خبریں

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ کے خلاف غنڈہ ایکٹ، چھ ماہ کے لیے ضلع بدر

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر عارف تیاگی کو ضلع انتظامیہ نے یوپی غنڈہ ایکٹ کے تحت چھ مہینے کے لیے ضلع بدرکر دیا ہے۔ دونوں کمیونٹی کے بیچ نفرت پھیلانے سمیت کئی الزامات میں ان پر 2018 سے 2020 کے دوران چھ معاملے درج ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(فوٹو: پی ٹی آئی)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:علی گڑھ ضلع انتظامیہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے اسٹوڈنٹ لیڈر عارف تیاگی کے خلاف ضلع بدرکرنے کا آرڈرجاری کیا ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انتطامیہ نے یوپی غنڈہ ایکٹ کے تحت تیاگی کو چھ مہینے کے لیے ضلع بدر کر دیا ہے۔ یہ آرڈرپچھلے ہفتے جاری کیا گیا، لیکن تیاگی نے جمعہ  کو بتایا کہ انہیں یہ آرڈر دو دن پہلے ہی ملا ہے۔

فائنل ایئر کے پوسٹ گریجویٹ اسٹوڈنٹ 27 سالہ عارف تیاگی کے خلاف 2018 سے 2020 کے دوران آئی پی سی کی دفعہ153اے (دو کمیونٹی کے بیچ دشمنی پھیلانے)سمیت کئی الزامات میں علی گڑھ سول لائنس پولیس تھانے میں چھ معاملے درج ہیں۔

ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ دو معاملوں میں چارج شیٹ دائر کی گئی ہے جبکہ باقی معاملوں میں جانچ چل رہی ہے۔علی گڑھ شہر کےاے ایس پی کلدیپ سنگھ گناوت کا کہنا ہے کہ تیاگی کے خلاف درج کیےگئے معاملوں کی بنیاد پر غنڈہ ایکٹ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیاگی کو چھ معاملوں میں ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے۔

یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین کے نائب صدر کے لیےانتخاب لڑ چکے تیاگی نے کہا، ‘اسٹوڈنٹ پر غنڈہ ایکٹ لگانا اور انہیں ضلع بدر کرنے کا آرڈرجاری کرناضلع انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہراساں کرنا ہے۔ جب میں اےایم یو کیمپس میں مظاہرہ  کر رہا تھا، تب میرے خلاف تمام معاملے درج کیے گئے۔ یہ مظاہرہ اے ایم یو اسٹوڈنٹ یونین  آفس میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح  کی تصویر لگانا اور سی اےاے، این آرسی سمیت کئی معاملوں سے جڑے ہوئے تھے۔’

انہوں نے کہا، ‘ضلع انتظامیہ سے وجہ  بتاؤ نوٹس ملنے کے بعد مجھے ان معاملوں کے بارے میں پتہ چلا، جن میں مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ مجھے ضلع بدر کیوں نہیں کرنا چاہیے۔’انہوں نے کہا، ‘میں نے اس آرڈر کے خلاف علی گڑھ کمشنر کے سامنےعرضی دائر کی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں انصاف  کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ کا رخ بھی کروں گا۔’

علی گڑھ پولیس کی رپورٹ میں تیاگی کو یہ کہتے ہوئے بین کرنے کی مانگ کی گئی تھی کہ وہ لاپرواہ ہیں اور سماج کے لیے خطرہ ہیں۔