خبریں

یہ پریشان کن رجحان ہے کہ پولیس مقتدرہ پارٹی کی حمایت کرتی ہے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ پولیس اکیڈمی کےمعطل ڈائریکٹرگرجندر پال سنگھ کو گرفتاری سےتحفظ دیتےیہ تبصرہ  کیا۔ صوبے کی کانگریس سرکار نے ان کے خلاف سیڈیشن  اور آمدنی  سے زیادہ اثاثہ رکھنے کےالزام  میں مقدمہ  درج کیا ہے۔

سپریم کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ پولیس اکیڈمی کےمعطل ڈائریکٹر کو گرفتاری سے تحفظ  دیتے ہوئے جمعرات  کو کہا کہ سرکار بدلنے پرسیڈیشن  کےمعاملے دائر کرنا ایک‘پریشان کن رجحان ’ ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ پریشان کن رجحان  ہے کہ پولیس مقتدرہ پارٹی کی حمایت کرتی ہے۔

افسر کے خلاف چھتیس گڑھ سرکار نے سیڈیشن اور آمدنی  کے معلوم ذرائع  سےزیادہ اثاثہ  حاصل کرنے کے دو معاملے درج کرائے تھے۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی ا والی بنچ نے کہا، ‘ملک میں حالات افسوسناک ہیں۔’

انڈین پولیس سروس کے 1994بیچ کےافسر گرجندر پال سنگھ پر شروعات میں آمدنی کے معلوم ذرائع  سے زیادہ اثاثہ حاصل کرنے کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کے دوران رائے پور، درگ اور بلاسپور کے آئی جی رہ چکے ہیں۔ بعد میں سرکار کے خلاف سازش کرنے اور عداوت  کو بڑھاوا دینے میں مبینہ  شمولیت  کی بنیاد پر ان کے خلاف سیڈیشن کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

بنچ  نےسیڈیشن کےمعاملے دائر کرنے کے رجحان پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس سے پہلےسینئر وکیل  ایف ایس نریمن نے سنگھ کی طرف سے دلیلیں دیتے ہوئے کہا، ‘یہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس(اے ڈی جی پی)رہ چکے ہیں اور پولیس اکیڈمی کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور اب ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124اے (سیڈیشن)کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔’

چیف جسٹس این وی رمنا اورجسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے کانگریس کی قیادت  والی ریاستی  سرکار کو کسی بھی معاملے میں سنگھ کو چار ہفتوں تک گرفتار نہیں کرنے کی ہدایت  دی۔ بنچ نے سنگھ کو جانچ میں ایجنسیوں کے ساتھ تعاون  کرنے کے بھی ہدایت  دی۔

بنچ نے کہا، ‘ملک میں یہ بہت پریشان کن رجحان ہے اور پولیس محکمہ  بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ جب کوئی سیاسی  پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو پولیس افسر اس (مقتدرہ)پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ پھر جب کوئی دوسری نئی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو سرکار پولیس افسروں  کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ اسے روکنے کی ضرورت  ہے۔’

عدلیہ  نے سنگھ کی دو الگ الگ عرضیوں پر ریاستی  سرکار کو نوٹس جاری کیے۔ سرکار کی جانب  سےسینئر وکیل  مکل روہتگی اور راکیش دویدی اور وکیل سمیر سوڈھی نے دلیلیں رکھیں۔

شنوائی کی شروعات میں نریمن نے کہا کہ پولیس افسر سےحراست میں پوچھ تاچھ کا معاملہ پیدا ہی نہیں ہوتا، کیونکہ چارج شیٹ  پہلے ہی دائر کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ افسر کو ایک بار موجودہ وزیر اعلیٰ نے بلایا تھا اور سابق وزیر اعلیٰ  کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد کرنے کو کہا تھا۔

ریاستی سرکار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے آئی پی ایس افسر سنگھ کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں پولیس اکیڈمی کے چیف رہے ہیں اور ‘ان کا رویہ دیکھیے، وہ فرار رہے ہیں۔’روہتگی نے کہا، ‘انہیں گرفتاری سے تحفظ  جیسی کوئی راحت نہیں دینی چاہیے۔’

بنچ نے کہا، ‘ہم سیڈیشن کے معاملے پر غور کریں گے۔ یہ بہت ہی پریشان کن رجحان  ہے اور پولیس محکمہ بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ ایسا مت کہیے کہ آپ کا موکل (سنگھ)غیرجانبدار تھا، آپ کے موکل نے پچھلی سرکار کی ہدایتوں  پر کام کیا ہوگا۔’

حال میں چھتیس گڑھ  ہائی کورٹ  نے افسر کے خلاف سیڈیشن کے معاملے کو رد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد سنگھ نے سپریم کورٹ  میں اپیل دائر کی۔

معلوم ہو کہ سپریم کورٹ دفعہ124اے (سیڈیشن)کےآئینی جوازپر غور کر رہا ہے۔ عدالت میں اس کے اہتماموں کے جوازکو چیلنج  دینے والی کم از کم سات عرضیاں زیر التواہیں۔

اس معاملے کو لےکر15جولائی کو ہوئی شنوائی کے دوران سی جے آئی رمنا نے سوال کیا تھا کہ کیا آزادی کے 75 سال بعد بھی قانون کی کتاب میں ایسے اہتماموں  کی ضرورت ہے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)