فکر و نظر

ہندوستانی مسلمانوں سے ایک کورونا مریض کی اپیل

سوچو! جو رسول تمہیں معمولی آندھی اور بارش میں مسجد آنے سے منع فرمائے اور گھر میں نماز ادا کرنے کا حکم دے وہ کس طرح وباؤں کے زمانے میں تراویح، جمعہ اور عیدین کی جماعتوں کے قیام پر تمہیں مجبور کرے گا اور خوش ہوگا؟

کمبھ میلے کے دوران 11 اپریل کو ہر کی پوڑی گھاٹ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کمبھ میلے کے دوران 11 اپریل کو ہر کی پوڑی گھاٹ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کسی اور کے لیے نہ سہی، اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے اپنے اوپر رحم کرو۔کیا غضب ہے کہ کوئی سیاسی ریلی کرے گا تو تم بھی اجتماعات اور جلسے کروگے اور کوئی کمبھ اشنان کرے گا تو تم بھی عیدین، جمعہ اور جماعت بہر حال کروگے!

خدایا! مسلمانوں کو علم اور مال بھلے ایک پاؤ ہی دے، لیکن عقل ایک کیلو عطا فرما، تاکہ تھوڑے علم اور مال کا بہتر استعمال کر سکیں۔ آمین یارب!

سوچو! جو رسول تمہیں معمولی آندھی اور بارش میں مسجد آنے سے منع فرمائے اور گھر میں نماز ادا کرنے کا حکم دے وہ کس طرح وباؤں کے زمانے میں تراویح، جمعہ اور عیدین کی جماعتوں کے قیام پر تمہیں مجبور کرے گا اور خوش ہوگا؟

رسول نے فرمایا؛’دانشمندی اہلِ ایمان کا گم گشتہ خزانہ ہے، جہاں کہیں پائے اس پر پہلا حق اسی کا ہے۔’

لیکن مسلمان آخری پائیدان پر بھی کہیں نظر نہیں آتا۔

قائد وہ ہے جو عوام کو اپنے پیچھے چلنے کا پابند بنائے، انہیں خواب بھی دے اور خواب کی کی تعبیر بھی عطا کرے۔ افسوس ہے کہ مسلم قائدین عوامی امنگوں کے پیچھے چلنے لگے ہیں۔ قول و عمل میں حق ناحق کی بجائے عوام کا موڈ اور مطالبہ دیکھنے لگے ہیں۔

مشہور عالمِ دین اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے کار گزار سکریٹری جنرل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق درست موقف کا حامل حالیہ مضمون اور اگلے دن اس سے ان کی معذرت کا اعلان نہایت افسوسناک ہے۔

مسلمانو! کورونا کے سلسلہ میں جس دانش(گائیڈ لائن)کے تم محتاج ہو اس کے لیے تمہیں چین جانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ تمہاری حدیث اور تاریخ کے ذخیرہ میں موجود ہے۔ ہندوؤں اور سیاسی رہنماؤں پر نگاہِ غضب رکھنے سے فرصت مل گئی ہو تو مندرجہ ذیل تحریر ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ ضرور پڑھ لینا۔

سترہ ہجری کا سال تھا، عمر فاروق مہاجرین وانصار صحابہ پر مشتمل ایک گروہ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔ حجاز اور شام کی سرحد پر ایک جگہ  جس کا نام ‘سرغ’تھا، آپ نے وہاں قیام کیا۔ مسلم افواج کے متعدد سر کردہ افسران نے وہاں ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ شام میں طاعون پھیل رہا ہے، اور انہیں مدینہ منورہ لوٹ جانے کا مشورہ دیا۔ عمر فاروق واپس ہو گئے۔

مذکورہ بالا طاعون کی وباء جس جگہ سے پھیلی تھی اس کا نام عمواس تھا لہذا تاریخ میں وہ ‘طاعون عمواس’ کے نام سےمشہور ہے۔ کم وبیش تیس ہزار مسلمان اس وباء میں شہید ہوئے تھے جن میں ابو عبیدہ بن جراح، معاذ بن جبل، یزید بن ابو سفیان، حارث بن ھشام، سہیل بن عمرو اور عتبہ بن سہیل جیسے اکابر صحابہ شامل ہیں۔ ابو عبیدہ بن جراح کے وفات پانے کے بعد عمرو بن عاص کو امیر بنایا گیا تو انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ اکٹھے نہ رہیں بلکہ پہاڑوں میں پھیل جائیں، لوگوں نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور پھر دھیرے دھیرے وباء ختم ہوئی اور اموات کا سلسلہ بند ہو گیا۔

رسول کا فرمان ذیشان ہے کہ طاعون کی وباء جس علاقہ میں ہو وہاں نہ جاؤ اور اگر اس علاقہ میں تم ہو جہاں طاعون پھیلا ہو تو تم وہاں سے نہ بھاگو۔

عمر فاروق نے اس حدیث پر عمل کیا اور شام کے علاقہ میں داخل نہ ہوئے اور جو صحابہ وہاں موجود تھے اسی حدیث پر عمل کرتے ہوئے وہاں سے نہیں بھاگے۔ ظاہر ہے کہ بھاگ کر جس شہر میں جاتے وہاں طاعون بھی ان کے ساتھ پہنچ جاتا۔ عمرو بن عاص نے پہاڑوں میں پھیل جانے کا جو حکم دیا اسے آج کی زبان میں اجتماع سے منع کرنے اور’کورنٹائن ‘ ہونے کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا۔

کچھ لوگ ابو ہریرہ کی روایت کردہ ایک حدیث بیان کر کے عوام کو ورغلاتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ ؛’امراض متعدی/پَٹ جانے والے نہیں ہوتے، اگر ایسا درست ہوتا تو پہلے مریض کو مرض کیسے لاحق ہوا۔’اس حدیث کے سلسلہ میں مجھے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ابو ہریرہ کے چچازاد بھائی حارث بن ابوذباب نے یاد دہانی کرائی تو ابو ہریرہ نے اس حدیث کی روایت سے صاف انکار کر دیا اور ناراضی ظاہر کی۔

ایک دوسری حدیث ابو ہریرہ سے ہی روایت ہے جس کا عمر کے آخری حصہ تک انہیں اقرار رہا وہ ہے ؛’لا يورد الممرض على المصح’ جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘صحت مند انسان کے پاس مریض کو نہ لے جایا جائے۔’عبد الرحمن بن عوف کے بیٹا ابو سلمہ جو تابعی ہیں کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا دونوں حدیثیں ابو ہریرہ روایت کیا کرتے تھے، ممکن ہے وہ پہلی حدیث کو بھول گئے ہوں یا دوسری حدیث نے پہلی کو منسوخ کر دیا ہو۔

 ابو ہریرہ نے ہی اسی مفہوم کی ایک اور حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول نے فرمایا’کوڑھ کے مریض سے ایسے دور رہو جیسے شیر سے ڈر کر بھاگتے ہو۔’مسلمانو! خدا کو بلا وجہ تمہاری جان نہیں چاہیے اور وہ اپنے بندوں کو مشکلات میں دیکھنا پسند بھی نہیں کرتا۔  خدا را اپنے اوپر رحم کرو۔

عربی کا ایک محاورہ ہے کہ بیوی سےجھگڑا ہو تو اس کی دشمنی میں شوہر اپنا عضو کاٹ کر پھیک نہیں دیتا۔   کسی کی دشمنی میں تم اپنا نقصان کیوں کرتے ہو؟  سیاسی لوگوں اور اشنان کرنے والوں کو ان کے کام کرنے دو اور تم وہی کرو جو تمہیں تمہارا دین کہتا ہے۔