خبریں

ٹوئٹر قوانین پر عمل کرے: سرکار

 ٹوئٹر نے 500 سے زیادہ  اکاؤنٹ بلاک کیے ہیں۔ حالانکہ اس نے اظہار رائے کی آزادی کوقائم  رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا اداروں ،صحافیوں ، کارکنوں  اوررہنماؤں کے اکاؤنٹ پر روک لگانے سے انکار کیا ہے۔

Twitter-1024x638

نئی دہلی: سرکار نے کسانوں کے احتجاج کے بارے میں پروپیگنڈہ اور بھڑکاؤ باتیں پھیلا رہے اکاؤنٹ اور ہیش ٹیگ کے خلاف فوراً کارروائی میں تاخیر کرنے پرٹوئٹرسے’ ناراضگی’ کا اظہار  کیا۔آئی ٹی وزارت  نے واضح  کیا کہ کمپنی کے بھلے ہی اپنےضابطے ہوں،لیکن اسے ملک  کے قوانین پرعمل  کرنا ہی چاہیے ۔

ٹوئٹر نے 500 سے زیادہ  اکاؤنٹ بلاک کیے ہیں۔ حالانکہ اس نے اظہار رائے کی آزادی کوقائم  رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیااداروں ،صحافیوں ، کارکنوں  اوررہنماؤں کے اکاؤنٹ پر روک لگانے سے انکار کیا ہے۔

آئی ٹی سکریٹری اور  ٹوئٹر کے سینئر عہدیداروں  کے بیچ ڈیجیٹل ڈائیلاگ کے دوران سرکار نے اس پلیٹ فارم  سے کہا کہ ہندوستان میں کام کر رہی  کاروباری یونٹ  کے طور پر اس کوقوانین اورجمہوری اداروں  کا احترام کرنا ہی چاہیے اور ملک میں ہم آہنگی کو بگاڑنے اوربدامنی  پھیلانے سے متعلق مہم  پر سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

سکریٹری  نے کسانوں کی تحریک  کے سلسلے میں اشتعال انگیزباتوں پر کارروائی کرنے سےمتعلق سرکاری احکامات پر عمل  نہیں کرنے پر  ٹوئٹر کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خبررساں  ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آئی ٹی وزارت نے امریکہ میں کیپیٹل ہل واقعہ  کے دوران  ٹوئٹرذریعے اٹھائے گئے اقدامات کی یاد دلائی اور اس کاموازنہ  26 جنوری کو ہندوستان  کے لال قلعے میں ہوئےواقعہ  سے کیا۔

آئی ٹی سکریٹری  نے دونوں واقعات  پر  ٹوئٹرکے ذریعے اٹھائے گئے اقدامات پر دہرا معیار اپنانے کاالزام  لگایا۔

سرکار نے  ٹوئٹر پر فرضی،غیرمصدقہ، گمنام اورسیلف ریگولیٹیڈ باٹ اکاؤنٹ کو اپنے پلیٹ فارم پرچلانے کی اجازت دینے کے طریقے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس سے پلیٹ فارم پر شفافیت اور صحت مند بات چیت کے عزائم  پرشبہ پیدا ہوتا ہے۔

سرکار کے ساتھ بات چیت میں ٹوئٹرکی نمائندگی  گلوبل پبلک پالیسی وائس پریسڈینٹ مونیکے میشے نے کیا۔

سرکار نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی کو مطلع یا گیا تھا کہ  ٹوئٹر اظہار رائے  کی آزادی  کے ساتھ نہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس طرح کی آزادی  کاغلط استعمال  کرتے ہیں اور نظم ونسق  کے لیےمسئلہ  پیدا  کرتےہیں۔

آئی ٹی سکریٹری  نے کسانوں کے احتجاج  کے بیچ ٹوئٹر پر ایک‘ٹول کٹ’شیئر کرنے کے مدعے کو بھی اٹھایا اور کہا، ‘ایک ٹول کٹ سے متعلق  جو جانکاریاں سامنے آئی ہیں، اس سے صاف ہوتا ہے کہ غیرممالک  میں ہندوستان  کے خلاف سوشل میڈیا پر کسانوں کی تحریک سے متعلق مہم  چلانے کامنصوبہ  بنایا گیا۔’

سرکار نے بیان میں کہا،‘ہندوستان میں نفرت اور بدامنی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ایسےمہم کے لیے  ٹوئٹر کا غلط استعمال ناقابل قبول ہے۔  ٹوئٹر کو ہندوستان  کے خلاف چل رہے ایسےمہم کے خلاف قوانین پرعمل  کرتے ہوئے سخت کارروائی کرنی چاہیے۔’

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکار اظہار رائے  کی آزادی  کو اہمیت دیتی ہے اور اس پر بھی آئین  کے تحت پابندی  عائد ہوتی ہیں۔سکریٹری نے  ٹوئٹر کے نمائندوں سے کہا ہے کہ ہندوستان میں کھلے انٹرنیٹ کے ساتھ کاروبار کے لیےسرمایہ کاروں  کا خیرمقدم  ہے لیکن  ٹوئٹر کو ہندوستان  کے قوانین اور جمہوری اداروں  کا بھی احترام کرنا ہوگا۔

انہوں نے آگے کہا کہ قانونی طور پر پاس فیصلہ کسی بھی کاروباری ادارے کے لیے ضروری  ہیں۔بیان میں کہا، ‘انہیں احکامات پر فوراً عمل کرنا چاہیے۔ اگر وہ  ان دنوں اس پر عمل نہیں کرتے ہیں تو یہ بے مطلب ہو جاتا ہے۔’

سکریٹری نےعہدیداروں  کے ساتھ ‘کسان قتل عام ’ہیش ٹیگ کا مدعا اٹھایا اور ناراضگی کااظہار کیا۔ سرکار نے  ٹوئٹر کو اس ہیش ٹیگ کا استعمال کرکے ٹوئٹ کرنے والے اکاؤنٹ کو بلاک  کرنے کے لیے کہا تھا۔

سرکار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ بے حد شرمناک  ہے کہ سرکار نے قانونی عمل  کے تحت  ٹوئٹر کو اس ہیش ٹیگ کے بارے میں جانکاری دینے کے باوجود اس کے بھڑکاؤ اور گمراہ کن  جانکاریوں کو  ٹوئٹر پر اس ہیش ٹیگ سے جڑے کنٹینٹ کونشر ہونے دیا۔

بتا دیں کہ  ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں حکومت ہند کی جانب سےجاری کیےگئے احکامات کے مطابق کچھ کارروائی کی ہےلیکن وہ میڈیااداروں،صحافیوں،کارکنوں اوررہنماؤں سےمتعلق ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک نہیں کرے گا۔

ٹوئٹر انڈیا نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ ایسا کرنا ہندوستانی قانون کے تحت ان کے اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق  کی خلاف ورزی ہوگی۔ٹوئٹر نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹوئٹر اور متاثر ہوئے ٹوئٹر اکاؤنٹ دونوں کے لیےہندوستانی قانون کے تحت متبادل  تلاش کر رہا ہے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)