فکر و نظر

رویش کمار کا بلاگ: ٹیک فاگ پروپیگنڈہ محض نہیں، قتل عام کو اکسانے کا ٹول ہے

آئی ٹی سیل کی پراسرار دنیا میں نیشن بلڈنگ کے نام پر کتنے نوجوانوں کو مجرم بنایا جا رہا ہے اس سےچوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ٹیک فاگ سرکار کا ٹول کٹ- بی جے پی کا، بی جے پی کے ذریعہ  بی جے پی کے کام آنے والا ٹول کٹ ہے۔اس سے اکثریتی معاشرہ نے خود کو نہ بچایا تو گھر گھر میں ہتھیارےپیدا ہو جائیں گے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

(علامتی تصویر: رائٹرس)

ٹیک فاگ ایپ صرف ایک ایپ نہیں ہے، یہ ٹول کٹ تیار کرنے کی فیکٹری ہے، جس کے پیچھےکےتارحکومت سے جاکرجڑتےہیں۔ دی وائر کی رپورٹ پڑھنے کے بعد دشا روی کا معاملہ یاد آنے لگا۔ جب سرکار ٹول کٹ، ٹول کٹ جپتے ہوئے ایک نوجوان لڑکی پر حملہ آور ہوگئی تھی ۔ اسے جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔

پاپ اسٹار ریحانہ نے جب کسانوں پر ہورہے مظالم پرتبصرہ کیا تھا، تب کرکٹ کھلاڑی سے لے کر فلمسٹار تک ایک ہی طرح کا بیان ٹوئٹ کرنے لگے تھے۔ ٹول کٹ کے جواب میں یہ ٹول کٹ کہاں سے آیا تھا؟حکومت کے پاس ٹول کٹ تیار کرنے کے ایسے کتنے ایپ،کتنی فیکٹریاں ہیں، کوئی نہیں جانتا ۔ اس وہم میں نہیں  رہنا چاہیےکہ ٹیک فاگ ایپ پہلا اور آخری ایپ رہا ہوگا۔

ٹیک فاگ ایپ کو صرف ٹول کٹ تیار کرنے کے ایک ایپ تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سیاسی نفسیاتی سسٹم کا حصہ ہےجس کے ایسےکئی  ایپ اور پلیٹ فارم ہیں۔ گودی میڈیا بھی اسی طرح کاایک ایپ ہے جس کے ذریعےاسی طرح کا پروپیگنڈا مواد پھیلایا جاتا ہے بلکہ میڈیاکے کور میں اسے وسیع پیمانے پر شرف قبولیت بخشا جاتا ہے۔

دی وائر کی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 2020 میں مارچ کے مہینے میں تبلیغی جماعت کے بارے میں خاص طرح کےنفرت انگیز ٹیکسٹ بنائے گئےتھےاور اسے گمنام اکاؤنٹس کے ذریعے ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرایا گیاتھا۔ جماعت کو کورونا جہاد سےجوڑا گیاتھا۔ اسی طرح کے پوسٹ چاروں طرف پھیل گئے تھے۔

تبلیغی جماعت کے حوالے سے گودی میڈیا کے چینلوں میں بہت سے پروگرام ہوئےتھے۔ لوگوں  میں انجان بیماری کورونا کو لے کردہشت تھی۔ اس دہشت میں تبلیغ کے بہانے نفرت کا گھول ملا دیا گیا۔ گاؤں گاؤں میں جماعت کے نام پر عام مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیل گئی۔

دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے افسران پریس کانفرنس میں تبلیغی جماعت کا نام کورونا پھیلانے والےعنصرکےطورپرلینےلگے تھے۔ یہ ایک طرح سے قتل عام کو سماجی اور سرکاری منظوری تھی۔

اس وقت میرےرابطےکےپولیس افسران مجھ سے میں کہا کرتے تھے؛غنیمت  ہے کہ تالا بندی ہے ورنہ بھیڑکب مسلمانوں کےخلاف ہتھیار اٹھالے،ایسا ماحول بن گیا ہے۔ یہ وہ بھیڑ نہیں تھی۔ مجھے اپنے ایک پرانے پڑوسی کا فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہندو نائی ملا ہے، اگربال کٹانے ہوں  ہیں تو بتائیے گا، جب ان سے پوچھا  کہ یہ بکواس کہاں سے آئی ہے تو انہوں نے کہا کہ تمام نیوز چینل غلط تو نہیں ہو سکتے۔ ہر کوئی دکھا رہا ہے کہ تبلیغی جماعت کی وجہ سے کورونا پھیل رہا ہے۔ مسلمان نائی ہو گا تو کورونا پھیلادے گا۔

میں جس سڑک پر ٹھیلے سے پھل خریدتا ہوں وہاں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک ٹھیلے سے پھل خریدا تو چلتے چلتےدوسرے سے پوچھ لیا کہ آپ کیسے ہیں؟اتنی سی بات پررو پڑا کہ  مجھ سےکوئی پھل نہیں خرید رہا ہے۔ جو بھی آتا ہے، بغل والا بتا دیتا ہے کہ مسلمان ہے۔

تو اس طرح سے ٹیک فاگ ایپ اور گودی میڈیا کے ذریعے کورونا کو مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش ہوئی وہ ایک سیاسی تجربے کا حصہ تھی۔ ٹیک فاگ کی رپورٹ نے اس بات کو اور پختہ طور پرثابت کیا ہے۔ ٹیک فاگ صرف پروپیگنڈہ ٹول نہیں ہے بلکہ قتل عام کے لیے اکسانے کا ایک ٹول ہے۔

الگ الگ ریاستوں میں پولیس نے گھر گھر میں چھاپے مارے اور جماعت میں گئے لوگوں  کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا کیونکہ گودی میڈیا کے ذریعے دن رات یہی ڈبیٹ ہو رہا تھا۔ بیماری کے بہانے مسلمانوں سے نفرت کے بعد اب ڈر  بھر دیا گیاتاکہ کہ لوگ خود بخود تشدد کا راستہ اختیار کر لیں۔

تبلیغی جماعت کےلوگوں کو رہا کرتے ہوئے کئی ہائی کورٹ کے احکامات ہیں کہ میڈیا نفرت پھیلاتا ہے۔ دی وائر کی رپورٹ کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بات صرف پھیلانےبھر کی نہیں تھی، یہ ایک قتل عام کا سیاسی منصوبہ تھا۔ عدالت کواس کا نوٹس لینا چاہیے اور ٹیک فاگ کے پیچھےکی کمپنی کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔ اب اس کے راز سے پردہ اٹھنا باقی ہے۔

عدالت کا رول بہت اہم ہے کیونکہ خواتین صحافیوں کی ذاتی معلومات اکٹھا کی گئی ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کیسے اور کہاں سے حاصل کیا گیا۔ کیا اس میں سوشل میڈیاکے وہ پلیٹ فارم بھی شامل ہیں جن سے کوئی خریداری کرتا ہے اور اپنےنجی فٹ پرنٹ چھوڑتا ہے۔

کن لوگوں کےوہاٹس ایپ نمبر ہائی جیک کیے گئے ہیں،ان  سے حاصل  ڈیٹا کے خطرے کو ہمیں سمجھنا ہوگا۔ اگر یہ سب اتنا آسان ہے توپھر  ٹیک فاگ ٹیم کے پاس لوگوں کے بینک کی تفصیلات بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ محض تصور کی بات نہیں ہے کہ کسی کے بینک اکاؤنٹ سے سارے پیسے اڑگئے۔ اس لیے یہ معاملہ ذاتی تحفظ کے علاوہ مالی تحفظ کا بھی ہے۔

اس لیے ٹیک فاگ ایپ کے پیچھےکی کمپنی اور حکومت سے اس کے تعلق کو ٹھیک  سے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام عدالت کی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ہمارا فوکس صرف ایک موبائل ایپ پر جاتا ہے جبکہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس ایپ کے لیے جو ٹیکسٹ تیار ہوتا ہے، نفرت کی جو باتیں لکھی جاتی ہیں وہ کس فیکٹری میں تیار ہوتی  ہیں۔

دی وائر کی رپورٹ میں اس فیکٹری کا نام بی جے پی بتایا گیا ہے۔اس کے ذریعےنفرت کے مسائل کا بھنور پیدا کیا جا رہا ہے۔ ہم بے حد خطرناک موڑ پر ہیں۔

بی جے پی کےآئی ٹی سیل کی پراسرار دنیا میں نیشن بلڈنگ کے نام پر کتنے نوجوانوں کو مجرم بنایا جا رہا ہے، اس سے بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آئی ٹی سیل کے نوجوانوں کا ایمان  جاگےگا اور وہ ایسی مزید کہانیاں سامنے لائیں گے۔

سلی ڈیل اوربُلی بائی  ایپ بھی  اسی طرح کی فیکٹری میں تیار کیے جاتے رہے ہوں گےیا پھر اس ذہنیت کےساتھ تیارکیے گئے گئے لوگ ہی اپنےآپ ایپ بنا رہے ہیں۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اس کام کے پیچھےکا جونظریہ ہے وہ ایک ہی  جگہ سے آرہا ہے جس کا ایک ہی کام ہے عوام کے ذہنوں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت پیدا کرنا۔ اس طرح کہ انہیں کورونا پھیلانے کے نام پر مارا جا سکے، ان کی خواتین کی نیلامی کی جاسکے! یہ نظریہ ہندوستان کو اس طرح کے معاشرے میں تبدیل کر رہا ہے تاکہ اکثریتی معاشرے کےلڑکوں کویہ لگے کہ ایسا کرنا غلط نہیں ہے۔ وہ فسادی بن جائیں۔

ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فسادی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک آف لائن فسادی جو براہ راست تشدد میں شامل ہوتے ہیں اور ایک آن لائن فسادی جو اس طرح کے ایپ کے ذریعےکسی  کمیونٹی کے خلاف تشدد کی بھوک مٹاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ کسی کمیونٹی سے نفرت کرنا۔

یہ کام کئی سطحوں پر ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی تقریروں میں مافیا کا لفظ خوب استعمال کر رہے ہیں۔ امت شاہ نے مافیا کی تفصیل  بتاتے ہوئے صرف مسلمان مجرموں کے نام لیے ہیں۔

ان سے پوچھا جانے لگا کہ وکاس دوبے کا انکاؤنٹر کیا گیا جس نے کئی پولیس والوں کو  مار دیا تھا۔ اس کا نام مافیا میں نہیں ہے۔ صرف مسلمان نام والے مجرم کیوں ہیں؟ ظاہر ہے یہ دونوں ایک برادری کے مجرموں کا نام لے کرعوام کے ذہن میں یہ بات ڈال رہے ہیں کہ پوری برادری مافیا ہے۔

ضابطہ اخلاق کے نافذ ہوتے ہی اب مافیا کی جگہ ایک نیا لفظ آگیا ہے۔ اسی فیصدبنام بیس فیصدکا۔ آئینی سا لگنے والایہ  لفظ قتل عام  کی اسی ذہنیت کی طرف دھکیلتا ہے جس کے بارے میں ہم نے اوپر بات کی ہے۔ قتل عام صرف پرتشدد نہیں ہوتاہے،وہ  ایک کمیونٹی کو کونے میں دھکیل کر اسے حقوق سے محروم کر دینا بھی ہوتا۔

کسی بھی قتل عام میں صرف لاکھوں لوگوں کا قتل نہیں ہوتا بلکہ اس کے پہلے اور اس کے ساتھ ساتھ نفرت کے اس طرح کے ماحول کابھی بڑا رو ل ہوتاہے۔ تبھی تو گھر گھر سے لڑکےقاتل بنیں گے اور قتل عام کریں گے۔ کوئی مذہبی رہنماتوہتھیار نہیں اٹھائے گا کیونکہ اسےمٹھ اور مٹھ کی ملکیت  بچانی ہے اور اس کا استعمال کرنا ہے۔

ٹیک فاگ حکومت کی ٹول کٹ ہے۔ میں اسے مزید واضح کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بی جے پی کا،  بی جے پی کے ذریعے اور بی جے پی کے کام آنے والا ٹول کٹ ہے۔ اگر معاشرے کی اکثریت نے اس کے مواد سے خود کو نہ بچایا تو گھر گھر میں قاتل پیدا ہوں گے۔

میری اس بات کو لکھ کر اپنے پرس میں رکھ لیجیے اور یقین نہ ہو تو بلند شہر میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قتل میں ملوث بھیڑ اور سلی اور بُلی بائی ایپ میں پکڑے گئے لڑکوں کے نام دیکھ لیجیے۔