خبریں

ٹیک فاگ ایپ کے سلسلے میں پارلیامانی کمیٹی نے وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا

دی وائر نے ایک تفتیش میں خفیہ ایپ ٹیک فاگ کا انکشاف کیاہے، جس کےاستعمال سےسوشل میڈیاٹرینڈ میں ہیر پھیر اور وہاٹس ایپ فشنگ کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ داخلہ امور کی پارلیامانی  کمیٹی کے چیئرمین آنند شرما نے وزارت داخلہ سےاس سلسلے میں  متعلقہ وزارتوں کے ساتھ تال میل قائم کرکے 20 جنوری تک کمیٹی کے سامنے جواب پیش کرنے کو کہا ہے۔

cover-image@2x (1)

نئی دہلی: کانگریس کے رہنماآنند شرما کی سربراہی والی  امور داخلہ کی پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ہوم سکریٹری کو خط لکھ کر ٹیک فاگ ایپ کے بارے میں جانکاری  طلب کی ہے، جس کا استعمال مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ٹرینڈمیں ہیر پھیرکے لیے کیا گیا تھا۔

دی ہندو  کی خبر کے مطابق،آنند شرما کی طرف سے ہوم سکریٹری کو لکھے گئے خط کی تصدیق کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ ہوم افیئر کمیٹی کے سربراہ نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ 20 جنوری تک دیگر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ تال میل  قائم کرکےکمیٹی کے سامنے جواب پیش کرے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد کمیٹی اس معاملے پر بحث کا ارادہ رکھتی ہے۔

دوسری طرف ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کے بعد اب کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بھی کمیٹی کے چیئرمین آنند شرما کو خط لکھ کر اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔

غور طلب ہے کہ ڈیرک اوبرائن نے دی وائر کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جمعرات کو داخلہ امور کی پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی سے بیٹھک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اوبرائن خود بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔

مذکورہ خط میں، اوبرائن نے کہا تھا،  یہ ایپ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بیانیے میں ہیرا پھیری کرنے کے لیےاِنکرپٹیڈمیسجنگ پلیٹ فارم کو ہائی جیک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  ٹیک-فاگ جیسی ٹکنالوجی کا استعمال ملک اور شہریوں کی سلامتی کے لیےسنگین خطرہ ہے اور یہ پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا، یہ عوامی مباحثے کا استحصال کرنے کے مترادف ہے اور یہ ملک کی جمہوریت اور سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

وہیں ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے بھی ایک بیان جاری کیا ہےجس میں سپریم کورٹ سے اس معاملے کا نوٹس لینے اور جانچ کا حکم دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ دی وائر نے  6 جنوری کو کچھ ذرائع کی مدد سے ایک خفیہ ایپ ٹیک فاگ کا پتہ لگایا تھا،جس کا استعمال حکمراں جماعت سے وابستہ افراد مصنوعی طور پر پارٹی کی مقبولیت کوبڑھانے، اس کے ناقدین کو ہراساں کرنے اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بڑے پیمانے پر عوامی رائے  کو گمراہ کرنے کے لیےکرتے ہیں۔

موٹے طور پرسمجھیں تویہ  ایپ ٹوئٹر ہیش ٹیگ کو ہائی جیک کر سکتا ہے، غیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کو کنٹرول کر سکتا ہے اور بی جے پی پر آن لائن تنقید کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کر سکتا ہے۔

تفتیش کے مطابق، سوشل میڈپر ہیرا پھیری کرنے والے اس ایپ کے چار خطرناک فیچرز ہیں۔

عوامی بیانیے خلق کرنا– ایپ کی ان بلٹ آٹومیشن فیچرکی مدد سے آٹو ری ٹوئٹ یا آٹو شیئر کرنا اور ہیش ٹیگ کو اسپام  کرنا۔

غیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کی فشنگ پرائیویٹ آپریٹرز عام شہریوں کےغیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرکے اور ان کے فون نمبر کااستعمال کرکے اکثر رابطوں  میں رہےیا تمام نمبروں پر پیغامات بھیج سکتے ہیں۔

منصوبہ بند ہراسانی کے لیے عام لوگوں کے ڈیٹا بیس کا استعمال ایپ کے اسکرین شاٹس سے عام شہریوں کےایک مفصل اور بدلنے والےکلاؤڈ ڈیٹا بیس کاپتہ چلتا ہے، جس کی ان کے پیشے، مذہب، زبان، عمر، جنس، سیاسی رجحان اور یہاں تک کہ ان کی جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔

ہر ثبوت کو مٹانے کی طاقت ایپ کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتا۔ایپ آپریٹرز ایک لمحے کے نوٹس پر تمام موجودہ اکاؤنٹس کو حذف یا تبدیل کر سکتے ہیں۔یعنی وہ اپنے ماضی کی اُن تمام سرگرمیوں کوضائع  کر سکتے ہیں جس سے ان کا جرم ثابت ہو سکتا ہے۔

 دی وائر کی اس تفتیش کے  پہلے حصے کویہاں اور دوسرے حصے کو اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔