خبریں

کورونا وائرس: دہلی میں 30 اپریل تک رات دس سے صبح پانچ بجے تک نائٹ کرفیو کا اعلان

دہلی حکومت نے راجدھانی میں کووڈ 19 کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے 30 اپریل تک نائٹ کرفیو لگایا ہے۔ اس کے تحت ضروری خدمات اور گاڑیوں کی ایمرجنسی آمدورفت جاری رہےگی۔ راشن، کرانہ، پھل سبزی، دودھ، دوا سے وابستہ دکانداروں کو ای پاس بنوانا ہوگا، جس کے بعد وہ اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

(فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:دہلی سرکار نے راجدھانی میں کووڈ 19 کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے 30 اپریل تک رات 10 بجے سے صبح پانچ بجے تک نائٹ کرفیو لگا دیا ہے۔سرکار کے ایک افسرنے بتایا کہ نائٹ کرفیو کا آرڈر30 اپریل تک رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک مؤثر رہےگا۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں کووڈ 19 کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔دہلی کے محکمہ صحت کے مطابق، راجدھانی میں سوموار کو کووڈ 19 کے 3548 نئے معاملے سامنے آئے جبکہ 15 اور لوگوں کی کورونا وائرس سے موت ہو جانے کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 11096 پر پہنچ گئی۔

دہلی میں پچھلے کچھ ہفتے میں انفیکشن کے معاملے تیزی سے بڑھنے کے ساتھ ہی لوگوں کے متاثر ہونے کی شرح بھی بڑھ کر 5.54 فیصدی ہو گئی ہے۔نائٹ کرفیو کے لیے دہلی سرکار کی جانب سے گائیڈ لائن جاری کر دی گئی ہیں۔حکام نے کہا کہ ضروری خدمات اور گاڑیوں  کی ایمرجنسی  آمدورفت جاری رہےگی۔

امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق، پبلک ٹرانسپورٹ جیسے بس، آٹو، ٹیکسی کو طے وقت کے بعد انہی لوگوں کو لانے اور لے جانے کی اجازت ہوگی جنہیں اس دوران چھوٹ فراہم کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی راشن، کرانہ، پھل سبزی، دودھ، دوا سے جڑے دکانداروں کو ای پاس بنوانا ہوگا جس کے بعد وہ اپنی خدمات جاری رکھ سکتے ہیں۔

اگر کوئی شخص ویکسین لگوانے جانا چاہتا ہے تو اسے چھوٹ ملے گی لیکن ای پاس لینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی قانونی ٹکٹ دکھانے پر ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے آنے اور جانے والے مسافروں  کو چھوٹ دی جائےگی۔

وہیں، بس، میٹرو اور آٹو کو طے وقت کے دوران انہی لوگوں کو لانے اور لے جانے کی اجازت ہوگی، جنہیں کرفیو کے دوران چھوٹ ہے۔ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیااہلکاروں کو بھی ای پاس کے ذریعے ہی آمدورفت کی اجازت ہوگی۔

آئی ڈی کارڈ دکھانے پر پرائیویٹ ڈاکٹر نرس پیرامیڈیکل اسٹاف کو بھی چھوٹ ملے گی۔دراصل تیزی سے بڑھ رہے کورونا معاملوں کو لےکر سرکار کی اپنے وزیروں  کے ساتھ کئی دور کی  بات چیت  کے بعد نائٹ کرفیو لگانے کی تجویز سوموار کو وزیر اعلیٰ دفتر بھیجی گئی۔

حکام  نے رات کے وقت ریستوراں، بار اور کلب میں جمع بھاری بھیڑ پر بھی غور کیا تھا۔بتا دیں کہ سرکار کا یہ فیصلہ کووڈ 19 کی خلاف ورزیوں کو لےکر بینکویٹ ہال، ریستوراں اور نائٹ کلب پر دہلی پولیس کی کارروائی کے مد نظر آیا ہے۔

معلوم ہو کہ سنیچر رات کو 13 بینکویٹ، 58 ریستوراں اور تین نائٹ کلبوں کے مالکوں سمیت 173 لوگوں کے چالان کاٹے ہیں۔بتا دیں کہ آخری بار نئے سال پر بھاری بھیڑ کو روکنے کے لیے دہلی میں 31 جنوری کو نائٹ کرفیو لگایا گیا تھا۔

(خبررساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)