خبریں

بنگال: بی جے پی امیدوار بننے پر تنازعہ کے بعد سوپن داس گپتا نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا

راجیہ سبھا کے نامزد ممبرسوپن داس گپتا کو بی جے پی نے گزشتہ 14 مارچ کو مغربی  بنگال اسمبلی انتخاب کے لیے تارکیشور سیٹ سے اپنا امیدواربنایا تھا۔ سوموار کو ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے داس گپتا پر آئین  کے دسویں شیڈول کی خلاف ورزی  کاالزام  لگایا تھا، جس کے مطابق  اگر کوئی نامزد رکن  حلف لینے کے چھ مہینے کے بعد کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہوتا ہے، تو ان کی رکنیت ردکی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم  نریندر مودی اور سوپن داس گپتا۔ (فوٹو: فیس بک/Swapan Dasgupta)

وزیر اعظم  نریندر مودی اور سوپن داس گپتا۔ (فوٹو: فیس بک/Swapan Dasgupta)

نئی دہلی: راجیہ سبھا کے نامزد ممبر ہونے کے ساتھ اسمبلی انتخاب  میں بی جے پی امیدوار بننے کو لےکر پیدا ہوئے تنازعہ کے بعد سوپن داس گپتا نے منگل کوایوان بالا کی رکنیت  سے استعفیٰ  دے دیا۔دراصل، ترنمول کانگریس ایم پی  مہوا موئترا نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے الزام  لگایا تھا کہ داس گپتا نے آئین کے دسویں شیڈول کی خلاف ورزی کی ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، سوپن داس گپتا نے کل (بدھ) تک قبول کیے جانے کی  درخواست  کے ساتھ اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔بتادیں کہ 65 سالہ داس گپتا اپریل، 2016 میں راجیہ سبھا ممبر بنے تھے اور ان کی مدت اپریل، 2022 تک تھی۔

داس گپتا نے ٹوئٹر پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا اور کہا، ‘میں اب خود کو پوری طرح سے بنگال میں انتخاب کے لیے وقف کر رہا ہوں۔ میں بی جے پی امیدوار کےطور پر تارکیشوراسمبلی  سیٹ سے اگلے کچھ دنوں کے اندر پرچہ نامزدگی  داخل کرنے کی امید کرتا ہوں۔’

داس گپتا نے این ڈی ٹی وی سے کہا، ‘مجھے صدر کی جانب سےنامزد ممبر کے طور پر راجیہ سبھا میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ میں تارکیشور سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پریہ انتخاب لڑ رہا ہوں۔ فطری طور پر دو چیزوں کے بیچ بہت سارے مؤخرمعاملے ہیں۔نامزدگی کے عمل میں ان سب کوحل کرنا شامل ہے۔ اور جب تک میں اپنا پرچہ نامزدگی داخل کروں گا تب تک ان تمام  مدعوں کا حل  ہو جائےگا۔ میں نے ابھی تک اپنا نامزدگی کا پرچہ  داخل نہیں کیا ہے۔ مجھے جمعرات یا جمعہ  کو ایسا کرنے کی امید ہے۔’

رپورٹ کے مطابق، بی جے پی نےرسمی طور پرآزاد اورسیاسی طور پرغیر منسلک  راجیہ سبھا ایم پی  سوپن داس گپتا کو مغربی  بنگال اسمبلی انتخاب  میں تارکیشور سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ 14 مارچ کو بی جے پی نے ان کے نام کا اعلان  کیا تھا۔

اپنے نام کے اعلان کے بعد اس کوقبول کرتے ہوئے انہوں نے ٹوئٹ کیا تھا، ‘یہ میرے لیے اعزا زکی بات ہے کہ تارکیشور سے لڑنے کے لیےمغربی  بنگال بی جے پی کی طرف سے مجھے  نامزدکیا گیا ہےجو کہ بنگال کی ثقافتی  وراثت کا ایک مرکز ہے۔ میں ایک نئےاورمتحرک  سونار بانگلا مہم  کے لیے تیارہوں۔’

حالانکہ، سوموار کو مہوا موئترا نے آئین کے دسویں شیڈول کے مطابق ایوان بالا  سے انہیں نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔آئین  کےدسویں شیڈول  کے مطابق، آرٹیکل 99یا188 کے اہتمام  (جو بھی لاگو ہوں)کو پورا کرنے کے بعد نامزد ممبر اپنےحلف  کے بعد سے چھ مہینے کی مدت ختم  ہونے کے پہلے کسی سیاسی پارٹی  سے جڑ سکتا ہے۔

اس میں آگے کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 99 یا 188 کے اہتمام  (جو بھی لاگو ہوں) کو پورا کرنے کے بعد ایوان کے لیے نامزد ممبر اپنے حلف  کے بعد سے چھ مہینے کا وقت ختم  ہونے کے بعد کسی سیاسی پارٹی  سے جڑتا ہے تو وہ ایوان کی رکنیت  کے لیے اہل نہیں ہوگا۔

ترنمول ممبر مہوا موئترا نے ٹوئٹ کرکے الزام  لگایا تھا کہ داس گپتا بنگال انتخاب  میں بی جے پی کے امیدوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین  کے دسویں  شیڈول  کےمطابق، اگر کوئی نامزد ممبر حلف  لینے کے چھ مہینے کے بعد کسی سیاسی  پارٹی میں شامل ہوتا ہے، تو ان کی رکنیت  رد کی جا سکتی ہے۔

موئترا کے مطابق، ‘داس گپتا نے اپریل 2016 کو ایوان کی رکنیت کا حلف  لیا تھا۔ بی جے پی میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔’اس کے ساتھ ہی ٹی ایم سی منگل کو نائب صدر جمہوریہ  اور راجیہ سبھا اسپیکر وینکییا نائیڈو سے رسمی  طور پر داس گپتا کو نااہل  ٹھہرانے کی مانگ کرنے والی تھیں۔

مہوا موئترا کے پوسٹ کے بعد یہ قدم اٹھانے کی بات سے انکار کرتے ہوئے سوپن داس گپتا نے کہا، ‘میں کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہا ہوں۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ بہت سارےمؤخر معاملے ہیں، بہت سی منظوریاں ہیں، جو ہمیں اپنا نامزدگی کا پرچہ  داخل کرنے سے پہلے ایوان  سمیت مختلف اداروں  سے حاصل کرنی ہیں۔ اور اپنا پرچہ داخل کرنے سے پہلے یہ سب کر دوں گا۔’