خبریں

پی ایم کے نام آئی آئی ٹی کے سابق طالبعلموں کا خط: دھرم سنسد، بُلی بائی جیسےمعاملوں  پر وزیر اعظم کی خاموشی تشویشناک

آئی آئی ٹی کے سو سے زیادہ سابق طالبعلموں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام  ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ ہم آزادی کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، لیکن ملک پر بحران کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

نئی دہلی: آئی آئی ٹی کے سابق طالبعلموں (ابنائے قدیم)نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام  ایک خط لکھا ہے، جس میں حال ہی میں سامنے آنے والے کئی سنگین مسائل پر وزیر اعظم کی خاموشی کو لے کرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اپنے خط میں انہوں نے ہری دوار کے دھرم سنسد، سلی ڈیل، بُلی بائی اور ٹیک فاگ ایپ پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

مذکورہ خط پر آئی آئی ٹی کے 1962 اور 2020 کے بیچ کے بیچوں کے سو سے زیادہ سابق طالبعلموں نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستانی آئین مساوات، بھائی چارے، انصاف اور آزادی کے اصولوں کی علامت ہے۔ آج ہم آزادی کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، لیکن ملک پر بحران کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں اور ہم انہیں دیکھنے کےسوا  کچھ نہیں کر سکتے۔

وزیر اعظم مودی کے ساتھ ساتھ سابق طالبعلموں نے اس خط کی ایک کاپی صدر رام ناتھ کووند کو بھی بھیجی ہے۔ وزیر اعظم کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ ہری دوار دھرم سنسد، جہاں مسلمانوں کے قتل عام کی بات کی گئی تھی،کےکچھ مقررین آپ کی پارٹی (بی جے پی) کے قریبی  ہیں۔ اس سلسلے میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

انہوں نے لکھا، اگرچہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے، لیکن پھر بھی ہم آپ سے، آپ کی پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس فعل کی مذمت کریں اورگنہ گاروں کے خلاف مناسب، بامعنی اور سخت قانونی کارروائی کریں۔

بیان میں سلی ڈیل اور بُلی  بائی ایپ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں کئی معروف مسلم خواتین کو شرمناک طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان طالبعلموں کا کہنا ہے کہ ،ان معاملوں میں گرفتار کیے گئے افراد کی عمر 18 سال اور 20 کے  آس پاس  ہے، جو ہمارے معاشرے میں خواتین کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت اور تعصب  کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم آپ اور آپ کی حکومت کی طرف سے انتظار کر رہے ہیں کہ آپ اس کی شدید مذمت کریں گے اور آئین پر ملک کا اعتماد بحال کریں گے۔

خط میں سوامی وویکانند اور مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندو مذہب کی خوبیوں کو شمار کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ آئی آئی ٹی کے سابق طالبعلموں کے اس خط میں مسلح افواج کے سابق سربراہوں کے خط کا بھی ذکر ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم اور صدر کے سامنے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس کے علاوہ آئی آئی ایم کے طالبعلموں اور اساتذہ کی طرف سے لکھے گئے خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ مذکورہ خط میں وزیر اعظم مودی کی متعلقہ مسائل  پر خاموشی کو لے کر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

غور طلب ہے کہ دی وائر نے  6 جنوری کو کچھ ذرائع کی مدد سے ایک خفیہ ایپ ٹیک فاگ کا پتہ لگایا تھا،جس کا استعمال حکمراں جماعت سے وابستہ افراد مصنوعی طور پر پارٹی کی مقبولیت کوبڑھانے، اس کے ناقدین کو ہراساں کرنے اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بڑے پیمانے پر عوامی رائے  کو گمراہ کرنے کے لیےکرتے ہیں۔

موٹے طور پرسمجھیں تویہ  ایپ ٹوئٹر ہیش ٹیگ کو ہائی جیک کر سکتا ہے، غیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کو کنٹرول کر سکتا ہے اور بی جے پی پر آن لائن تنقید کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کر سکتا ہے۔

وہیں، اس متنازعہ دھرم سنسد کا انعقاد اتراکھنڈ کے ہری دوار میں 17-19 دسمبر 2021 کے بیچ ہندوتوا رہنماؤں اور شدت پسندوں  کی طرف سے کیا گیا تھا، جس میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف کھلے عام نفرت بھری باتیں  کہی گئی تھیں، یہاں تک کہ ان کے قتل عام کی اپیل بھی کی  گئی تھی۔

شدت پسند ہندوتوا رہنما یتی نرسنہانند اس دھرم سنسد کے منتظمین میں سے ایک تھے۔ معاملے میں ان کی اور ایک دیگر ملزم وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی کی  گرفتاری ہوچکی  ہے۔

غور طلب ہے کہ سینکڑوں مسلم خواتین کی اجازت کے بغیر ان کی تصویروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اور انہیں ‘بُلی بائی’ایپ پر ‘نیلامی’کے لیے اپ لوڈ کر دیا گیا تھا۔

مسلمان خواتین کی  کم از کم 100 مسلم خواتین کی ڈاکٹرڈ تصویریں فحش تبصروں کے ساتھ آن لائن پوسٹ کی گئی تھیں۔

 اس معاملے میں اب تک چار گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔ چاروں ملزمین طالبعلم ہیں، اور ان کی عمر 18 سے 21 سال کے درمیان ہیں۔

اس سے پہلے، بُلی بائی کی طرح ہی پچھلے سال بھی سلی ڈیل ایپ کے ذریعے بھی تقریباً 50-80 مسلم خواتین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان خواتین نے الزام لگایا تھا کہ ایپ بنانے والے ان کی تصویروں  کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور انہیں آن لائن نیلامی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اس معاملے میں بھی ایک گرفتاری ہوئی ہے۔