خبریں

لال قلعہ پر ترنگا نہیں ہٹایا گیا، نہ ہی لگایا گیا جھنڈا خالصتانیوں کا ہے

سوشل میڈیا پر مختلف صحافیوں  اور شخصیات  کا یہ دعویٰ کہ یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر پریڈ کے دوران لال قلعہ پر پہنچے مظاہرین نے خالصتان کا جھنڈا پھہرایا فیکٹ چیک میں غلط پایا گیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

(فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: منگل کو یوم جمہوریہ کے موقع پر زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ دو مہینے سے مظاہرہ  کر رہے کسانوں نے ٹریکٹر پریڈ نکالنے کامنصوبہ بنایا تھا اور اس کے لیے دہلی پولیس کی طرف سے انہیں غازی پور، سنگھو اور ٹکری بارڈر سے ایک سرکولر روٹ میپ دیا گیا تھا۔

یہ بھی طے ہوا تھا کہ مظاہرین دہلی میں داخل  توہوں گے لیکن سرحدوں کے پاس کے علاقوں میں ہی رہیں گے۔ حالانکہ جب منگل کو پریڈ نکلی تب ایسا نہیں ہوا اور ایک گروپ  پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سامنا کرتا ہوا آئی ٹی او ہوتے ہوئے لال قلعہ تک پہنچ گیا۔

اس تاریخی عمارت کے گنبد پر چڑھ کر کچھ مظاہرین نے جھنڈا لگایا، ساتھ ہی جس جگہ پر یوم آزادی  پر جھنڈا لہرایا جاتا ہے، وہاں ایک خالی ستون پر جھنڈا لگا دیا گیا۔

اس کے بعد سوشل میڈیا سمیت مختلف  جگہوں پر دو دعوے کیےجا رہے ہیں کہ –

مظاہرین نے یہاں ترنگا اتارا

ساتھ ہی ترنگا اتار کر خالصتان کا جھنڈا لگایا

سوال کیا گیا کہ کیوں مظاہرین نے ترنگے کو مذہبی  جھنڈے سے بدلا؟

ٹائمس ناؤ کے ایڈیٹر ان چیف راہل شیوشنکر نے بھی دعویٰ کیا کہ ترنگے کو ہٹایا گیا، لیکن انہوں نے یہ بھی جوڑا کہ جو جھنڈا لہرایا گیا وہ کسان یونین یا مذہبی مسلک  کا ہو۔

حالانکہ اس بیچ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ لگاتار کیا گیا کہ وہاں خالصتانی جھنڈا لگایا گیا تھا۔ جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ان میں دہلی بی جے پی  کے ترجمان ہریش کھرانہ،بی جے پی پارلیامانی سکریٹری ورن گاندھی، اشتا یادو،بی جے پی حمایتی  دویہ کمار سوتی، وکرانت کمار، سمت کڑیل، سمت ٹھکر، انوراگ دکشت اور شیفالی ویدیہ شامل ہیں۔

اس کے بعدرائٹ ونگ  ویب سائٹ آپ انڈیا نے ایک مضمون  میں لکھا کہ مظاہرین نے لال قلعے پر خالصتانی جھنڈا پھہرایا۔

آپ انڈیا کامضمون۔

آپ انڈیا کامضمون۔

کئی دیگر بی جے پی حامی  ہینڈل @NindaTurtles, @ExSecular and @IamMayank_ کی جانب سے بھی ایسے ہی دعوے کیے گئے۔

کیا ہے سچ

آلٹ نیوز کے فیکٹ چیک کے ذریعے اسے دو حصوں میں بانٹا گیا ہے

ہندوستانی  جھنڈے کو اتارا نہیں گیا تھا

مظاہرین نے خالی ستون  پر جھنڈا لگایا تھا۔ نہ ہی انہوں نے ترنگے کو اتارا، نہ ہی اس پر خالصتانی جھنڈا لگایا۔ اس بات کی تصدیق کئی ویڈیو کرتے ہیں۔

نیچے دیے گئے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب ایک شخص  خالی ستون  پر چڑھ رہا ہے، تب لاہور گیٹ (لال قلعہ کے انٹری گیٹ پر ترنگا لہرا رہا ہے۔

ہندوستانی  جھنڈے کو کئی تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ قلعے کے گنبدوں پر بھی جھنڈے لگائے گئے تھے۔

مظاہرین کے ذریعے لگایا گیا جھنڈا خالصتان کا نہیں

مظاہرین کے ذریعےلگایا گیا جھنڈا نشان صاحب کہلاتا ہے، جو سکھوں کا مذہبی جھنڈا ہے۔

قلمکار امن دیپ سندھو نے بتایا، ‘پیلا ہو یا کیسریا، دو کھندوں (تلواروں) کے نشان والا مثلث جھنڈا سکھ جھنڈا ہوتا ہے، خالصتان کا نہیں۔’

(فوٹو بہ شکریہ: آلٹ نیوز)

(فوٹو بہ شکریہ: آلٹ نیوز)

انہوں نے آگے کہا، ‘جب اقتدار کی تبدیلی  کی علامت  کے لیے کوئی جھنڈا لہرایا جاتا ہے تب پچھلے جھنڈے کو اتارتے ہوئے نیا جھنڈا لگایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں ہندوستان  کا جھنڈا اسی طرح لگا رہا جیسے وہ لگا تھا۔ اسے کسی نے چھوا بھی نہیں۔ سکھ جھنڈا لگانے کا مطلب ہے کہ ملک  کے لوگ اپنی یہ پہچان بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی ساتھ گنا جائے۔ وہ  نہیں چاہتے کہ مسندنشیں انہیں ہلکے میں لیں۔’

یوم جمہوریہ پر راج پتھ میں پنجاب کی جھانکی میں نشان صاحب۔ (فوٹو بہ شکریہ: آلٹ نیوز)

یوم جمہوریہ پر راج پتھ میں پنجاب کی جھانکی میں نشان صاحب۔ (فوٹو بہ شکریہ: آلٹ نیوز)

صحافی  ہرتوش سنگھ بل نے بھی ٹوئٹر پر بتایا کہ مظاہرین والے جھنڈے خالصتانی نہیں بلکہ سکھوں کےمذہبی جھنڈے ہیں۔

سکھوں کے یہ جھنڈے یوم جمہوریہ پر نکلنے والی پنجاب کی جھانکی کا بھی حصہ رہے ہیں۔ اس سال اور پچھلے سال کی تصویریں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔

2020 کی یوم جمہوریہ کی جھانکی میں نشان صاحب۔ (فوٹو بہ شکریہ : آلٹ نیوز)

2020 کی یوم جمہوریہ کی جھانکی میں نشان صاحب۔ (فوٹو بہ شکریہ : آلٹ نیوز)

نتیجہ یہی ہے کہ یہ دعویٰ کہ مظاہرین نے خالصتان کا جھنڈا لہرایا غلط ہے۔ وہیں یہ دعویٰ بھی کہ ترنگے کو ہٹاکر دوسرا جھنڈا لگایا گیا بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ جھنڈا ایک خالی ستون پر لگایا گیا تھا۔

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)