہاراشٹر وزیر داخلہ

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ  انل دیشمکھ نے منگل کو اس معاملے پر کہا کہ مرکز کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے ممبئی میں صحافیوں  سے کہا کہ یہ معاملہ سنگین ہے، کیونکہ یہ قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔ بعد میں انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ریاستی سرکار اس معاملے پر قانونی صلاح بھی لےگی، کیونکہ یہ بالکل صاف  ہے کہ انہیں قومی سلامتی  سے متعلق منصوبے کی جانکاری تھی۔

دیشمکھ کا یہ بیان کانگریس کی مہاراشٹر اکائی کے ایک وفدکے ذریعے ان سے ملاقات کرنے کے بعد آیا ہے۔ ریاستی کانگریس کے ترجمان سچن ساونت کی قیادت میں کانگریس کا ایک وفد دیشمکھ سے ملا تھا اور اس نے ان سے معاملے کی جانچ کرنے کی مانگ کی۔

ساونت نے اس سلسلے میں گوسوامی کی فوراً گرفتاری کی بھی مانگ کی۔کانگریس وفدکے ساتھ ملاقات کے بعد دیشمکھ نے صحافیوں سے کہا، ‘یہ سنگین  مدعا ہے۔ یہ قومی سلامتی  کا مدعا ہے۔ مرکز کو یقینی طور پر ہی اس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔’

انہوں نے بعد میں ٹوئٹ کیا، ‘ہم اس معاملے پر قانونی صلاح بھی لیں گے، کیونکہ یہ بالکل صاف ہے کہ انہیں قومی سلامتی سےمتعلق منصوبے کی جانکاری تھی۔’انہوں نے لکھا،‘ریاستی  سرکار سینئر پولیس حکام  کے ساتھ چرچہ کے بعد آگے کی قانونی کارروائی کرےگی۔’

دیشمکھ کو سونپے ایک میمورنڈم میں کانگریس وفدنے کہا کہ یہ‘بڑی تشویش’کی بات ہے کہ گوسوامی کو نہ صرف مسلح افواج  کے قومی سلامتی سے متعلق مہم کے بارے میں بہت ہی خفیہ معاملے کی جانکاری تھی بلکہ وہ اسے داس گپتا کے ساتھ ‘کھلے عام’شیئر کر رہے تھے۔

کانگریس نے سوال کیا کہ کیسے گوسوامی کو پاکستان میں فضائیہ  کے سرحدپار ہوائی حملے سے کئی دن پہلے ہی مبینہ طور پراس کی جانکاری  مل گئی۔ پارٹی نے کہا کہ یہ اعلیٰ سطح  پر قومی سلامتی کے ساتھ سمجھوتے کو دکھاتا ہے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے، ‘ہم آپ سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ مسلح افواج  کی مہم  سے کئی دن پہلے ہی اس کے بارے میں حساس  اور خفیہ جانکاری  لیک کرنے کی جانچ کا آرڈر دیا جائے اور اگرضروری سمجھا جائے تو ارنب گوسوامی کے خلاف  سرکاری پرائیویسی سے متعلق قانون، 1923 کے تحت معاملہ درج کیا جائے۔’

ساونت نے ایک بیان میں الزام  لگایا کہ گوسوامی کو تین دن پہلے ہی ہوائی حملے کے بارے میں پتہ چل گیا تھا۔انہوں نے کہا،‘کیسے گوسوامی کو ایسی خفیہ  اور حساس جانکاری  ملی؟یہ ایک طرح کی غداری  ہے اور گوسوامی کوفوراً گرفتار کیا جانا چاہیے۔’

اس سے پہلے گزشتہ18 جنوری کو شرد پوار کی قیادت والی این سی پی  نے سرکار سے گوسوامی اور داس گپتا کے بیچ مبینہ  چیٹ کی جانچ کے لیے جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی بنانے کی مانگ کی تھی۔

قومی سلامتی  کے مدعوں کو ٹی آر پی کا تماشہ بنا دیا گیا ہے: محبوبہ مفتی

جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ  اور پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے الزام  لگایا ہے کہ قومی سلامتی اور بے اہم  مدعوں کو ‘ایک ٹی آر پی تماشہ’بنا دیا گیا ہے۔

مفتی ‘ری پبلک ٹی وی’ کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی اور ٹیلی ویژن ریٹنگ ایجنسی بی اے آرسی کے سابق سی ای او پارتھو داس گپتا کے بیچ ان مبینہ  وہاٹس ایپ پیغامات پر ردعمل دے رہی تھیں، جو ممبئی پولیس کی جانب سے ٹی آر پی گھوٹالہ معاملے میں دائر ضمنی چارج شیٹ  کامبینہ  طور پرحصہ ہیں۔

انہوں نے بالا کوٹ ہوائی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا،‘آج یہ صاف  ہو گیا ہے کہ وہ پلوامہ حملے کے شہیدوں کا بدلہ  لینے کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص پارٹی کوفائدہ  پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔’

محبوبہ نے ٹوئٹ کیا،‘قومی سلامتی ور بے حد اہم  مدعوں کو ایک ٹی آر پی تماشہ بنا دیا گیا ہے جو بی جے پی کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور غلط ڈسکورس  بناتے ہیں۔ لوگوں کو فرضی خبروں  پر یقین کرایا جاتا ہے، ملک میں اور ملک  کے باہر کے فرضی دشمنوں  سے نفرت کرائی جاتی ہے۔ ملک  جاننا چاہتا ہے کہ اس کی قیمت کون چکائےگا؟’

 (خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)