خبریں

ٹیک-فاگ ایپ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے: ڈیرک اوبرائن

دی وائر نے دو سالوں کی تفتیش کے بعدذرائع کی مدد سےایک خفیہ ایپ ٹیک-فاگ کا انکشاف کیا،جس کا استعمال مقتدرہ  جماعت سے وابستہ افراد مصنوعی طور پر پارٹی کی مقبولیت کوبڑھانے، اس کے ناقدین کو ہراساں کرنے اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بڑے پیمانے پرعوامی رائے  کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

ترنمول کانگریس کے ایم پی ڈیرک اوبرائن۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ترنمول کانگریس کے ایم پی ڈیرک اوبرائن۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ترنمول کانگریس کےرکن پارلیامنٹ ڈیرک اوبرائن نےٹیک-فاگ نام کےخفیہ ایپ پر تبادلہ خیال کے لیےجمعرات کو امور داخلہ کی پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی کوایک  خط لکھا  ہے۔

انہوں نے اس خط میں کہا کہ اس معاملے کےسنگین مضمرات ہو سکتے ہیں اور اس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

واضح ہو کہ دی وائر نے دو سالوں کی تفتیش کے بعدذرائع کی مدد سےایک خفیہ ایپ ٹیک-فاگ کا انکشاف کیا ہے،جس کا استعمال حکمراں جماعت سے وابستہ افراد مصنوعی طور پر پارٹی کی مقبولیت کوبڑھانے، اس کے ناقدین کو ہراساں کرنے اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بڑے پیمانے پر عوامی رائے  کو گمراہ کرنے کے لیےکرتے ہیں۔

اس خط میں، انہوں نے کہا، یہ ایپ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بیانیے میں ہیرا پھیری کرنے کے لیےاِنکرپٹیڈمیسجنگ پلیٹ فارم کو ہائی جیک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کمیٹی کے رکن اوبرائن نے کہا کہ ٹیک-فاگ جیسی ٹکنالوجی کا استعمال ملک اور شہریوں کی سلامتی کے لیےسنگین خطرہ ہے اور یہ پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ ،یہ عوامی مباحثے کا استحصال کرنے کے مترادف ہے اور یہ ملک کی جمہوریت اور سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

موٹے طور پرسمجھیں تویہ  ایپ ٹوئٹر ہیش ٹیگ کو ہائی جیک کر سکتا ہے، غیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کو کنٹرول کر سکتا ہے اور بی جے پی پر آن لائن تنقید کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کر سکتا ہے۔

تفتیش کے مطابق، سوشل میڈپر ہیرا پھیری کرنے والے اس ایپ کے چار خطرناک فیچرز ہیں۔

عوامی بیانیے خلق کرنا– ایپ کی ان بلٹ آٹومیشن فیچرکی مدد سے آٹو ری ٹوئٹ یا آٹو شیئر کرنا اور ہیش ٹیگ کو اسپام  کرنا۔

غیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کی فشنگ- پرائیویٹ آپریٹرز عام شہریوں کےغیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرکے اور ان کے فون نمبر کااستعمال کرکے اکثر رابطوں  میں رہےیا تمام نمبروں پر پیغامات بھیج سکتے ہیں۔

منصوبہ بند ہراسانی کے لیے عام لوگوں کے ڈیٹا بیس کا استعمال- ایپ کے اسکرین شاٹس سے عام شہریوں کےایک مفصل اور بدلنے والےکلاؤڈ ڈیٹا بیس کاپتہ چلتا ہے، جس کی ان کے پیشے، مذہب، زبان، عمر، جنس، سیاسی رجحان اور یہاں تک کہ ان کی جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔

ہر ثبوت کو مٹانے کی طاقت- ایپ کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتا۔ایپ آپریٹرز ایک لمحے کے نوٹس پر تمام موجودہ اکاؤنٹس کو حذف یا تبدیل کر سکتے ہیں۔یعنی وہ اپنے ماضی کی اُن تمام سرگرمیوں کوضائع  کر سکتے ہیں جس سے ان کا جرم ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ دی وائر کی اس مکمل تفتیش  کو ہندی، انگریزی، اردو اور مراٹھی میں پڑھ سکتے ہیں۔

(اس پورے خط کو پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔)