خبریں

کسانوں کی تحریک کو متعدد بین الاقوامی شخصیات کی حمایت ،ہندوستان  نے کہا-غیر ذمہ دارانہ

ملک میں تین زرعی قوانین کی مخالفت  میں 70 دنوں سے جاری  کسانوں کی تحریک  کو لے کر پاپ گلوکارہ  ریحانہ، کارکن گریتا تُنبیر، امریکی نائب صدرکملا ہیرس کی بھتیجی مینا ہیرس، یوٹیوبر للی سنگھ سمیت  کئی لوگوں نے حمایت  کی ہے۔ اس قدم کے لیے انہیں سوشل میڈیا پر ایک طبقہ کے ذریعے ٹرول کیا جا رہا ہے۔

پاپ گلوکارہ ہ یحانہ اور ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیر(فوٹو:  رائٹرس)

پاپ گلوکارہ ہ یحانہ اور ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیر(فوٹو:  رائٹرس)

نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ ریحانہ اور ماحولیاتی کارکن گریتا تُنبیرسمیت کئی بین الاقوامی شخصیات نے ہندوستان  میں پچھلے دو مہینوں سے جاری کسانوں کی تحریک کی حمایت میں اپنی آواز بلند کی ہے۔ملک میں تین زرعی قوانین کی مخالفت  میں 70 دنوں سے جاری  کسانوں کی تحریک کوسب سے  پہلے پاپ گلوکار ہ یحانہ نے اپنی حمایت دی ہے۔

ریحانہ نے ‘انڈیا کٹس انٹرنیٹ اراؤنڈ نیو ڈیلٹی ایج پروٹیسٹنگ فارمرس کلیش ود پولیس’عنوان  سے شائع سی این این کی  ایک اسٹوری  کو شیئر کرکے  کسانوں کی حمایت میں اپنی آواز بلند کی ۔ریحانہ نے ٹوئٹ کرکے کہا، ‘ہم کسانوں کی تحریک  کے بارے میں بات کیوں نہیں کر رہے ہیں؟’

ریحانہ کے ٹوئٹ کو کچھ ہی گھنٹوں میں ایک لاکھ سے زیادہ  بار ری ٹوئٹ کیا گیا اور دو لاکھ سے زیادہ  لوگوں نے اس کو لائیک کیا۔ماحولیات کے شعبے میں کام کرنے والی گریتا تُنبیرنے بھی سی این این کی اسٹوری شیئر کی اور زیادہ واضح  طریقے سے کسانوں کی تحریک کو اپنی حمایت دی ۔

انہوں  نے ٹوئٹ کرکے کہا، ‘ہم ہندوستان  میں کسانوں کی تحریک  کے لیے متحدہیں۔’ریحانہ اور گریتاکے بعد جہاں دنیا بھر کی متعددشخصیات  نے بھی کسانوں کی حمایت  میں اپنی آواز بلند کی ، وہیں دونوں کو ہندوستان میں ٹرولنگ کا شکار بھی ہونا پڑا۔

ریحانہ کے ٹوئٹ کی اداکارہ رچا چڈھا اور سورا بھاسکر نے تعریف کی ، وہیں کنگنا رنوت نے ریحانہ کو ‘احمق’ کہتے ہوئے مظاہرہ  کر رہے کسانوں کو دہشت گرد قرار دیا۔ایک ایسے وقت میں جب بالی ووڈ کےستارے اس مدعے پرخاموش ہیں، سوشل میڈیا صارف کے ایک طبقےنے ریحانہ کی تعریف  کی ہے۔

پچھلے سال پنجابی اسٹار گپی گریوال نے کسانوں کے ساتھ نہ کھڑے ہونے کے لیے ہندی فلم انڈسٹری کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔بالی ووڈ سے صرف کچھ ہی لوگ کسانوں کی حمایت  میں آئے تھے، جن میں دل جیت دوسانجھ، تاپسی پنو، رچا چڈھا، سونو سود، فلمساز ہنسل مہتہ، محمد ذیشان ایوب، دویا دتہ اور نہا شرما شامل ہیں۔

امریکہ کی پاپولر یوٹیوبر بھارتونشی للی سنگھ نے بھی ریحانہ کے اس ٹوئٹ کو شیئر کرکے ان کا شکریہ ادا کیا ۔

للی نے ٹوئٹ کرکے کہا، ‘یہ انسانیت  کا معاملہ ہے۔ میں کسانوں کے ساتھ کھڑی ہوں۔’

وہیں ایک اور ماحولیاتی کارکن وینسا نکاتے نے بھی کسانوں کو اپنی حمایت دی ہے۔ انہوں نے اس بارے  میں ٹوئٹ کر منی پور کی نو سالہ ماحولیاتی کارکن لسیپریا کانگجم کو ٹیگ کیا۔

اتنا ہی نہیں، امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس کی بھتیجی مینا ہیرس نے بھی کہا کہ سب کو ہندوستان  میں انٹرنیٹ کے بند ہونے اور کسانوں کے خلاف فورسز  کے تشدد سے ناراض ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم بولتے ہیں، دنیا کی سب سے زیادہ  آبادی والی جمہوریت پر حملہ ہوا ہے۔امریکی نمائندہ جم اکوسٹا، برٹش رکن پارلیامان کلاڈیا ویب، کارکن جیمی مارگولن اور ایکٹر جان کسک نے بھی کسانوں  کی حمایت میں اپنی آواز بلند کی  ہے۔

ریحانہ کے ٹوئٹ کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا۔ ہندوستان  میں ریحانہ کے ٹوئٹ کے جواب میں کرس براؤن کو ٹرینڈ کرایا گیا۔

بتا دیں کہ گلوکارہ کرس براؤن پر 2009 میں ریحانہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگا تھا اور کئی ٹوئٹرصارف نے گھریلوتشدد کے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش  کیا تھا اور اس کو منصفانہ  ٹھہرایا۔اس کے علاوہ ریحانہ کے رنگ روپ کو لےکر بھی کئی قابل اعتراض  اورغیر مہذب تبصرے  کیے گئے۔ کچھ صارف نے غلامی کو جائزٹھہرایا۔

دی  وائر نے ان سب ٹوئٹ کو دیکھا ہے لیکن انہیں شیئر نہیں کیا جا رہا ہے۔کسانوں کی تحریک کو اب عالمی سطح  پر مل رہی حمایت  کے بیچ وزارت خارجہ  نے بیان جاری کرکے اس کو غیرذمہ دارانہ  بتایا ہے۔

وزارت خارجہ  کےترجمان  انوراگ شریواستو نے بیان جاری کر کےکہا، ‘سنسنی خیز سوشل میڈیا ہیش ٹیگ اور کمنٹس سے لبھانے کا طریقہ، خاص کر جب مشہور ہستیوں اور دیگر لوگوں کے ذریعے کیا گیا ہو تو یہ نہ توصحیح ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ  ہے۔’

اس سلسلے میں وزارت خارجہ  نے کہا، ‘اس طرح کے معاملوں پر تبصرہ  کرنے سے پہلے ہم گزارش کرتے ہیں کہ حقائق کا پتہ لگایا جائے اور مدعوں کو ڈھنگ سے سمجھا جائے۔ ہندوستان  کی پارلیامنٹ نےمکمل  بحث اور چرچہ کے بعد زراعتی شعبے  سے متعلق اصلاحی قانون پاس کیے۔’

معلوم ہو کہ کسانوں کی تحریک نے اس وقت عالمی سطح پر توجہ  کھینچی ہے، جب دہلی کی سرحدوں کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے گاڑیوں کی آمدورفت کو روکنے کے لیے کئی سطح کی بیریکیڈنگ کی ہے۔ انٹرنیٹ خدمات  کو بند کر دیا گیا ہے۔

معلوم ہو کہ معلوم ہو کہ مرکزی حکومت کی جانب  سے زراعت سے متعلق تین بل– کسان پیداوارٹرید اور کامرس(فروغ اور سہولت)بل، 2020، کسان (امپاورمنٹ  اورتحفظ) پرائس انشورنس کنٹریکٹ اور زرعی خدمات بل، 2020 اور ضروری اشیا(ترمیم)بل، 2020 کو گزشتہ27 ستمبر کو صدر نے منظوری دے دی تھی، جس کے خلاف  کسان مظاہرہ  کر رہے ہیں۔

کسانوں کو اس بات کا خوف ہے کہ سرکار ان قوانین کے ذریعےایم ایس پی دلانے کے نظام کو ختم کر رہی ہے اور اگراس کو لاگو کیا جاتا ہے تو کسانوں کو تاجروں  کے رحم پر جینا پڑےگا۔دوسری جانب مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی مودی سرکار نے باربار اس سے انکار کیا ہے۔ سرکار ان قوانین کو ‘تاریخی زرعی اصلاح’ کا نام دے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ زرعی پیداوار کی فروخت کے لیے ایک متبادل  نظام  بنا رہے ہیں۔

ان قوانین کے آنے سے بچولیوں کا رول ختم ہو جائےگا اور کسان اپنی اپج ملک میں کہیں بھی بیچ سکیں گے۔دوسری طرف مظاہرہ کر رہے کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے ایم ایس پی کا سکیورٹی کوراور منڈیاں بھی ختم ہو جائیں گی اورکھیتی بڑے کارپوریٹ گروپوں  کے ہاتھ میں چلی جائےگی۔

 اس کولےکرسرکار اور کسانوں کے بیچ 11 دور کی بات چیت ہو چکی ہے، لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں نکل پایا ہے۔ کسان تینوں نئےزرعی  قوانین کو پوری طرح واپس لیے جانے اورایم ایس پی کی قانونی گارنٹی دیےجانے کی اپنی مانگ پر پہلے کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔

 (خبررساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)